ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں عمارتیں بلند ہو رہی ہیں، بازار روشن ہیں، سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم ہے، سوشل میڈیا پر محبت، اخلاقیات اور انسانیت کے درس دیے جا رہے ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک سوال مسلسل ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے کہ اگر معاشرہ زندہ ہے تو انسانیت کہاں ہے؟
یہ کیسا دور ہے جہاں انسان کی قیمت اس کے کردار سے نہیں، اس کی دولت، عہدے اور تعلقات سے لگائی جاتی ہے؟ جہاں کسی غریب کی آہ سننے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں، لیکن کسی بااثر شخصیت کی ایک آواز پر پورا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ جہاں مظلوم انصاف کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے اور طاقتور اپنے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر قانون کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں، غربت وہ بے بسی بھی ہے جب ایک باپ اپنے بچوں کی بھوک دیکھ کر خاموش ہو جائے، جب ایک ماں اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو، جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں اپنی عمر گزار دے اور جب ایک سفید پوش انسان اپنی عزت بچانے کے لیے اپنے دکھ کسی سے بیان نہ کر سکے۔
یہ وہ خاموش چیخیں ہیں جو ہمارے معاشرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی ہیں۔ ان چیخوں کو سننے کے لیے کان نہیں، زندہ ضمیر درکار ہے۔
افسوس کہ ہم نے انسانیت کو بھی مفادات کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ کسی کی مدد کرنے سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا۔ کسی کی تکلیف پر ہمارا دل تب پسیجتا ہے جب اس کا تعلق ہمارے خاندان، حلقے یا مفاد سے ہو۔ ورنہ دوسروں کا دکھ ہمارے لیے محض ایک خبر، چند لمحوں کی گفتگو یا سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار بن کر رہ جاتا ہے۔
ہم جنازوں پر تعزیت کرتے ہیں، حادثات پر افسوس لکھتے ہیں، غریبوں کے حق میں تقریریں کرتے ہیں اور انصاف کے نعرے لگاتے ہیں، مگر جب کسی مظلوم کو واقعی ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو اکثر ہم نظریں چرا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا چند الفاظ کسی بھوکے کا پیٹ بھر سکتے ہیں؟ کیا سوشل میڈیا کی پوسٹ کسی یتیم کے آنسو پونچھ سکتی ہے؟ کیا تقریروں سے کسی بے روزگار گھرانے کا چولہا جل سکتا ہے؟
انسانیت نعروں سے نہیں، عملی اقدامات سے زندہ رہتی ہے۔
معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ یہاں غربت موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے دوسروں کی غربت کو معمول سمجھ لیا ہے۔ کسی بچے کا بھوکا سونا ہمیں پریشان نہیں کرتا، کسی بوڑھے کا تنہا بیٹھنا ہمیں نہیں رلاتا اور کسی مظلوم کی فریاد ہماری مصروف زندگی میں جگہ نہیں بنا پاتی۔ ہم اپنی کامیابیوں کے جشن میں اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ دوسروں کی محرومیوں کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔
لیکن یاد رکھیے، معاشروں کی تباہی ہمیشہ عمارتوں کے گرنے سے نہیں ہوتی؛ کبھی ضمیر مر جائیں تو مضبوط ترین عمارتوں کے درمیان بھی انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر جھانکیں۔ اپنے رویوں کا محاسبہ کریں، اپنے اختیار کو کمزوروں کی مدد کے لیے استعمال کریں اور اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کی تعلیم بھی دیں۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی مجبور کا سہارا بننا، کسی مظلوم کی آواز اٹھانا اور کسی ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا ہی وہ اعمال ہیں جو معاشرے کو حقیقی معنوں میں زندہ رکھتے ہیں۔
میرا سوال آج ہر صاحبِ اختیار، ہر صاحبِ ثروت اور ہر صاحبِ ضمیر سے ہے: اگر ہمارے آس پاس انسان بھوک، خوف، ناانصافی اور بے بسی میں زندگی گزار رہے ہیں تو ہماری ترقی کس کام کی؟
معاشرہ صرف انسانوں کے ہجوم سے نہیں بنتا، معاشرہ احساس، ہمدردی، انصاف اور قربانی سے بنتا ہے۔
آئیے! اس سے پہلے کہ انسانیت ہمارے معاشرے کی تاریخ کا محض ایک لفظ بن جائے، ہم اپنے اندر کے انسان کو زندہ کریں۔ کیونکہ جس دن انسان کو دوسرے انسان کے دکھ سے کوئی فرق پڑنا بند ہو گیا، اس دن معاشرہ بظاہر زندہ ہونے کے باوجود اندر سے مر جائے گا۔






