حامد کے اسکول میں ماحولیاتی آلودگی کا دن منایا جا رہا تھا۔ حامد کو شجر کاری سے بہت لگاؤ تھا، اس لیے وہ پروگرام میں سب سے آگے بیٹھا ہوا تھا۔ استادِ محترم نے بچوں کو سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کا فرمان سنایا۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا فصل کاشت کرتا ہے، پھر اس سے کوئی پرندہ، انسان یا چوپایا کھاتا ہے، تو اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے۔" آپ ﷺ نے شجر کاری میں بذاتِ خود بھی حصہ لیا اور صحابہ کرام کے ساتھ مل کر سینکڑوں پودے لگائے۔ درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں، جو ماحول کو آلودگی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
استادِ محترم نے مزید بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے پانی کے اسراف سے منع فرمایا ہے، کیونکہ پانی کا بے جا استعمال بھی آبی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔ آپ ﷺ نے وضو اور طہارت میں بھی پانی کا زیادہ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ فضائی آلودگی کارخانوں اور گاڑیوں کے دھوئیں کی وجہ سے ہوتی ہے جو انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کی روک تھام میں جنگلات اور پودے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے آپ ﷺ نے شجر کاری کی حوصلہ افزائی فرمائی اور درختوں کی کٹائی سے سختی سے منع فرمایا۔
صوتی آلودگی:
وہ آواز جو انسان کی سماعت پر برا اثر ڈالتی ہے، شور کہلاتی ہے۔ شور کی وجہ سے ماحول میں صوتی آلودگی پیدا ہوتی ہے، جس سے انسان اعصابی و نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں بھی عام بول چال کے دوران آواز کو پست رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور اپنی آواز کو پست رکھو۔"
بچے نہایت دلچسپی سے یہ بیان سن رہے تھے۔ استاد صاحب نے بتایا کہ مختلف مشینوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس، گرد و غبار اور دھواں ہوا میں شامل ہو کر ماحول کو آلودہ بنا دیتے ہیں۔ جدید تحقیقات کے مطابق، گھروں میں کھانا پکانے کے دوران اٹھنے والے دھوئیں سے خواتین اور بچے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کھانا پکانے کے لیے محفوظ چولہے فراہم کر دیے جائیں، تو دنیا میں لاکھوں افراد کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ آپ ﷺ نے پانی کو آلودگی سے بچانے کے لیے برتن میں سانس لینے یا پھونکنے سے بھی منع فرمایا ہے: "جب تم میں سے کوئی پانی پیے، تو برتن کے اندر سانس نہ لے۔"
پروگرام سے بچوں کی معلومات میں بے پناہ اضافہ ہوا اور انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ شجر کاری مہم شروع کریں گے، درختوں کی بے جا کٹائی پر پابندی کے لیے آواز اٹھائیں گے اور محمد ﷺ کے فرامین پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
حامد گھر پہنچا اور گھر والوں کو پروگرام کی ساری تفصیل بتائی۔ اس کے گھر والے یہ پیغام سن کر بہت خوش ہوئے اور مشورہ دیا: "بیٹا! آج سے ہی ہم سب مل کر نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان سب کو سناتے ہیں اور اپنے گھر سے شجر کاری کا آغاز کرتے ہیں۔ جب تک ہم سب متحد نہیں ہو جاتے، ہم اپنے ملک پاکستان کی ترقی کے لیے خدمات انجام نہیں دے سکتے۔" حامد نے شجر کاری مہم کے لیے بینرز چھپوائے اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر انہیں دوسرے شہروں میں بھی تقسیم کیا۔
دادا جان کو جب خبر ملی کہ حامد نبی کریم ﷺ کا فرمان امتِ مسلمہ تک پہنچا رہا ہے، تو وہ بہت خوش ہوئے۔ ہمارے ملک پاکستان کی ترقی اور انسانی صحت کے لیے ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ بہت ضروری ہے۔ ایک انسان کی جان بچانا، گویا ساری انسانیت کی جان بچانا ہے۔ دادا جان نے حامد کو شاباشی دی اور کہا: "بیٹا! صحت مند زندگی گزارنے کا حق ہر انسان کو ہے۔"
دادا جان نے محلے داروں کے ساتھ مل کر دور دراز علاقوں میں خود بھی شجر کاری مہم شروع کر دی۔ انہوں نے جنگلات کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی اہلکار مقرر کیے تاکہ دشمن عناصر سے جنگلات اور جانوروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ جانوروں کے لیے بھی صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ جنگلات کی کٹائی کو روکا جائے اور لکڑیوں کو بلاوجہ جلانے سے گریز کیا جائے۔ گاڑیوں اور کارخانوں کا دھواں فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔ ہمارے ملک پاکستان کے غریب طبقات کے لیے ہسپتالوں کے اخراجات اٹھانا ناممکن ہوتا ہے، اس لیے غریبوں کے لیے مفت ہسپتال اور ادویات کی سہولت ہونی چاہیے۔
دادا جان نے محلے کے لوگوں کو اکٹہا کر کے ایک ریلی نکالی اور ماحولیاتی آلودگی کے پیغام کو عام کر کے امن کی فضا قائم کر دی۔ حامد اور اس کے دوست پودے لگانے میں کامیاب ہو گئے اور اب اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی شجر کاری کا آغاز ہو چکا تھا۔ اسکول کی تمام طالبات نے خوشی خوشی پودے لگائے۔
حامد اپنے مشن میں کامیاب ہو کر اگلے دن اسکول گیا۔ کلاس میں استانی صاحبہ نے پوچھا: "کس کس نے شجر کاری مہم میں حصہ لیا؟" حامد اور کلاس کے تمام بچوں نے ہاتھ اٹھایا۔ استانی صاحبہ نے سب کو شاباشی دی۔ حامد نے بتایا کہ کس طرح دادا جان نے لوگوں کے ساتھ مل کر شجر کاری کی، ریلی نکالی، جنگلات کی حفاظت کے لیے گارڈز رکھوائے، اور لکڑی جلانے و درختوں کی کٹائی سے بچاؤ کی مہم چلائی۔ ہر فرد محمد ﷺ کا فرمان سن کر بیدار ہو گیا تھا اور سب نے پختہ ارادہ کیا کہ مل کر پاکستان سے آلودگی کا خاتمہ کریں گے۔ اگر ہر گھر میں صفائی کا خیال رکھا جائے گا تو ماحول پرسکون ہو جائے گا۔
"صفائی نصف ایمان ہے۔" اللہ تعالیٰ صاف ستھرا رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ماحول کے ساتھ ساتھ انسان کے دل کی صفائی بھی بہت ضروری ہے۔ جب تک ہمارا دل صاف نہیں ہوگا، تب تک ہماری روحانی صحت بھی اچھی نہیں ہو سکتی۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ دل کو تمام برائیوں سے پاک رکھنے کے لیے نماز کی پابندی کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ کا ذکر ہی دلوں کا چین ہے۔ اپنے ہر مسئلے میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں اور انسانوں سے امیدیں نہ لگائیں۔ پودوں کو وقت پر پانی دیا جائے، اچھی کھاد اور اچھے بیجوں کا استعمال کیا جائے تاکہ درختوں کی نشوونما بہترین ہو۔ درختوں سے ہمیں بیش بہا فوائد حاصل ہوتے ہیں، ان سے تازہ ہوا ملتی ہے، ماحول صاف ہوتا ہے اور ہریالی خوبصورت ترین لگتی ہے۔
مزید پڑھیں






