غزل، عشقِ ناکام آزردگی رات دن ،شاعر:صفدر بھٹی
نقطہ نظر
مصنف:
غزل
عشقِ ناکام آزردگی رات دن
کیا بتاؤں کہ کیسے کٹی رات دن
قلبِ مضطر تری بے کلی کے سبب
"کشمکش میں رہی زندگی رات دن"
اب تو عرصہ ہوا چشمِ ویران کو
دیکھے گل گلستاں وہ کلی رات دن
اب کوئی یاد پاؤں کو زنجیر ہے
اور نہ سرکش فسردہ دلی رات دن
ہم ہیں آزاد فطرت کسی شخص کی
ہم سے ہوتی نہیں بندگی رات دن
وائے دنیا جو اک عارضی کھیل ہے
اس کے پیچھے پڑا آدمی رات دن
جن دنوں عشق فرماتے صفدر میاں
رقص کرتی زبس شاعری رات دن
مزید پڑھیں





