Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

کسی زمانے میں بلڈ پریشر کا بڑھنا عمر رسیدگی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور اسے پچاس ساٹھ برس کے بزرگوں کا عارضہ مانا جاتا تھا، مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ وہ نوجوان جنہیں معاشرے کا متحرک ترین حصہ ہونا چاہیے، اس خاموش قاتل کے نرغے میں آ رہے ہیں۔ ہسپتالوں کے شعبہ امراضِ قلب کی او پی ڈیز میں پچیس سے پینتیس برس کے جوانوں کی قطاریں ایک لمحہ فکریہ ہیں جو ہماری طرزِ زندگی، خوراک اور ذہنی رویوں پر سوالیہ نشان لگاتی ہیں۔ یہ مسئلہ اب محض ایک انفرادی بیماری نہیں رہا بلکہ تیزی سے ایک سماجی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس پر اگر بروقت سنجیدگی سے بات نہ کی گئی تو مستقبل کی نسلوں کی صحت پر ناقابلِ تلافی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس خطرناک رجحان کی وجوہات پر نگاہ دوڑائیں تو سب سے پہلی ضرب ہماری روایتی اور صحت بخش طرزِ زندگی پر لگی ہے۔ جدید دور کی سہولیات نے نوجوانوں کو جسمانی مشقت سے کوسوں دور کر دیا ہے۔ سمارٹ فونز، کمپیوٹر اسکرینوں اور دفتری کرسیوں پر گھنٹوں مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت نے جسم میں خون کی روانی کو سست کر دیا ہے۔ دوسری جانب ہماری غذائی ترجیحات زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔ گھر کا سادہ کھانا ماضی کی بات بن چکا ہے اور اس کی جگہ تلی ہوئی اشیاء، فاسٹ فوڈ، بازاری کولڈ ڈرنکس اور سوڈیم یا نمک سے بھرپور پروسیسڈ سنیکس نے لے لی ہے۔ نمک کی یہ ضرورت سے زیادہ مقدار شریانوں میں دباؤ بڑھانے کا بنیادی سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ کیریئر، معاشی غیر یقینی، بے روزگاری، امتحانات کا دباؤ اور سوشل میڈیا پر خود کو ہر لمحہ بہترین دکھانے کی نفسیاتی دوڑ نے نوجوانوں کے اعصاب کو چٹخا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دائمی ذہنی تناؤ خون میں کورٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمونز کی سطح بڑھا دیتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن تیز اور شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں۔ رات گئے تک جاگنا، نیند کی کمی اور تمباکو نوشی یا ویپنگ کا بڑھتا ہوا فیشن اس آگ پر تیل کا کام کرتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کی سب سے ہولناک بات یہ ہے کہ اسے طبی دنیا میں "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے، کیونکہ اکثر و بیشتر یہ بغیر کسی واضح دستک کے شریانوں اور دل کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ نوجوان عموماً چھوٹی موٹی علامات کو تھکاوٹ یا کام کا بوجھ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اکثر سر کے پچھلے حصے میں ہلکا یا شدید درد رہنا، آنکھوں کے آگے دھندلاہٹ چھا جانا یا سر چکرانا اس کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ بغیر کسی مشقت کے معمولی سی سیڑھیاں چڑھنے پر سانس کا پھول جانا، سینے میں بے ترتیبی یا جکڑن محسوس ہونا اور کانوں میں سیٹیاں بجنے کی آوازیں آنا ایسے اشارے ہیں جنہیں فوری طور پر سنجیدہ لینا چاہیے۔ بعض اوقات صبح بیدار ہونے پر متلی کا احساس یا ناک سے اچانک خون بہنا بھی بلڈ پریشر کی انتہائی بلند سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ ان علامات کو سردرد کی گولی کھا کر دبا دینا دراصل دل کے دورے یا فالج کو خود دعوت دینے کے مترادف ہے۔

اس خطرے سے بچاؤ اور تدارک کوئی ناممکن امر نہیں، بلکہ اس کا حل ہماری بنیادی عادات کی اصلاح میں پوشیدہ ہے۔ نوجوانوں کو سب سے پہلے اپنی سست روٹین کو جھٹکنا ہوگا اور روزمرہ زندگی میں کم از کم تیس سے چالیس منٹ کی تیز چہل قدمی، جوگنگ یا کسی بھی قسم کی ورزشی سرگرمی کو لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ خوراک میں نمک کی مقدار کو فوری طور پر کم کرنا ناگزیر ہے؛ کھانوں میں اوپر سے نمک چھڑکنے کا رواج اور ڈبہ بند اشیاء کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ اپنی پلیٹ کو قدرتی اجناس، ہری سبزیوں، دالوں اور تازہ پھلوں سے بھرنا شریانوں کی لچک کو بحال رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں جیسے کیلا، ناریل پانی اور خشک میوہ جات قدرتی طور پر خون کے دباؤ کو قابو میں رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ نیند کے اوقات کو باقاعدہ بنانا اور رات کو گیجٹس کو خود سے دور رکھنا دماغ کو وہ سکون فراہم کرتا ہے جس کا اثر براہِ راست دل کی صحت پر پڑتا ہے۔ ذہنی دباؤ کے انتظام کے لیے یوگا، گہرے سانس لینے کی مشقیں اور چند لمحے خاموشی کے ساتھ گزارنا کارگر تدابیر ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بیس بائیس سال کی عمر کے بعد ہر نوجوان کو سال میں کم از کم دو سے تین بار اپنا بلڈ پریشر ضرور چیک کروانا چاہیے تاکہ کسی بھی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو بروقت پکڑا جا سکے۔ صحت مند رہنے کا تعلق صرف بیماری سے بچنے سے نہیں بلکہ ایک متوازن اور پرسکون زندگی گزارنے سے ہے، اور اگر آج کے نوجوان نے اپنی صحت کے تئیں اس غفلت کو دور نہ کیا تو ترقی کی ساری دوڑ ادھوری رہ جائے گی۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL