یہ تو معلوم نہیں کہ یہ شوق کیوں ہوا، کیسے ہوا؟ البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ ڈھائی تین سال کی عمر سے ہی لاحق ہو گیا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے گھر میں جب کبھی گاؤں کی پرانی یادیں دہرائی جاتیں تو میرے بچپن کے چلبلے قصوں کا ذکر ضرور ہوا کرتا تھا۔ امی یا باجی میں سے کوئی نہ کوئی میری بارات والی کہانی اکثر سنایا کرتی تھیں۔
گاؤں میں گرمیوں کے دنوں میں گھر والے جب کام کاج سے فارغ ہو کر، گرمی سے بچنے کے لیے مٹی کے کچے گھروں کی چھتوں پہ اونچے پیپل کے پیڑوں کی چھاؤں میں، چارپائیاں بچھا کر بیٹھتے اور آرام کرنے کے ساتھ ساتھ دکھ سکھ بھی کھولتے یعنی آپ بیتیاں اور جگ بیتیاں سناتے، تو ایسے میں ڈھول، تاشوں اور شہنائیوں کے بجنے کی آوازوں پہ خوامخواہ دل جھومنے لگتے۔ جب کسی دوسرے گاؤں جانے کے لیے کوئی بارات ہمارے گاؤں سے گزرتی تو خواتین، لڑکیاں اور بچے سب بڑی دلچسپی سے چمکتی آنکھوں اور کھلتے چہروں کے ساتھ گویا دلہن کے گھر پہنچنے سے پہلے بارات کا استقبال کر لیا کرتے۔ اور باراتی بھی کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلی میں سکوں کی سوٹ (برسات) کے ساتھ ساتھ چھتوں پہ کھڑے لوگوں کی طرف بھی سکے ضرور پھینکتے۔
انہی بچوں میں، میں بھی شامل ہوا کرتی تھی، جسے سکے اکٹھے کرنے کی بجائے نجانے کیوں اس بات کی زیادہ فکر ہوتی تھی کہ بارات ہمارے گھر کیوں نہیں آئی۔ اور میں زور زور سے آوازیں لگا کر گھر والوں سے کہتی، "اماں جنج تے میری آئ سی پر اوہ ہیراں والے ٹر گئی اے"۔ یعنی اماں بارات تو میری آئی تھی لیکن وہ (ہیراں) ہیراں والے (برابر والے گاؤں) چلی گئی ہے۔ اور سارے گھر والے جب میری بات پہ کھلکھلا کر ہنس دیتے تو میں جھینپ سی جاتی کہ میں نے پتہ نہیں کیا غلط بات کہہ دی ہے۔
جب کہ صرف مجھے ہی نہیں، خوبصورت چمکیلا زرق برق لباس زیب تن کیے، غازے، سرخی، پاؤڈر اور کاجل سے سجی سنوری، زیورات سے لدی پھندی، مہندی لگے ہاتھوں میں کھنکتی چوڑیاں، کنگن پہنے اور پائل کی چھن چھن سے مدھر موسیقی جگاتی دلہنیں کسے اچھی نہیں لگتیں۔ لیکن کسی کسی کو ان کا یہ روپ کچھ زیادہ ہی بھاتا ہے۔
مجھے آج بھی یاد ہے ہمارے محلے میں جب بھی کوئی لڑکی شادی کے دوسرے دن میکے آتی تو آس پڑوس کے ہر ایک گھر میں ملنے ضرور جاتی۔ اس کے ساتھ اور پیچھے محلے کے بچوں کا گویا جلوس سا ہوا کرتا تھا۔ اسے تو مانا کہ اپنی شادی کی خوشی ہوتی تھی لیکن سارے بچے نجانے کیوں اتنے جوش و خروش سے اس کے ساتھ ساتھ گھومتے تھے، گویا دلہن کو پورا پورا پروٹوکول دیا جاتا۔
سرخ، آتشی گلابی یا نارنجی رنگ کا ساٹن یا شنیل (ویلوٹ) کا جوڑا، لال رنگ کی سینڈل جس پہ ویلوٹ لگا کر خوبصورت رنگوں سے پھول بوٹوں کی کڑھائی کی جاتی تھی، اس کے اوپر اس کڑھائی اور شنیل کو محفوظ رکھنے کے لیے شفاف پلاسٹک لگایا جاتا تھا۔
کانوں میں بڑے بڑے جھمکے، گلے میں خوبصورت سا ہار، کلائیوں میں درجنوں لال اور سنہری چوڑیاں، مہندی سے سرخ ہاتھ پیر اور پیروں میں پائل باندھے چھن چھن کرتی پھرتی تھی۔ اور بچے جن میں میں بھی پوری جانفشانی سے شامل ہوا کرتی تھی، سب اسے سر سے پاؤں تک اس وقت تک دیکھا کرتے جب تک کہ محلے کے سب گھروں میں مل نہ لیتی یا کوئی بچوں کو ڈانٹ کر بھگا نہ دیتا۔
