حسابِ زندگی: ایک مزاحیہ و فکری انشائیہ۔۔۔ضرب اور تقسیم،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ،قسط 2
نقطہ نظر
زندگی بھی ایک حساب ہے مگر اس کا نصاب کسی مدرسے میں مکمل نہیں ہوتا۔ یہاں جمع و تفریق کے بعد ضرب اور تقسیم کی باری آتی ہے۔ جمع میں آدمی چیزیں اکٹھی کرتا ہے، تفریق میں کچھ کھوتا ہے، ضرب میں اپنے اثرات کئی گنا بڑھاتا ہے اور تقسیم میں دوسروں کے حصے کا تعین کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زندگی کے اس حساب میں اعداد سے زیادہ نیتوں کا دخل ہوتا ہے اور نتیجے سے زیادہ طریقۂ حساب اہمیت رکھتا ہے۔
ضرب حساب کا تیسرا قاعدہ ضرب ہے۔ ریاضی میں ضرب کا مطلب کسی عدد کو بار بار جمع کرنا ہے لیکن زندگی میں ضرب کے معنی کچھ وسیع ہو جاتے ہیں۔ یہاں ہر شخص کسی نہ کسی کو ضرب دے رہا ہوتا ہے۔ کوئی محبت کی ضرب لگاتا ہے، کوئی نفرت کی، کوئی علم کی اور کوئی اپنے اختیار کی۔ بعض لوگ اپنی ذات کو ضرب دیتے دیتے اس قدر بڑھا لیتے ہیں کہ دوسروں کے لیے جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔
ضرب کی کئی قسمیں ہیں: ضربِ خفیف، ضربِ شدید اور ضربِ کاری۔ ان میں پہلی قسم وہ ہے جو آدمی کی عزتِ نفس پر آہستہ سے لگتی ہے، دوسری وہ جو اس کے اعتماد کو ہلا دیتی ہے اور تیسری وہ جس کے بعد آدمی بظاہر زندہ رہتا ہے مگر اندر سے کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔ جسمانی ضرب کی بھی کئی اقسام ہیں: پتھر کی ضرب، لاٹھی کی ضرب اور بندوق کی ضرب۔ ان سب کے نتائج الگ ہو سکتے ہیں مگر ایک بات مشترک ہے کہ ضرب لگانے والا عموماً اپنی قوت کا حساب رکھتا ہے، اس کے اثرات کا نہیں۔
علامہ اقبال کی ضربِ کلیم اس کے برعکس جمود، غلامانہ ذہنیت اور خود فریبی پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ انسان کو توڑتی نہیں بلکہ جگاتی ہے اور اسے اپنی اصل قوت سے آشنا کرتی ہے۔ افسوس کہ ہم نے ضرب کے اس تعمیری مفہوم کو کم ہی سمجھا۔ ہمیں دوسروں کو نیچا دکھانے میں زیادہ لطف آتا ہے، اپنے اندر کی پستی پر ضرب لگانے میں کم۔
زندگی میں ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے ضرب دیں تو حاصلِ ضرب بھی آدمی ہی ہونا چاہیے لیکن زندگی کے سوالات اتنے سیدھے نہیں ہوتے۔ کبھی دو اچھے انسانوں کے ملنے سے ایک بہتر معاشرہ وجود میں آتا ہے، کبھی دو خود غرض لوگ مل کر ایک پورا ادارہ بنا لیتے ہیں اور کبھی ایک ظالم کی طاقت میں دوسرے ظالم کا اضافہ ہو جائے تو حاصلِ ضرب ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس سے پورا معاشرہ خوف کھانے لگتا ہے۔
ایک استاد کی توجہ طالب علم کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ ایک باپ کی حوصلہ افزائی بیٹے میں اعتماد پیدا کر سکتی ہے جب کہ ایک افسر کی تحقیر کسی ملازم کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔ گویا اصل سوال یہ نہیں کہ ضرب کتنی طاقت سے لگائی گئی بلکہ یہ ہے کہ کس چیز پر لگائی گئی اور اس سے کیا پیدا ہوا۔ اگر ضرب جہالت پر ہو تو علم بڑھتا ہے، اگر ظلم پر ہو تو انصاف کا امکان پیدا ہوتا ہے لیکن اگر کسی کمزور انسان پر ہو تو صرف اس کی کمزوری بڑھتی ہے۔
ضرب کے بعد حساب کا ایک اور ضروری قاعدہ تقسیم ہے۔ بظاہر یہ بہت آسان عمل ہے: ایک چیز لیجیے اور اسے کئی حصوں میں بانٹ دیجیے۔ مگر زندگی میں تقسیم کا سوال سامنے آئے تو اچھے اچھوں کی ریاضی جواب دے جاتی ہے۔ یہاں مسئلہ حصے بنانے کا نہیں، اپنے حصے کا تعین کرنے کا ہوتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ تقسیم انصاف کے اصول پر ہو لیکن انصاف کا اصول اکثر اسی وقت یاد آتا ہے جب اپنے حصے میں کمی کا اندیشہ پیدا ہو۔
