جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نیتن یاہو کا ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوج اور موساد کو کارروائی کا حکم

مصنف:

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف)، خفیہ ایجنسی موساد اور دیگر سکیورٹی اداروں کو ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دے دی۔


یہ بات نیتن یاہو نے بدھ کو اسرائیلی فوج کے افسران کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا واحد راستہ ایرانی حکومت کا خاتمہ ہے۔نیتن یاہو نے کہا کہ جب تک ایران میں موجودہ حکومت قائم ہے اور وہ تباہ کن ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہے گی، اسرائیل کو اپنے وجود کے لیے خطرہ درپیش رہے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل کی ذمہ داری اپنی قوم کو اس خطرے سے محفوظ رکھنا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ آپریشن رائزنگ لائن کے بعد ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کردیا تھا اور اسے پہاڑ کے اندر گہرائی میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اس کے بعد اسرائیل اور امریکا نے مشترکہ آپریشن ’’رورنگ لائن‘‘ شروع کیا، جس کے ابتدائی حملے میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای مارے گئے۔


نیتن یاہو نے ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پر بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دوبارہ جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ بھی ایرانی حکومت کے خاتمے کے حامی ہیں، تاہم یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کی قیادت کے ساتھ حماس اور حزب اللہ کو بھی ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لبنان، غزہ اور ایران میں بہت سے لوگ اسرائیل کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔


دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت اس وقت اپنی کمزور ترین پوزیشن میں ہے اور اس صورت حال میں وہ اسرائیل کے خلاف انتہائی اقدامات کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کی کوششوں کو ناکام بنانے اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔


ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا گیا۔ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات بھی دیے۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ بات چیت محدود پیمانے پر جاری ہے، تاہم بعد میں کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کررہا اور صورت حال کا فیصلہ جلد کسی نہ کسی صورت میں ہوجائے گا۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ آئندہ پیش رفت اسرائیلی انتخابات کے بعد بھی ہوسکتی ہے