فقط اتنا کہوں گا باغی زندہ باد
نہیں کچھ بھی سنوں گا باغی زندہ باد
یہی فن کو نئی پہچان دیتا ہے
اسی کا نام لوں گا باغی زندہ باد
جہاں تک روشنی ہے بس قلم کی یار
وہاں تک نعرہ دوں گا باغی زندہ باد
قلم کا سر نہیں جھکنے دیا جس نے
اسی کا دم بھروں گا باغی زندہ باد
یہاں اہلِ قلم کی قدر ہوتی ہے
یہاں ہی میں رہوں گا باغی زندہ باد
یہ لفظوں سے ستاروں کو سنوارے ہے
اسی کو میں چنوں گا باغی زندہ باد
مبشر بھائی ہیں حمزہ نہیں کچھ غم
یہ اک پیغام دوں گا باغی زندہ باد
مزید پڑھیں





