ادھورا انصاف اور لاوارث مستقبل ،تحریر:بینا علی
نقطہ نظر
مجھے ہمیشہ ادھورے انصاف سے خوف آتا ہے۔
چار سالہ معصوم عمر کے قاتل مقیدتو ہو گئے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک انصاف ادھورا رہے گا؟
وسیم کے کیس میں گاڑی کے نیچے کچل کر مارنے والا ظالم جو آج خود مقتول بن چکا ہے، اس کے ساتھ گاڑی میں موجود دوسرا شخص کون تھا؟ اس کی تلاش کہاں تک پہنچی؟ کیا ایک بچے کی جان اتنی سستی ہے کہ ایک موت کے بعد دوسری کہانی دبا دی جائے؟میرا دل کانپ اٹھتا ہے یہ سوچ کر کہ ایسے کتنے یتیم خانے ہیں جہاں ہمارے بچے اسی حال میں ہیں؟ جہاں معصوم وسیم جیسے پھول مسلے جا رہے ہیں تو وہاں بچیوں کی عصمت اور جان کتنی غیر محفوظ ہوگی؟ اس کا تصور ہی روح کو چیر دیتا ہے۔ان اداروں کے نام پر جو چندے، زکوٰۃ اور خیرات وصول کی جاتی ہے اس کا حساب کون دے گا؟ یہ پیسہ ان بچوں کے جسم پر کیوں نہیں لگتا؟ ان کے کھانے، کپڑے اور تعلیم پر کیوں نظر نہیں آتا؟
مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے، جب دس گیارہ سال کے ننھے بچے ہمارے دروازے پر کھانا مانگنے آتے تھے اور ہمارے بزرگ کہتے تھے "بیٹا جلدی روٹی دے دو یتیم خانے کے بچے ہیں، ان کو زیادہ دیر دروازے پر نہ کھڑا رکھو"۔ اس وقت ان کے چہروں پر بھوک تھی، آج ان کے چہروں پر خوف اور جسم پر تشدد کے نشان ہیں۔ پتہ نہیں ہم کہاں سے کہاں آ گئے بہتری تو نظر نہ آئی۔کتنے ہی وسیم ہیں جو اس سے پہلے کہ کسی گاڑی تلے روندے جائیں، کسی درندے کے ہاتھوں کچلے جائیں ہماری مدد کے منتظر ہیں۔ ان کی خاموش چیخیں کوئی سننے والا نہیں۔خدارا! جو صاحبِ استطاعت ہیں، جو انصاف کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں، وہ کم از کم ایک بچے یا ایک بچی کی ذمہ داری لے لیں۔ اسے گود لے لیں اس کی تعلیم کا خرچ اٹھا لیں اسے اپنا سمجھ لیں۔ ایک مستقبل محفوظ کر لیں۔
وسیم اگر آج کسی محفوظ ہاتھ میں ہوتا کسی محبت کرنے والے گھر میں ہوتا تو وہ کل کا ڈاکٹر ہوتا، انجینئر ہوتا استاد ہوتا۔ آج ہم نے ایک بچہ نہیں اپنی قوم کا مستقبل روند ڈالا ہے۔
ان بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات:
حکومت ہر رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ یتیم خانے، مدرسے اور شیلٹر ہوم کا فوری سرپرائز معائنہ کرے۔ وہاں بچوں کی تعداد، ان کے رہنے کی جگہ اور چندے کے حساب کتاب کو پبلک کیا جائے۔ ہر ادارے میں سی سی ٹی وی لازمی قرار دیا جائے جس کی رسائی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو ہو، اور کسی غیر جانبدار سوشل ورکر کو ہر ہفتے بچوں سے اکیلے میں ملنے کی اجازت ہو۔ "ایک گھر ایک بچہ" مہم شروع کی جائے۔ مخیر حضرات ایک بچے کی کفالت سرکاری سرپرستی میں لیں تاکہ بچہ ادارے میں رہے بھی تو اس کا ایک سرپرست باہر موجود ہو جو اس کا حال پوچھے۔ ہر ادارے میں بچوں کے لیے ایک مفت ہیلپ لائن نمبر آویزاں ہو اور بچوں کو اعتماد دیا جائے کہ بتانے پر ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔مظفرآباد میں ایس او ایس ویلج اور جمال فاؤنڈیشن ان دو اداروں کا مجھے علم ہے جہاں بچوں کا اچھا مستقبل اور ماحول نظر آتا ہے۔اس طرح کے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔وسیم کی ان تصاویر کو دیکھتی ہوں تو بہت بے چینی ہوتی ہے۔ہمارا روندا ہوا مستقبل
مزید پڑھیں





