ازدواجی زندگی کے تحفظ کے لئے آداب معاشرت ، تحریر: صغیرجعفری
نقطہ نظر
اللہ تعالٰی نے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات و مصائب کے حل کے لئے مکمل راہنمائی اور ہدایت عطا فرمائی ہے یہ ہماری صوابدید پر ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا کی گئی راہنمائی و ہدایت سے کس طرح اور کس قدر استفادہ کرتے ہیں
آئیں قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں ہم یہ آداب معاشرت سیکھتے ہیں
سورة المجادلہ ایک ایسی سورة ہے جس کے دلفریب اور مؤثر مناظر انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے بندہ خود ان تمام واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو اور اپنے کانوں سے سن رہا ہو۔ اس میں کئی تفصیلی مناظر پر مشتمل ایک پوری داستان ہے، اور اس کا ہر پہلو اور جزئیات انسان پر معانی کے نئے باب وا کرتی ہے جیسے گھر کی ازدواجی زندگی میں اختلاف، گلہ و شکوہ، تسلی و تسکین، اور مجلس کے آداب۔
آئیے اس معزز خاتون کا واقعہ بیان کرتے ہیں جن کے نام پر یہ سورة منسوب ہوئی، اور پھر ان آداب و اخلاقیات پر بات آگے بڑھاتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں سکھائے۔
اس داستان کی شروعات حضرت خولہ بنت ثعلبہ اور ان کے شوہر سے جو ان کے چچا زاد بھی تھے حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہما کے گھر سے ہوتی ہے۔ اوس بن صامت عمر رسیدہ تھے اور ان کی مزاج میں شدید غصہ اور تیزی تھی۔
ایک دن اوس اپنی زوجہ خولہ کے پاس آئے جب کہ وہ نماز پڑھنے کی تیاری کر رہی تھیں، اور انہوں نے خولہ سے کچھ کھانے کو مانگا، مگر انہوں نے کہا میری نماز مکمل ہونے تک انتظار کر لیں ۔ بڑی عمر کی وجہ سے وہ اپنے غصے پر قابو نہ پاسکے اور شدید غضبناک ہو گئے غصے کے عالم میں وہ جملہ کہہ بیٹھے جو دورِ جاہلیت کا سب سے سخت اور سنگین جملہ سمجھا جاتا تھا: "تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہے۔" دورِ جاہلیت کی اس رسم کو "ظہار" کہا جاتا تھا
اس کا مطلب یہ تھا کہ شوہر اپنی بیوی کو اپنے اوپر اپنی ماں کی طرح حرام کر لیتا تھا، اور یہ خاتونِ خانہ کے لیے ایک بہت بڑا بحران بن جاتا تھا۔
یعنی وہ باضابطہ طلاق دیے بغیر ہی اپنی بیوی کو محروم کر دیتا تھا! عورت اسی کے ساتھ رہتی تھی، لیکن نہ تو اسے بیوی کے حقوق ملتے تھے اور نہ ہی وہ مطلِقہ ہوتی تھی کہ دوسرے شخص سے نکاح کر سکے… اس کی زندگی مکمل طور پر معلق ہو کر رہ جاتی تھی
جب اوس کا غصہ ٹھنڈا ہوا، تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اندازہ ہوا کہ انہوں نے اپنا ہی بستا ہوا گھر اجاڑ دیا ہے۔ انہوں نے خولہ سے کہا: "میرے خیال میں تو اب مجھ پر حرام ہو چکی ہے، یعنی ہم اب کبھی دوبارہ ایک نہیں ہو سکتے
لیکن خولہ نے ہمت نہ ہاری… انہوں نے فوراً اپنی چادر اوڑھی اور بلا تاخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دربارِ اقدس کی طرف نکل پڑیں۔
وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے بیٹھیں اور اپنا پورا ماجرا سنایا۔ اس کے ساتھ گزاری ہوئی سالہا سال کی زندگی، اپنے بچوں، اور اپنے ٹوٹتے ہوئے گھر کے خوف کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو دل کو چھو لیتا ہے:
"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ والسلم میں نے اپنا مال اس پر نچھاور کر دیا، اپنی جوانی اس کے نام کر دی، اور اپنا دل اس کے حوالے کر دیا، جب میں بوڑھی ہو گئی اور میری اولاد بڑی ہوئی، تو اوس نے مجھے اس طرح ٹھکرا دیا!"
