غزل،کبھی جو ہم نے سنی تھی، وہی کہانی تھی،شاعر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
مصنف:
غزل
ندیم یعقوب گوہر
کبھی جو ہم نے سنی تھی، وہی کہانی تھی
مگر وہ یاد اب افسانہ تلاش جانی تھی
وہ جس کے قدموں تلے ہم نے زندگی رکھ دی
وہی تو میرے تخیل کی ایک رانی تھی
نہ تھا شعورِ خزان جب بہارِ رختِ سفر
عجب ہی عالمِ مستی وہ اپنی جوانی تھی
خلوصِ دل پہ بھی الزام آ ہی جاتے ہیں
ہمارے بیچ فقط ایک بدگمانی تھی
کتابِ زیست کا ہر باب خوں سے تر نکلا
جو ہم پہ بیتی ہے، وہ درد کی نشانی تھی
تلاطمِ شبِ ہجراں سے بچ کے کیا کرتے
سفینہ ڈوبنا ہی تھا کہ موج طوفانی تھی
وہ دور اور تھا جب معتبر تھے قول و قرار
اب اس زمین پہ انسان کی ارزانی تھی
پکارتے رہے ہم جس کو عمر بھر، افسوس
وہ میری اپنی ہی آواز کی پشیمانی تھی
کسی کے ہجر نے ویران کر دیئے رستے
گلی وہ شہر کی جو پہلے خاندانی تھی
تمہاری یاد کے آنسو چھپا لیے گوہر
یہی تو عشق کی سب سے بڑی میزبانی تھی
مزید پڑھیں





