ہم انسان ہیں اور انسان خطا و قصور کا پیکر ہے۔ اپنی فطرت کے باعث یہ لغزش و فعلِ ممنوعہ کا مرتکب ہوتا رہتا ہے۔ بشریت کے ناتے سرکشی ہماری جبلت میں شامل ہے۔ نفس کے بہکاوے اور شیطان کے چنگل میں پھنس کر معصیت کی وادیوں میں بھٹک جانا ہمارے رگ و ریشے میں پایا جاتا ہے۔ بھلا کون ایسا انسان ہو گا جس کے دامن پر گناہوں کے سیاہ دھبے موجود نہ ہوں؟ کون ہو گا ایسا شخص جس کے ہاتھوں پہ خطا کا نشان ثبت نہ ہو؟ کون ہے وہ آدمی جس کے پیروں میں بھول پن کا کانٹا نہیں چبھا؟ تاریخ انسانی اس بات پر شاہد ہے کہ لغزش و نافرمانی انسان کی عادت اور توبہ و استغفار اس کا شرف ہے۔ گناہوں کا ہو جانا انسان سے بعید نہیں بل کہ اس پر اصرار اور ندامت سے محرومی یقینا ہلاکت کا سبب ہے۔ یہی وجہ ہے رحمت الہی نے بندہ مومن کے لیے رجوع و انابت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے تاکہ وہ اس عظیم بارگاہ میں اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے جھک جائے اور اپنے باطن کو تمام آلائشوں سے پاک کر سکے۔
اگر کسی سے افعالِ رذیلہ کا ارتکاب ہو جائے تو اسے چاہیے کہ اس کی تلافی کے لیے اللہ کے حضور توبہ کرے... سچی توبہ۔ سنت و شریعت میں اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے اور قرآن و حدیث میں امت مسلمہ کو توبۃالنصوح کی جانب خوب توجہ دلائی گئی ہے۔ جیسا کہ سورۃ التحریم کی آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے:-
* ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم اللہ کے آگے سچی توبہ کرو، اُمید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی... جس دن کہ اللہ تعالیٰ نبی کو اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے دوڑتا ہوگا، یوں دعا کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارے اس نور کو اخیر تک رکھیے اور ہماری مغفرت فرما دیجیے، آپ ہر شئے پر قادر ہیں۔‘‘
جب کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ سورۃ النور میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:-
* ترجمہ: ”اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تمھیں فلاح نصیب ہو۔‘‘
سورۃ الشوریٰ میں کچھ یوں ترغیب دی گئی ہے:-
* ترجمہ: ”اور وہی ہے جو اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اس کا پورا علم رکھتا ہے۔‘‘
احادیث نبویہ میں بھی توبہ واستغفار اور رجوع الی اللہ کی تعلیم دی گئی ہے۔ جیسا کہ مسلم شریف کی یہ روایت ہے:-
• ترجمہ: ’’اگر تم گناہ کا ارتکاب نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا فرمائیں گے جو گناہ کا ارتکاب کرے گی، (پھر توبہ کرے گی اور) اللہ تعالیٰ انھیں معاف کردیں گے۔‘‘
جب کہ سنن ابنِ ماجہ میں کچھ اس طرح سے وارد ہوا ہے:-
* ترجمہ: ”گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔‘‘
تعلیمات پیغمبر صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم سے ہمیں صرف توبہ ہی نہیں بل کہ کثرتِ توبہ کی ترغیب ملتی ہے۔ بخاری شریف میں ہے:-
* ترجمہ: ”خدا کی قسم! میں ایک دن میں ستر بار سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے سامنے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہمیں بھی اللہ کے حضور کثرت سے اور سچی توبہ کرنی چاہیے۔ سچی توبہ (توبۃالنصوح) وہ توبہ ہے جس میں... ”پچھلے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے اور آئندہ سے وہ گناہ چھوڑنے کا پختہ عزم کیا جائے۔ سابقہ نادانیوں پر ندامت ہو اور کامل یقین کے ساتھ انابت الی اللہ اختیار کی جائے۔ فرائض و واجبات کی قضا کرے اور اگر معاملہ حقوق العباد کے متعلق ہو تو ان کی بھی ادائیگی کی جائے یا کسی طرح انھیں معاف کروا لے۔ گناہوں کو گناہ سمجھ کر چھوڑا جائے نہ کہ اس وجہ سے کہ ان میں کسی خوف و خطرے کا اندیشہ ہو۔“
چناں چہ علامہ آلوسی رحمہ اللہ... روح المعانی میں فرماتے ہیں:
”بندہ اپنے گناہوں سے باز آجائے اور اپنے کیے ہوئے پر نادم و پشیماں ہو اور گناہ سے یہ توبہ اس وجہ سے ہو کہ وہ گناہ ہے؛ اس لیے نہ ہو کہ اس میں کوئی جانی و مالی نقصان ہے اور یہ عزم و ارادہ کرے کہ حتی المقدور دوبارہ یہ گناہ نہیں کرے گا۔‘‘
متذکرہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ، ملت اسلامیہ کے حق میں توبہ کی اہمیت و افادیت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے جب بندے سے گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کر لینی چاہیے۔ توبہ کی امید پر گناہوں پر مصر نہیں رہنا چاہیے اور کثرتِ عصیاں کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے نا امید بھی نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ... ”توبہ خاتمہ بالخیر کا مؤجب اور دل کا نور ہے۔ توبہ غلاظتِ قلب کو صاف کرتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اللہ سے صلح کر کے اس کے قرب کو حاصل کرتا ہے۔“
چناں چہ امام ابن القیم علیہ رحمہ مدارج السالکین میں فرماتے ہیں:
” توبہ انسان کی پہلی، درمیانی اور آخری منزل ہے۔ بندہِ سالک اسے کبھی اپنے سے جدا نہیں کرتا، مدت تک توبہ اور رجوع کی حالت میں رہتا ہے۔ اگر ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف سفر اختیار کرتا ہے تو توبہ اس کی رفیق ہوتی ہے جہا ں وہ جائے، پس! توبہ بندے کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی، بل کہ ابتدا کی طرح موت کے وقت اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔“
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی لغزشوں پر نادم ہو کر دن اور رات میں کثرت سے توبہ کرے۔ الله کی بارگاہ میں گڑگڑا کر معافی مانگے اور اپنی توبہ پر قائم رہنے کا عزم کرے۔ باقی ماندہ زندگی رجوع اور انابت میں گزارے تاکہ نفس کی سرکشی ختم ہو اور شیطان کے حربوں سے بچ کر نفس مطمئنہ حاصل کر سکے اور ابدی کامیابی سمیٹ سکے۔
ختم شد!






