جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسان کہاں کھو گیا؟ تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

زمانہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ زندگی میں سہولتیں بڑھ رہی ہیں، فاصلے سمٹ رہے ہیں، مگر انسان ایک دوسرے سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی کسی کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اس کے گھر جانا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ اب واٹس ایپ پر ایک پیغام بھیج کر فرض پورا کر لیا جاتا ہے۔ رابطے پہلے سے زیادہ ہیں، لیکن تعلقات میں وہ گرم جوشی باقی نہیں رہی۔

گزشتہ دنوں ایک جگہ بیٹھنے کا اتفاق ہوا۔ چند افراد ایک ہی میز کے گرد موجود تھے، مگر سب اپنے موبائل فون میں مصروف تھے۔ کسی کو دوسرے کی بات سننے کی فرصت نہیں تھی۔ ایک صاحب نے اچانک اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے شکایت کی کہ تم نے میری تصویر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جواب ملا کہ میں نے تو پسندیدگی کا نشان لگایا تھا۔ یہ مختصر سی گفتگو سن کر خیال آیا کہ اب ہماری توجہ اور محبت بھی سوشل میڈیا کے نشانات کی محتاج ہوتی جا رہی ہے۔

ٹیکنالوجی نے بلاشبہ انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے۔ علم تک رسائی، کاروبار، تعلیم اور رابطوں کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے۔ ہم نے سہولت کو ضرورت اور ضرورت کو عادت بنا لیا ہے۔ اب چند لمحے خاموش بیٹھنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ہاتھ بے اختیار موبائل کی طرف بڑھتا ہے، جیسے وہاں کوئی ضروری کام ہمارا منتظر ہو۔

اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر گھریلو زندگی پر پڑ رہا ہے۔ والدین بچوں کے لیے بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کے ساتھ بیٹھنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ بچے بھی کھیل کے میدان اور کتابوں کے بجائے اسکرین کی دنیا میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے معمولات سے تو واقف ہوتے ہیں، مگر بعض اوقات ان کے دل کی کیفیت سے بے خبر رہتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آج ہر شخص اپنی زندگی کو دوسروں کے سامنے خوبصورت ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ کسی کی نئی گاڑی، کسی کا بیرون ملک سفر، کسی کی کامیابی اور کسی کی خوش حال ازدواجی زندگی دیکھ کر لوگ اپنی زندگی کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی زندگی ہمیشہ مکمل حقیقت نہیں ہوتی۔ ہر مسکراتی تصویر کے پیچھے خوشی ہو، یہ ضروری نہیں۔

ہم نے اپنی خوشیوں کا معیار بھی بدل لیا ہے۔ کسی تقریب میں شرکت سے زیادہ اہم اس کی تصاویر بنانا سمجھا جاتا ہے۔ کھانا ٹھنڈا ہو جائے تو کوئی بات نہیں، تصویر اچھی آنی چاہیے۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم لمحوں کو جینے کے بجائے انہیں دوسروں کو دکھانے میں مصروف ہیں۔

اس سارے معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ پہلے کسی کی پریشانی کا علم ہوتا تو لوگ اس کے پاس بیٹھتے، تسلی دیتے اور ممکنہ مدد کرتے تھے۔ اب افسوس کے چند الفاظ لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمدردی کا اظہار ضرور ہوتا ہے، مگر عملی توجہ کم دکھائی دیتی ہے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے بے شمار ضرورت مندوں تک مدد پہنچتی ہے اور بچھڑے ہوئے رشتے دوبارہ مل جاتے ہیں۔ اس لیے اسے مکمل طور پر قصوروار ٹھہرانا بھی مناسب نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کس چیز کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں۔ کیا ہماری مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ کسی اپنے کی بات سننے کے لیے چند منٹ بھی نہیں نکال سکتے؟ کیا ہر خوشی کو دوسروں کی پسندیدگی سے ناپنا ضروری ہے؟ اور کیا کسی کی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے صرف آن لائن ہونا کافی ہے؟

ترقی کی رفتار کو روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔ البتہ اس رفتار میں انسانی تعلقات کو نظرانداز کرنا دانش مندی نہیں۔ موبائل فون ہماری ضرورت ہے، مگر اسے ہماری پوری زندگی نہیں بن جانا چاہیے۔

کبھی فرصت ملے تو گھر میں بیٹھے کسی بزرگ سے ان کے زمانے کی باتیں سنیے۔ بچوں سے ان کے دن بھر کے تجربات پوچھیے۔ کسی پرانے دوست کو بغیر کسی غرض کے فون کیجیے۔ ممکن ہے ان چند لمحوں میں وہ خوشی مل جائے جو گھنٹوں اسکرین پر مصروف رہنے کے باوجود حاصل نہیں ہوتی۔

ہم نے دنیا کو اپنی انگلیوں کی پوروں پر سمیٹ لیا ہے، مگر افسوس کہ اپنے اردگرد موجود انسانوں کو سمجھنے کے لیے وقت کم پڑنے لگا ہے۔

شاید اب ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے دنیا سے رابطہ تو بڑھا لیا، مگر کہیں اپنے لوگوں سے تعلق کم تو نہیں کر لیا؟