عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔مصطفیٰ کمال

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز اسپتال میں جلد نئی لیبارٹری قائم کی جائے گی، جس کے بعد تمام ٹیسٹ ملک کے اندر ہی کیے جا سکیں گے، جبکہ موجودہ لیب سروسز کو بھی مزید بہتر بنایا جائے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ اب تک 70 ہزار افراد کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ کی جا چکی ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ حکومت مفت کرے گی۔وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ پمز کی نئی ایمرجنسی اور ٹراما سینٹر تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ نئی ایمرجنسی میں 11 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پمز میں اسلام آباد کا پہلا کینسر اسپتال بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جو 205 بستروں پر مشتمل ہوگا، جبکہ منصوبے پر 10 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔
بعد ازاں مصطفیٰ کمال نے پمز کے ایم سی ایچ وارڈ اور نئے ٹراما سینٹر کا دورہ بھی کیا۔سانحۂ پمز کی جگہ کو ڈی سیل کرنے کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان سے دریافت کیا کہ جگہ کب تک کھولی جائے گی، جس پر انہیں بتایا گیا کہ اس بارے میں ابھی معلوم کرنا ہوگا۔وزیرِ صحت نے تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جگہ قیامت تک سیل نہیں رہے گی، اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ اسے کب تک کھولا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے کام ہونا چاہیے۔مصطفیٰ کمال نے اے سی کے آؤٹرز کی جگہوں کے بارے میں بھی معلومات طلب کیں اور کہا کہ کام کی رفتار دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 2018ء کا کام 8 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوا، یہ صورتحال قابلِ قبول نہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مزید چار ایگزیکٹو ڈائریکٹرز آ جائیں اور اس کے بعد بھی کام مکمل نہ ہو۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ اگر ڈاکٹرز اور نرسز مریضوں کے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھیں گے تو پورا منصوبہ ضائع ہو جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عملے کے بہتر رویے کی تربیت کے لیے ایک ہفتے کے لیے بیرونی ماہرین کو بلایا جائے۔