جب میں چھٹی یا ساتویں جماعت میں تھی تو میری ایک ہم جماعت جو کہ میری بڑی اچھی سہیلی بھی تھی، اس کے چچا زاد بھائی کی شادی ہوئی جو کہ ان کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ جب اس نے اسکول میں مجھے بتایا تو میں نے فوراً فرمائشیں کر ڈالیں کہ میں نے بھی تمہاری بھابی دیکھنی ہے۔ تو شاید وہ اسی دن یا پھر دوسرے دن ہی اپنے گھر لے گئی اور میں دلہن دیکھنے کے شوق میں اپنے گھر پہ بتائے بغیر ہی اس کے گھر جا پہنچی۔ لیکن کچھ مایوسی بھی ہوئی کہ بھابی شاید باتھ روم میں تھی یا کچن میں، کیونکہ وہ عام دلہنوں کی طرح تیار ہی نہیں تھی۔ اس پہ شرمندگی کا بھی سامنا کرنا پڑا کیونکہ جب ان کے کمرے میں گئے تو کمرے میں صرف اس کا بھائی موجود تھا۔ اور میں چونکہ پہلے کبھی ان سے ملی بھی نہیں تھی۔ جب میری سہیلی نے بتایا کہ بھائی یہ میری سہیلی بھابی کو دیکھنے آئی ہے تو بھائی نے پیار سے پاس بٹھایا اور دلہن کو آواز دی۔ وہ کمرے میں آئی تو دلہن کے روپ میں تھی ہی نہیں۔ مجھے تو بڑی مایوسی ہوئی اور میں نے نظریں جھکا لیں۔ بھائی صاحب کو نجانے کیا شرارت سوجھی، مجھے پکڑ کر کہنے لگے، "لو اب تم بھابی دیکھنے آئی ہو تو اسے دیکھو تو سہی۔" بھابی بھی پاس کھڑی مسکرانے لگی۔ البتہ اس دن کے بعد کسی کی دلہن بھابی دیکھنے کی فرمائش پھر کبھی نہ کی۔
بڑی ہو کر اپنے گھر کی ہوئی تو میری پوری کوشش ہوتی کہ رشتے داروں یا جاننے والوں میں، کہیں سے شادی کا دعوت نامہ آ جائے تو ضرور شرکت کروں، دلہن دیکھوں اور دلہا دلہن کے ساتھ تصاویر بنواؤں۔ میکے یا سسرال میں بھانجے بھانجی کسی کی بھی شادی ہو سہی، خاندان میں سب سے پہلے دلہا دلہن کی دعوت کرنے کا میرا ریکارڈ برقرار رہتا ہے۔ اور میں امید بھی کرتی کہ نئی شادی شدہ لڑکی کافی حد تک دلہن لگے بھی۔
خیر سے زندگی میں چار پانچ دلہنوں کو تیار کرنے کا موقع بھی قدرت نے دیا۔ میری تو سمجھو عید ہو جاتی۔ اور میں بڑے چاؤ سے انہیں تیار کرتی۔ خوشی اور فخر یوں محسوس ہوتا گویا کوئی کارنامہ سر انجام دے دیا ہو۔ جب اپنی بیٹی کی شادی پہ بیوٹیشن نے اسے تیار کیا، تو بیٹی سے بچھڑنے کے دکھ کے ساتھ ساتھ اسے دلہن کے روپ میں دیکھ کر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ بیوٹیشن کو کہہ اٹھی، "میری بیٹی تو عفت رحیم نہیں لگ رہی۔" وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی، "آنٹی ساری اماؤں کو اپنی بیٹیاں ماڈلز ہی لگتی ہیں۔" اب اسے پتہ تھوڑی تھا کہ ممتا کے ساتھ میرا دلہنیں دیکھنے کا شوق بھی بول رہا ہے۔ خیر سے بڑے بیٹے کی شادی ہوئی تو اس کی اونچی لمبی خوبصورت دلہن جو مجھے تو شہزادی سی لگ رہی تھی، اسے دیکھ کر فوٹوگرافر پوچھ ہی بیٹھا، "کیا یہ ماڈلنگ کرتی ہیں؟" اور، اور جب میرے سب سے چھوٹے بیٹے کی شادی ہوئی تو، ایک تو فارم ہاؤس جہاں پہ حدِ نگاہ تک سبزہ ہی سبزہ اور بیسیوں قسم کے چھوٹے بڑے، خوبصورت رنگ برنگے پھول، جن سے پودے گویا لدے ہوئے تھے۔ اس پہ گوری چٹی اور سرخ سفید، گلابی رنگت والی میم، تہہ در تہہ جالی کے بڑے سے گھیر دار پیروں تک سفید لباس میں ملبوس، سر پہ چھوٹے چھوٹے مختلف رنگوں کے پھولوں سے بنا نازک سا تاج پہنے۔ ہاتھوں میں نہایت حسین رنگوں کے پھولوں کا خوبصورت گلدستہ پکڑے، بس وہ کوئی اپسرا ہی لگ رہی تھی۔ حالانکہ سفید لباس کے ساتھ بھی دلہنیں سفید موتیوں سے بنے یا روپہلی زیورات پہنتی ہیں۔ لیکن میں نے پہلی دلہن دیکھی جو کہ گلے میں نہایت باریک سی زنجیر پہنے ہوئے تھی۔ جس میں صرف ایک سفید موتی تھا اور کانوں میں بھی درمیانے سے سائز کے ایک ایک سفید موتی پہ مشتمل ٹاپس۔ یعنی محض تین عدد موتیوں کا زیور پہن کر بھی وہ اتنی حسین پری لگ رہی تھی کہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
نکاح کے سفید لباس کے بعد جب اس نے سرخ رنگ کا سنہری دھاگے اور موتیوں کی کڑھائی والا حسین، بھاری سا گھاگھرا چولی اور خوبصورت سا دوپٹہ زیب تن کیا، ساتھ میچنگ انڈین طرز کے زیورات پہن کر سامنے آئی، تو نظریں اس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔ گویا کسی مشرقی ملک کی انتہائی حسین ملکہ کا روپ لگ رہی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں نظر اتارنے کے لیے دعا بھی کر ڈالی۔
میں بھی آخر گوری کی ساس تھی۔ میں نے بھی پرانی فلموں کی ہیروئن کی طرح ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہن کر بڑی بہو سے اونچا سا جوڑا بنوایا، ہلکا سا میک اپ کیا۔ اور باہر جا کر گلاب کے جھاڑی نما پودے سے دو چھوٹے پیارے سے گلابی پھول توڑ کر جوڑے میں سجا تو لیے۔ لیکن خوشی اور جوش میں یہ بھول ہی گئی کہ وہاں ان گلاب کے پھولوں میں چھوٹے چھوٹے کیڑے بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے استعمال سے پہلے ذرا جھٹک کر تھوڑی دیر کاغذ پر پھیلا دیتے ہیں تاکہ کیڑے نکل جائیں۔ میں نے تو بس توڑے اور بالوں میں گھسا لیے اور لگی جا کر شادی کے پنڈال میں تعریفیں سمیٹنے۔ ابھی فخریہ انداز میں خوش ہوتے ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ان ننھے منے کیڑوں نے بالوں میں چہل قدمی شروع کر دی۔
اب کروں تو کیا کروں؟ سر کھجا نہیں سکتی کہ بال اور اسٹائل خراب ہونے کا ڈر۔ اور تقریب سے اٹھ کر جا نہیں سکتی کہ دلہا کے اماں ابا سب سے اگلی صف میں براجمان تھے۔ جائے ماند نہ پائے رفتن۔ خیر جیسے ہی کسی کام سے اٹھنے کا موقع پایا فوراً جا کر جوڑے سے پھول نکال کر پھینکے، جلدی جلدی سر کھجایا، بال ٹھیک کیے اور چہرے پہ نہایت پُرسکون سی مسکراہٹ سجائے پنڈال میں واپس آ گئی۔
دلہنوں کو دیکھنے کا بچپن کا شوق خیر سے پچپن کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔ اب تک نہیں گیا تو اب کیا جائے گا، پنجابی کہاوت ہے نا کہ "عادت پئی کڑی نوں نا جائے بڈی اڑی نوں" یعنی بچپن یا لڑکپن میں پڑ جانے والی عادت بوڑھی ہو کر کمر جھک جانے پر بھی نہیں جاتی۔ حالانکہ کبھی کبھار بہت سوچنے کی کوشش بھی کی کہ یہ شوق کیسے اور کیوں ہوا، لیکن کچھ خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہوئی تو سوچنا ہی چھوڑ دیا کہ چلو، نہ میرا اس سے کچھ بگڑتا ہے نہ ہی اس معصوم سے شوق سے کسی کو کوئی نقصان ہوتا ہے۔ تو شوق ہوا کرے کیا فرق پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں






