جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قلم کی حرمت اور لکھاری کا کردار،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

قلم محض سیاہی سے کاغذ پر نقش ابھارنے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ فکر کی روشنی، شعور کی بیداری اور معاشرتی اصلاح کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ الفاظ نے قوموں کی تقدیر بدلی، ذہنوں کے دریچے کھولے اور خاموش معاشروں کو آواز عطا کی ہے۔ قلم کی طاقت تلوار سے مختلف ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لکھاری پر محض خوب صورت الفاظ تخلیق کرنے کی نہیں ہے۔ بلکہ سچائی، دیانت داری اور اخلاقی اقدار کی پاس داری کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اسلام نے قلم کو غیر معمولی اہمیت عطا کی ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ القلم کا آغاز ہی قلم کی قسم سے ہوتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: "قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ وہ لکھتے ہیں۔" (القلم: 1)

یہ آیت قلم کی عظمت اور تحریر کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ اسی طرح سورۃ العلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: "جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔"

(العلق: 4)

ان قرآنی آیات سے واضح ہوتا ہے کہ قلم علم کی ترسیل، شعور کی ترقی اور انسانی فکر کی تعمیر کا اہم وسیلہ ہے۔ تاہم قلم کی حقیقی عظمت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے، جب اسے حق اور سچائی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر یہی قلم جھوٹ، بہتان، نفرت اور کردار کشی کا ذریعہ بن جائے تو اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ لکھاری کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے، جب اسے کسی بااثر شخصیت کے خلاف سچ لکھنا ہو۔ کسی مظلوم کی آواز بننا ہو یا اپنے پسندیدہ شخص کی غلطی کی نشان دہی کرنی ہو۔ ایسے مواقع پر ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حق کا ساتھ دینا ہی قلم کی حرمت کا تقاضا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ: "سیدھی اور درست بات کہو۔" (الاحزاب: 70) اگرچہ اس آیت میں قول کی ہدایت دی گئی ہے، لیکن اس کا اخلاقی اصول تحریر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ لکھاری کے الفاظ سچائی کے پابند اور اس کا نقطۂ نظر انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔ محض شہرت حاصل کرنے، قارئین کی توجہ سمیٹنے یا کسی کی دل آزاری کرنے کے لیے، حقیقت کو مسخ کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: "جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔" (صحیح بخاری: 6018، صحیح مسلم: 47)

اس فرمان کی روشنی میں لکھاری کو بھی اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہیے۔ ہر تحریر سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے، کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ آیا وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے گی یا نفرت اور انتشار کو فروغ دے گی۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے اظہارِ خیال کے مواقع وسیع کر دیے ہیں۔ اب ایک تحریر چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ سہولت جہاں علم و ادب کے فروغ کا ذریعہ ہے۔ وہیں غیر مصدقہ خبروں، الزام تراشی اور منفی پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ قرآن مجید سورۃ الحجرات میں خبر کی تحقیق کرنے کی ہدایت دیتا ہے تاکہ لاعلمی میں کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ (الحجرات: 6)

لہٰذا لکھاری کی ذمہ داری ہے، کہ وہ کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کرے۔ اور کسی کی عزت کو اپنی تحریر کی قیمت ہرگز نہ بنائے۔

ایک باشعور لکھاری معاشرے کی خامیوں سے آنکھیں بند نہیں کرتا۔ وہ غربت، ناانصافی، مہنگائی، معاشرتی استحصال اور اخلاقی زوال جیسے مسائل کو اجاگر کرتا ہے، لیکن اس کا مقصد محض تنقید نہیں بلکہ اصلاح ہوتا ہے۔ اس کی تحریر میں درد بھی ہوتا ہے اور حل کی جستجو بھی۔ وہ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں سمجھتا، مخالف کی تضحیک کے بجائے دلیل سے بات کرتا ہے اور مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کے چراغ روشن کرتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے، جو ایک عام لکھنے والے کو ذمہ دار قلم کار بناتا ہے۔ افسوس کہ بعض اوقات ادبی حلقوں میں بھی گروہ بندی، ذاتی پسند و ناپسند اور ایک دوسرے کی تحریروں کو نظرانداز کرنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ ادب کو ذاتی مفادات سے بلند رکھا جائے۔ حقیقی ادبی خدمت دوسروں کی حوصلہ افزائی، تعمیری تنقید اور علمی دیانت میں پوشیدہ ہے۔ کسی کی صلاحیت تسلیم کرنے سے اپنی اہمیت کم نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ ادبی ماحول مزید مضبوط ہوتا ہے۔

بالآخر قلم کی حرمت کا تعلق لکھاری کے کردار سے ہے۔ خوب صورت الفاظ قارئین کو متاثر کر سکتے ہیں مگر سچی تحریر ہی دلوں میں جگہ بناتی ہے۔ ہمیں اپنے قلم کو نفرت کے بجائے محبت، جھوٹ کے بجائے سچ اور مایوسی کے بجائے امید کا ترجمان بنانا ہوگا۔ قلم ایک امانت، لفظ ایک ذمہ داری اور تحریر ایک گواہی ہے۔ اگر لکھاری اس امانت کا حق ادا کرے، تو اس کی تحریر محض کاغذ پر درج الفاظ نہیں رہتی ہے۔ بلکہ معاشرے کی اصلاح اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی قلم کی حرمت اور لکھاری کے کردار کی اصل پہچان ہے۔