یعنی میں نے اپنی زندگی کے بہترین سال، جوانی اور مال و دولت اس کے ساتھ گزارے، اسے اولاد دی… اور جب میں بوڑھی ہو گئی، تو اوس نے مجھے یہ سخت لفظ کہہ کر اپنے اوپر حرام کر لیا!
ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے، چنانچہ انہوں نے اپنا درد یوں بیان کیا:
"اگر میں اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھتی ہوں تو وہ بھوکے مر جائیں گے، اور اگر میں انہیں ان کے والد کے پاس چھوڑتی ہوں تو وہ برباد ہو جائیں گے۔"
یعنی وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بچوں کی بے بسی سمجھا رہی تھیں: اگر میں انہیں اپنے ساتھ لے جاؤں تو میرے پاس کھلانے کو کچھ بھی نہیں اور وہ فاقوں سے مر جائیں گے، اور اگر ان کے پاس چھوڑوں تو وہ بوڑھے آدمی ہیں، بچوں کی صحیح طریقے سے پرورش و تربیت نہیں کر سکیں گے اور وہ رل جائیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس معاملے میں وحی کے منتظر تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "میرا خیال یہی ہے کہ تو اس پر حرام ہو چکی ہے، اور اللہ سے ڈر، اور اپنے شوہر سے حلیمی برت کیونکہ وہ تیرا چچا زاد بھی ہے۔"
مگر خولہ مسلسل بحث کرتی رہیں اور اپنا موقف واضح کرتی رہیں:
"اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اوس نے طلاق کا لفظ تو استعمال نہیں کیا، یہ تو صرف ایک جاہلانہ جملہ ہے!"
پھر انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور دعا کی: "اے اللہ! میں تیرے سامنے اپنی بے بسی کا شکوہ کرتی ہوں، اے اللہ! اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ والسلم کے دل پر حل و حلم نازل فرما۔"
اور یہی وہ لمحہ تھا جس کی وجہ سے اس سورة کا نام "المجادلہ" بحث وتکرار کرنے والی پڑا۔
اللہ رب العزت نے وحی نازل فرمائی:
قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله والله يسمع تحاوركما إن الله سميع بصير
"اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے تکرار کر رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔"
اس جملے کی عظمت پر غور کیجیے… "اللہ نے سن لیا۔"
یعنی ایک غمزدہ اور دکھیارن عورت کے منہ سے نکلے ہوئے وہ الفاظ، جو اپنے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے التجا کر رہی تھی… اللہ تعالی نے عرشِ بریں سے اس کی پکار سن لی۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس منظر کو روایت کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ وہ کمرے کے ایک کونے میں کھڑی تھیں: "تمام تر تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں !
