بارش اُس دن بھی یونہی برسی تھی، جیسے کسی بے زبان کی آنکھیں برس رہی ہوں۔ کچی گلیوں میں پانی کی موہوم سی ندی بہہ نکلی تھی، اور در و دیوار پر تنہائی کے کائی زدہ نشان اور گہرے ہو چکے تھے۔ گاؤں کے کونے میں ایک پرانا، شکستہ سا گھر تھا، جس کی ایک دیوار زینب کے حصے میں آئی تھی اور دوسری کنیزاں بی بی کے۔
دیوار تو اینٹوں کی تھی، مگر اصل تقسیم ان کے دلوں میں پیدا ہو چکی تھی، جو برسوں سے پکتی آ رہی تھی، گرم تنور کی مانند، سلگتی ہوئی، بے نام سی ضد، انا، وراثت اور وقت کے ہاتھوں بگڑی ہوئی نفرت۔
زینب بی بی کے بال سفید ہو چکے تھے، لیکن ان کی آنکھوں کی نمی اب بھی سیاہ تھی، جیسے کوئی پرانی تصویر جو دھندلی ہو چکی ہو، مگر اس میں چھپا دکھ اب بھی نمایاں ہو۔ ان کی جھریوں میں ایک کہانی بند تھی۔ شریکے کی وہ کہانی، جو صرف زمین کے کاغذ پر نہیں، بلکہ سانسوں کے حساب پر تقسیم ہوئی تھی۔ ان کا دل چاہتا تھا کہ کسی دن دیوار گر جائے، دراڑ مٹ جائے، اور پرانی چوکھٹ پر وہی قہقہے گونجیں جو کبھی کنیزاں بی بی کے ساتھ مشترک دوپہر کی ہنسی میں شامل تھے۔
کنیزاں بھی کم دکھی نہ تھی۔ اس کی زبان میں کڑواہٹ تو تھی، مگر اس کا سچ کوئی نہیں سن پایا تھا۔ وہ جو ہر رات چھپ کر اپنے مرحوم شوہر کی تصویر سے باتیں کرتی تھی، وہی شوہر جس کی وصیت کی غلط تاویل نے سب کچھ اجاڑ دیا تھا۔ اُس نے اپنی بہن جیسی جٹھانی کو کبھی خود سے جدا نہیں سمجھا تھا، مگر جب گاؤں کی پنچائیت کے سامنے زینب نے جائیداد میں برابری کا مطالبہ کیا تھا تو جیسے سب کچھ ہی ٹوٹ گیا تھا۔ شاید اعتبار، شاید محبت، یا شاید وہ خاموشی جو سب کچھ سمیٹ لیتی تھی۔
ان کے بیچ نوید اور افضل تھے۔ کنیزاں کا بیٹا افضل اور زینب کا بیٹا نوید۔ دونوں بچپن میں ایک ہی پگڈنڈی پر کھیلتے تھے، ایک ہی درخت پر چڑھتے تھے، مگر اب آنکھ ملانے سے بھی ہچکچاتے تھے۔ ان کے بیچ زمیندار کی بنائی ہوئی لکیر حائل تھی، جو اب صرف کاغذی نہیں رہی تھی، بلکہ ان کی روح میں اتر گئی تھی۔ وہ لکیر جب فصل کی بٹائی ہوتی، تو خنجر بن جاتی۔ جب کسی شادی کا دعوت نامہ ایک آنگن میں جاتا اور دوسرے میں نہیں، تو وہ زخم بن جاتی۔
لیکن اصل کہانی تو فائزہ اور حمزہ کی تھی۔ فائزہ، نوید کی بیٹی، وہی بچی جو بچپن میں حمزہ کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلتی تھی، اور جب کبھی حمزہ لڑ جاتا، تو وہ اس کے لیے گڑ کی ٹکیا لے آتی۔ وقت کے ساتھ دونوں بڑے ہو گئے، اور ان کے بیچ ایک بے آواز محبت نے آنکھ کھولی تھی وہ محبت جو لفظوں میں نہیں، نظروں میں رہتی ہے۔ جو کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر خاموشی سے کتاب پڑھنے کی صورت میں ساتھ نبھاتی ہے۔ مگر اس محبت کے راستے میں شریکے کی دیوار کھڑی تھی، وہی پرانی، کچی اینٹوں والی دیوار، جو برسوں سے نہ گری تھی، اور شاید اب گرنے کا ارادہ بھی نہ رکھتی تھی۔
