دنیا کا سب سے دشوار کام کیا ہے؟ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو انسان کے لیے سب سے مشکل کام سچ اور جھوٹ، حق اور ناحق کے درمیان نادیدہ باریک خط کو پہچاننا اور پھر غیر جانبدار ہو کر سچ کا ساتھ دینا ہے۔ بظاہر عدل و انصاف کی باتیں کرنا بہت آسان محسوس ہوتا ہے، لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو انسان کی ذاتی پسند، ناپسند، تعصبات، رشتہ داریاں اور مفادات اس کے قدم ڈگمگا دیتے ہیں۔ لیکن اگر منصف غیر جانبدار ہو، اسے اپنے رتبے اور ذمہ داری کا پاس ہو، اس کی سوچ میں توازن اور شعور میں حق و ناحق کا واضح امتیاز پایا جاتا ہو تو یہی دشوار ترین کام نہایت سہل اور خوبصورت ہو جاتا ہے۔
نظامِ عدل کی عمارت جس سب سے اہم ستون پر کھڑی ہے، وہ منصف یا جج کی ذات ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اگر عدالتیں قائم ہوں، خوبصورت عمارتیں ہوں، ضخیم قانون کی کتابیں موجود ہوں، لیکن مسندِ انصاف پر بیٹھا شخص غیر جانبدار نہ ہو، تو پورا عدالتی نظام تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتی نظام میں منصف کو مرکزی اور سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
متوازن، سمجھدار اور فرض شناس جج کی سب سے بڑی صفت اس کا صبر اور سننے کا ظرف ہوتا ہے۔ وہ مسندِ انصاف پر بیٹھ کر جذبات کی رو میں نہیں بہتا۔ وہ مدعی اور مدعا علیہ ، دونوں فریقوں اور ان کے نمائندہ وکلاء کو پوری توجہ، حوصلے اور دیانت داری سے سنتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ایک طرف کا موقف کتنا ہی دلنشین، جذباتی اور بظاہر سچا کیوں نہ لگے، لیکن جب تک دوسرے فریق کا نقطہ نظر سامنے نہ آ جائے، حقیقت پردہ سیمیں پر واضح نہیں ہو سکتی۔
قانون اور اخلاقیات کا سنہری اصول یہی ہے کہ کبھی یک طرفہ کہانی پر فیصلہ صادر نہ کیا جائے۔ دنیا میں کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ پہلی نظر میں ایک شخص مظلوم اور دوسرا ظالم محسوس ہوتا ہے، لیکن جب تفصیلات سامنے آتی ہیں اور شواہد کی چھان بین کی جاتی ہے تو حقیقت بالکل برعکس نکلتی ہے۔ جو منصف جلد بازی یا تعصب میں آ کر یک طرفہ کہانی پر فیصلہ سناتا ہے، وہ نہ صرف انصاف کا قتل کرتا ہے بلکہ اپنے عہدے کے ساتھ بھی خیانت کرتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انصاف کی ضرورت صرف عدالت کے کمرے تک محدود ہے؟
بدقسمتی سے ہم نے لفظ انصاف کو جج اور کورٹ کچہری سے جوڑ دیا ہے۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ ہم میں سے ہر انسان اپنی روزمرہ زندگی میں کسی نہ کسی سطح پر منصف کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔
باپ اپنے بچوں کے درمیان منصف ہوتا ہے۔ استاد اپنی کلاس میں طلبہ کے درمیان منصف ہوتا ہے۔ باس اپنے ماتحتوں کے درمیان منصف ہوتا ہے۔ دو دوستوں کی لڑائی میں تیسرا دوست ایک ثالث اور منصف کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔
لیکن ہمارے معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم روزمرہ زندگی میں اس بنیادی اصول کو بھول چکے ہیں۔ جب بھی کوئی تنازع کھڑا ہوتا ہے، ہم فوراً اس شخص کی بات پر یقین کر لیتے ہیں جو پہلے ہمارے پاس آتا ہے یا جو ہمارے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ ہم بغیر دوسرے فریق کا موقف سنے، اس کی وضاحت طلب کیے بغیر اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں اور حتمی فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں۔
نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ دلوں میں فرق آ جاتا ہے، رشتوں میں تلخیاں گھل جاتی ہیں، خاندان ٹوٹ جاتے ہیں اور دوستیاں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں۔ ہم جانے ان جانے میں یک طرفہ کہانیوں پر یقین کر کے ناانصافی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔
اگر ہر انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہی طریقہ اختیار کر لے جو متوازن جج اپناتا ہے یعنی کسی بھی واقعے کی صورت میں جلدی میں رائے قائم نہ کرنا بلکہ دونوں فریقوں کو سننا۔
اپنے ذاتی تعلقات، پسند اور ناپسند کو فیصلے کے درمیان نہ آنے دینا۔
حق کا ساتھ دینا چاہے وہ آپ کے کسی اپنے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
اگر یہ تین باتیں ہمارے عمومی مزاج کا حصہ بن جائیں، تو معاشرے سے گلے شکوے، غلط فہمیاں اور ناانصافیاں ختم ہو جائیں۔
جب ایک انسان دوسرے کے نقطہ نظر کو سننے اور سمجھنے کا ظرف پیدا کر لیتا ہے تو معاشرے میں برداشت کی فضا قائم ہوتی ہے۔ ہم اکثر دوسروں کے حالات، ان کی مجبوریوں اور ان کے نقطہ نظر سے ناواقف ہوتے ہیں اور سنی سنائی یا ادھوری معلومات کی بنیاد پر ان کے بارے میں منفی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ ہمارے ذہنی سکون کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔
فلسفیوں اور مفکرین نے ہمیشہ ایسے معاشرے کا خواب دیکھا ہے جہاں امن، محبت اور اخوت کا دور دورہ ہو۔
بہشت یا جنت ایسی حالت اور ماحول کا نام ہے جہاں خوف، ناانصافی، تعصب اور ظلم نہ ہو۔ جب گھروں میں بچوں کے ساتھ انصاف ہوگا، دفاتر میں ملازمین کے ساتھ میرٹ پر کام ہوگا، گلی محلوں میں لوگ ایک دوسرے کی بات کو بغیر تعصب کے سنیں گے تو نفرتیں خود بخود دم توڑ دیں گی۔
انصاف صرف عدالتوں کی مرہونِ منت نہیں ہوتا، انصاف انسان کے ضمیر کی بیداری سے جنم لیتا ہے۔ جب انسان کا ضمیر زندہ ہوتا ہے تو وہ اپنی ذات کے خلاف بھی سچی گواہی دینے سے نہیں گھبراتا۔
انصاف کا ترازو ہر انسان کے دل اور دماغ میں نصب ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں فیصلے کرتے وقت، بولتے وقت اور دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت منصف کا روپ دھارنا ہوگا۔
ہمیں اپنے اندر وہ شعور بیدار کرنا ہوگا جو حق اور ناحق کے فرق کو واضح دیکھ سکے۔ ہمیں دوسروں کو سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا اور یک طرفہ کہانیوں پر تالیاں بجانے یا فیصلے سنانے کی عادت کو ترک کرنا ہوگا۔
جس دن ہم نے اپنے معاشرے میں انصاف کے اس اصول کو نافذ کر لیا، اس دن اس زمین کو جنت بننے کے لیے کسی معجزے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ ہمارا یہی متوازن اور منصفانہ رویہ اس دنیا کو بہشتِ ارضی بنا دے گا۔
مزید پڑھیں






