کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، آخر خوابوں کی بھی کوئی عمر ہوتی ہے؟ کیا انسان ایک خاص عمر کے بعد خواب دیکھنا چھوڑ دے؟ کیا زندگی کے کسی موڑ پر پہنچ کر اسے یہ مان لینا چاہیے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے؟
ہم نے نہ جانے کب عمر کو زندگی کے ہر فیصلے کا پیمانہ بنا لیا۔ کیا پہننا ہے، کون سا رنگ اچھا لگے گا، کس انداز میں رہنا ہے، کیا سیکھنا ہے، کیا بننا ہے—ہر چیز کے ساتھ ایک عمر جوڑ دی۔ یہاں تک کہ خواب بھی عمر کے خانوں میں بانٹ دیے۔
کبھی کسی عورت کو شوخ رنگ پہنتے دیکھ کر کہا جاتا ہے کہ "اس عمر میں یہ رنگ؟" کبھی کوئی عورت اپنی پسند کی ہیل پہن لے تو لوگ عمر یاد دلا دیتے ہیں۔ مرد اگر عمر کے کسی مرحلے پر بھی ذرا مختلف یا اسٹائلش نظر آنے کی کوشش کرے تو اسے بھی "بچہ بننے" کا طعنہ مل جاتا ہے۔ یوں ہم اپنی پسند سے زیادہ لوگوں کی رائے کے اسیر ہو جاتے ہیں۔
مگر کیا زندگی واقعی اتنی مختصر ہے کہ ہم دوسروں کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق جئیں؟
دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ کرنل ہارلینڈ سینڈرز نے اپنی زندگی کے نسبتاً آخری حصے میں KFC کے فرنچائز سفر کو وسعت دی؛ KFC کی اپنی تاریخ کے مطابق 1952 میں پہلی فرنچائز شروع ہوئی اور 65 برس کی عمر کے بعد انہوں نے فرنچائزنگ پر پوری توجہ دی۔
اسی طرح ایڈتھ ولما کونر نے ساٹھ کی دہائی کے آخر میں فٹنس کی طرف قدم بڑھایا اور بعد میں Guinness World Records کے مطابق 75 سال کی عمر میں سب سے معمر مسابقتی خاتون باڈی بلڈر کا ریکارڈ قائم کیا۔
یہ لوگ شاید ہمیں یہ نہیں سکھاتے کہ ہر شخص کو لازماً کوئی عالمی ریکارڈ بنانا ہے؛ وہ صرف یہ یاد دلاتے ہیں کہ زندگی میں دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوئی آخری تاریخ نہیں ہوتی۔
میں خود بھی بچپن سے لکھنے کا شوق رکھتی تھی۔ کم عمری میں اخبارات کے لیے لکھا، تحریریں بھیجیں، کبھی چھپیں، کبھی رد ہوئیں، کبھی یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ تحریر کہاں گئی۔ اس وقت نہ آج جیسی سہولتیں تھیں، نہ سوشل میڈیا کا یہ وسیع میدان۔ لیکن قلم کے ساتھ تعلق کبھی ختم نہیں ہوا۔
آج اگر میں یہ سوچ لیتی کہ اب میری عمر نہیں رہی، اب مجھے نہیں لکھنا چاہیے، اب میں اس دور کا حصہ نہیں بن سکتی، تو شاید میرے بہت سے خواب میرے ساتھ ہی دفن ہو جاتے۔
میرا ماننا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف طبیعت، مختلف پسند اور مختلف صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی کی پسند کم عمری میں ہی سادہ اور سنجیدہ ہو سکتی ہے اور کوئی عمر کے آخری حصے تک رنگوں، کتابوں، فن، سفر یا کسی نئے شوق سے محبت کر سکتا ہے۔ جب تک انتخاب جائز، باوقار اور کسی کے حق کو متاثر کرنے والا نہ ہو، ہمیں دوسروں کی زندگی پر عمر کا لیبل لگانے کی ضرورت نہیں۔
ہمیں صرف یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اپنی زندگی جئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں۔
کیونکہ حقیقت شاید اتنی سی ہے:
جب تک سانس ہے، تب تک زندگی ہے…
اور جب تک زندگی ہے، خوابوں کی کوئی عمر نہیں۔
انعم عباسی، کراچی