کئی بار فائزہ نے اپنی دادی سے سوال کیا، "اماں جی، زمین اتنی قیمتی کیوں ہے، کہ ہم اپنے لوگ کھو دیں؟"
زینب نے صرف ایک آہ بھری، اور کہا، "بیٹی، زمین نہیں، اپنی انا کا پچھتاوا مہنگا ہوتا ہے۔"
حمزہ جب رات کو اپنے دادا کی پرانی ڈائری پڑھتا، تو اسے وہ دن یاد آتے جب سب مل کر حویلی کے صحن میں بیٹھتے تھے۔ دودھ پتی بنتی تھی، اور کنیزاں بی بی اور زینب ہنستے ہوئے کپڑے سکھاتیں تھیں۔ تب کوئی شریکا نہیں تھا، صرف ایک گھر تھا، جس میں دو بہنوں جیسا پیار تھا۔
زندگی نے ان سب کو اپنے اپنے زاویوں میں بند کر دیا تھا۔ ہر ایک کے پاس دلیل تھی، دکھ تھا، اور ایک خاموش فریاد۔ مگر کوئی پہل کرنے کو تیار نہ تھا۔ شریکے کی جنگ میں سب تھک چکے تھے، مگر صلح کی جرأت کسی میں نہ تھی۔
پھر ایک دن، اچانک زینب بی بی کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ گاؤں کا واحد ڈاکٹر دیر سے پہنچا، اور موت نے وقت سے پہلے اس کا آنچل چھین لیا تھا۔ لیکن جاتے جاتے، زینب ایک خط چھوڑ گئی۔ وہ خط، جو تکیے کے نیچے چھپا تھا، جو نوید نے جنازے کے بعد پڑھا۔
"افضل، کنیزاں، فائزہ، حمزہ، میں تم سب سے معافی چاہتی ہوں۔ میں اپنی ضد میں سب کچھ کھو بیٹھی۔ میری زندگی میں جو سب سے قیمتی چیز تھی، وہ تم سب تھے۔ وہ رشتے، جنہیں میں نے ایک کاغذی ٹکڑے کے بدلے قربان کر دیا۔ اگر میری موت سے کچھ بدلا جا سکتا ہے، تو اس دیوار کو گرا دینا۔ اس صحن کو پھر سے ایک کر دینا۔ شاید میری روح کو قرار آ جائے۔"
وہ خط آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔ نوید اور افضل ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔ گاؤں والوں نے حیرت سے دیکھا جب اگلی صبح صحن کی دیوار گرائی جا رہی تھی۔ کچی اینٹوں کی وہ رکاوٹ، جو برسوں سے سرحد بنی کھڑی تھی، آج ایک پل بننے جا رہی تھی۔
فائزہ اور حمزہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ محبت کے چہرے پر آنسو بھی خوبصورتی ہوتے ہیں، اور اس دن وہ دونوں خوبصورت ترین لگ رہے تھے۔ وہ دیوار گر گئی تھی، مگر اس کے ساتھ ایک صدی پرانا دکھ بھی دفن ہو چکا تھا۔
گاؤں کی پرانی گلیوں میں ایک نئی ہوا چلنے لگی تھی۔ اور کہیں دور، بادل پھر سے برسنے لگے تھے، مگر اس بار، آنکھوں میں درد نہیں، دعا تھی۔
مزید پڑھیں