میں خولہ بنت ثعلبہ کے پاس ہی کھڑی تھی مگر ان کی بعض باتیں مجھ سے بھی پوشیدہ رہ گئیں اور میں نہ سن سکی، مگر سبحان اللہ! ہمارے رب نے عرش سے ان کی سرگوشیوں کو بھی سن لیا۔"
اور پھر… اچانک نورِ وحی کا نزول ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور جب وہ ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "اے خولہ! خوش ہو جاؤ، اللہ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل فرما دیا ہے۔"
اللہ تعالی نے اس مسئلے کا حل عطا فرمایا اور اس عقدے کو کھول دیا، اور ساتھ ہی ایک بہت سخت کفارہ مقرر فرمایا تاکہ لوگوں کی تربیت ہو اور کوئی بھی اتنی آسانی سے گھر اجاڑنے والے ایسے الفاظ نہ بولے:
سب سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا یعنی مسلسل ساٹھ روزے رکھنا، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اوس بن صامت کو اس کفارے کے بارے میں بتایا، تو اوس نے عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول! میرے پاس آزاد کرنے کے لیے کوئی غلام نہیں، اور میں بڑھاپے اور ضعف کی وجہ سے روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اور نہ ہی میرے پاس اتنی وسعت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکوں۔"
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی طرف سے کھجوروں کا ایک ٹوکرا ان کی امداد کے لیے دیا، اور خولہ نے بھی ایک ٹوکرا اپنی طرف سے ملایا، اور یوں مسکینوں کو کھانا کھلایا گیا۔ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا عزت اور وقار کے ساتھ اپنے شوہر کے گھر لوٹ آئیں۔
لیکن یہ واقعہ صرف دو میاں بیوی کے باہمی اختلاف کی کہانی نہیں ہے،
کیونکہ اگر آپ سورة المجادلہ کو آگے پڑھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ سورة آپس کے معاملات اور اجتماعی آداب کی بہترین اور تفصیلی راہنمائی فراہم کرتی ہے۔
مثال کے طور پر: نجویٰ سرگوشی اور تنہائی میں بات کرنے کا موضوع۔
کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ذاتی مسائل پر بات کرنا پسند کرتے تھے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بوجھ بڑھنے لگا اور اوقاتِ کار متاثر ہونے لگے۔
اس پر قرآن مجید نے ایک نہایت لطیف اور خوبصورت تنبیہ فرمائی:
يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة ذلك خير لكم وأطهر
"اے ایمان والو! جب تم رسول سے تنہائی میں بات کرنا چاہو، تو اپنی بات چیت سے پہلے کچھ صدقہ دے لیا کرو، یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔"
یعنی اللہ تعالی نے ایک حد مقرر فرما دی کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے الگ بیٹھ کر بات کرنا چاہتا ہے، وہ پہلے غریبوں کو صدقہ دے!
آپ جانتے ہیں اس کا کیا اثر ہوا؟
اس حکم نے فوراً لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا! جس کے پاس واقعی کوئی اہم یا ضروری معاملہ ہوتا وہ صدقہ دے کر حاضر ہوتا، اور جو صرف اس لیے بیٹھنا چاہتا تھا کہ "میں نبی صلعم کے ساتھ اکیلے بیٹھا ہوں"، وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔
سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ وہ واحد شخص تھے جن کے پاس ایک دینار جو دس درہم کے برابر تھا موجود تھا، انہوں نے ہر بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم سے تنہائی میں بات کرنے سے پہلے ایک درہم صدقہ دیا۔ اور جب مسلمان اس کا مقصد سمجھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے آداب سیکھ گئے، تو اللہ تعالی نے اگلی ہی آیت میں ان کے لیے اس حکم میں نرمی فرما دی۔
اسی طرح اس سورة مبارکہ کے باقی حصے میں "مجالس کے آداب" سکھائے گئے ہیں؛ کہ جب تم مجلس میں بیٹھے ہو اور کوئی نیا آنے والا آئے تو اس کے لیے جگہ کشادہ کرو… ایک دوسرے کے لیے تنگ دلی کا مظاہرہ نہ کرو، کیونکہ جو دوسروں کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے زندگی اور آخرت میں وسعت پیدا فرما دیتا ہے۔
یہ پوری سورة شائستگی، سلیقے، گھر کی حرمت و پاسداری، دکھی دلوں کی تسلی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ عام لوگوں سے برتاؤ کے اعلیٰ اخلاق کا سبق دیتی ہے… یہ ایک ایسی سورة ہے جو معاشرے کی اخلاقی و اندرونی ساخت اور کردار کی تعمیر کرتی ہے!
اَللّٰھُمَّ اجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ وغمی"
"اے اللہ تعالٰی قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا مداوا اور میری پریشانیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دیجئے ۔
مزید پڑھیں





