جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ڈپریشن سے آگاہی،تحریر:نمرہ امین

نقطہ نظر
nimra amin

ڈپریشن جو آج کل 90 فیصد لوگوں میں اس لیے زیادہ ہوگیا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے کے حالات ہی ایسے ہوگئے ہیں جس میں ایک اچھا بھلا انسان بھی ڈپریشن کا شکار ہو جائے۔ روزمرہ کی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے انسان کا جینا مشکل کر دیا ہے اور آئے دن اسی وجہ سے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ جب حد سے زیادہ ڈپریشن بڑھ رہا ہو ایک انسان کا تو پھر وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور تنگ آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتا ہے۔

"کہنے کو تو ایک لفظ ہے ڈپریشن" لیکن اس کی وجہ سے بے شمار گھر تباہ ہوگئے ہیں۔ اتنی لوگوں کی جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔

ہماری اپنی سوچ اور پریشانیوں کی وجہ سے ہم ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھ کر سب کی باتیں سن کر ہمارے ذہن میں منفی سوچ آتی ہے جو اتنا کچھ ہم غلط خیالات سوچتے ہیں اور اپنے ذہن کو بلکل منفی رخ دے کر سب کو پرکھتے اور سوچتے، سمجھتے رہتے ہیں۔ ہر وقت کی منفی سوچ ہمیں ڈپریشن میں لے جاتی ہے جس کی وجہ سے ہم چڑچڑے، ضدی اور غصیلے ہو جاتے ہیں ہمیں کوئی بھی اپنے آس پاس نہیں چاہیے ہوتا ہے۔

"ڈپریشن کی زیادہ تر یہ علامتیں ہوتی ہیں ":

1۔ مسلسل رہنے والی اداسی اور نا امیدی۔

2۔ نا ختم ہونے والی سوچیں اور چڑچڑاپن۔

3۔ اداسی کی وجہ سے خوداعتمادی کی کمی۔

4۔ کسی کام میں دل نہ لگنا۔

5۔ نیند اور بھوک میں زیادتی اور کمی۔

6۔ زندگی ختم کرنے اور خود کو ایذا دینے کے خیالات۔

یہ سب عموماً ایسی علامتیں ہیں جو ہر ایک ڈپریشن والے انسان کو ہوتی ہیں۔ یہ وہ علامتیں ہیں جس کی وجہ سے انسان کہیں کا نہیں رہتا ہے، وہ اکیلا ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے کتنے لوگ اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ جب حد سے زیادہ ڈپریشن بڑھ جاتا ہے وہ ایک بیماری بن جاتی ہے جس کا بر وقت علاج کروانا اور اس انسان کو ڈپریشن سے باہر لانا بہت ضروری ہے نہیں تو وہ انسان ڈپریشن میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ یہ ایک ہنستے مسکراتے صحتمند انسان کو کھوکھلا، تباہ و برباد اور لاغر کر دیتا ہے۔

"ڈپریشن کی وجہ سے ہنستا، بستا گھر بھی بکھر جاتا ہے".

ہمارے اردگرد کے حالات ماحول ہی ہمیں ڈپریشن میں مبتلا کرتے ہیں اور ڈپریشن سے نکالنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ہماری منفی مثبت سوچ، خیالات ہی ہمارا علاج کرتے ہیں اور یہ سب ہم پر منحصر ہے ہم کس راستے پر خود چلتے ہیں اور کس طرح اپنی زندگی کو گزارتے ہیں۔

اگر ایک انسان لوگوں کی باتوں، ان کے رویوں اپنے اردگرد کے ماحول کی وجہ سے ڈپریشن میں ہے اس کو فوراً اپنی ایسی صورتحال سے کسی کو آگاہ کرنا چاہیے اور ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے نہ کہ خود کو ذہنی مریض بنا لے۔

اگر وقت رہتے ہی اس پر قابو پایا جا سکے تو انسان بہت سی بیماریوں اور خطروں سے بچ سکتا ہے کیونکہ یہ ایک موذی اور جان لیوا مرض ہے۔

آج کل جتنے لوگ اور خاص کر ینگ جنریشن ڈپریشن کا شکار ہو گئے ہیں اور ہوتے جا رہے ہیں ان کا بر وقت علاج بھی کروانا ضروری ہے۔ ڈپریشن کا علاج ممکن ہے اگر اس کو بر وقت محسوس کیا جائے تو اس کا فوراً علاج کروایا جائے۔ آج کل بہت ضروری ہوگیا ہوا ہے کہ سب کو ڈپریشن سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ ہر کوئی ڈپریشن سے بچ سکے۔ ہر تعلیمی ادارے میں لازمی ڈپریشن کے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ اس کی معلومات کی وجہ سے انسانی زندگیاں بچ سکیں اور سب ڈپریشن سے باہر نکل سکیں۔