غزل،کوئی مخلص نہ مل سکا ورنہ ،شاعر:اختر چیمہ
نقطہ نظر
مصنف:
غزل
دشت ہستی کا ہے سفر تنہا
در حقیقت ہے ہر بشر تنہا
تیری صورت چھپا کے انکھوں میں
پھر رہا ہوں نگر نگر تنہا
ہم سفر کوئی مل ہی جائے گا
چل پڑا میں یہ سوچ کر تنہا
جانے کس کو تلاش کرتا تھا
ایک دیوانہ در بدر تنہا
ہر مسافر کو چین ملتا ہے
دھوپ میں جلتا ہے شجر تنہا
دل کا دکھڑا تجھے سنانا ہے
اس طرف سے کبھی گزر تنہا
ہر طرف ہے ہجوم لوگوں کا
میں ہوں اندر سے کس قدر تنہا
کوئی مخلص نہ مل سکا ورنہ
کون ریتا ہے عنر بھر تنہا
مزید پڑھیں