تقسیم کی کئی صورتیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔ کہیں اندھوں میں ریوڑیاں بانٹی جاتی ہیں، کہیں بندر بلیوں میں روٹی تقسیم کرتا ہے اور کہیں چور آپس میں مال بانٹتے ہیں۔ ان سب مثالوں میں ایک قدر مشترک ہے: تقسیم کرنے والے کی نیت اور اختیار نتیجے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بندر اگر روٹی کے دونوں حصے خود کھا جائے تو اسے شاید انتظامی نااہلی کے بجائے اس کی فطرت قرار دے دیا جائے لیکن جب انسان یہی کام کرتا ہے تو اسے اصول، مصلحت اور مجبوری کے خوب صورت نام دے دیتا ہے۔
ہمارے ہاں تقسیم کا ایک آزمودہ اصول یہ بھی ہے کہ اختیار اپنے پاس رکھیے اور ذمہ داری دوسروں کے سپرد کر دیجیے۔ کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھیے اور ناکامی کا بوجھ ماتحتوں میں بانٹ دیجیے۔ منافع آئے تو اسے اپنی قابلیت کا ثبوت سمجھیے اور نقصان ہو تو حالات اور دوسروں کی نااہلی کو موردِ الزام ٹھہرائیے۔ اس حساب میں بڑے بڑے ماہر کامیاب رہتے ہیں کیونکہ حساب کی جانچ کرنے والا بھی اکثر اسی تقسیم سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔
تقسیم کا یہی اصول گھر سے دفتر اور دفتر سے ایوانِ اقتدار تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک شخص محنت کرتا ہے اور دوسرا اس محنت کا صلہ وصول کرتا ہے۔ کوئی وسائل پیدا کرتا ہے اور کوئی ان کی تقسیم کے ضابطے بناتا ہے۔ جب محنت اور صلے، ذمہ داری اور اختیار، قربانی اور فائدے کے درمیان توازن قائم نہ ہو تو تقسیم کا عمل جاری رہتا ہے مگر انصاف وجود میں نہیں آتا۔
اس کے باوجود ہر تقسیم بری نہیں ہوتی۔ خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے، غم بانٹنے سے ہلکا ہوتا ہے اور علم بانٹنے سے پھیلتا ہے۔ محبت ان چند نعمتوں میں سے ہے جو تقسیم ہونے کے باوجود کم نہیں ہوتی۔ کسی ضرورت مند کو اس کے حق کے مطابق مدد دینا انسان کی عظمت کو گھٹاتا نہیں بلکہ بڑھاتا ہے۔ علم، احترام، مواقع اور انصاف ایسی دولتیں ہیں جنہیں دوسروں تک پہنچانے سے معاشرہ خوش حال ہوتا ہے۔
زندگی کی اچھی تقسیم وہ نہیں جس میں ہر شخص کو ایک جتنا حصہ ملے بلکہ وہ ہے جس میں ہر شخص کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ بھوکے اور آسودہ حال کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا حساب کی سادگی تو ہو سکتی ہے، انصاف نہیں۔ کسی محروم کو اس کا حق دینا احسان نہیں، اور کسی صاحبِ اختیار سے اس کے حصے کا جواب مانگنا گستاخی نہیں۔
تقسیم کا سب سے بڑا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب بانٹنے والے کو اپنے حصے میں کمی قبول کرنا پڑے۔ دوسروں کو قربانی کا مشورہ دینا آسان ہے، اپنی آسائش کم کرنا مشکل۔ دوسروں کو قناعت کی تلقین کرنا سہل ہے، اپنے لالچ کو لگام دینا دشوار۔ ہم اکثر چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام لوگ قناعت پسند ہو جائیں، سوائے اس شخص کے جس کا عکس ہمیں آئینے میں دکھائی دیتا ہے۔
حاصلِ حسابِ حسابِ زندگی کے یہ دونوں قاعدے ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھاتے ہیں۔ ضرب انسان کی قوت کو ظاہر کرتی ہے اور تقسیم اس کے کردار کو۔ ضرب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کہاں استعمال کرتا ہے اور تقسیم سے پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود چیزوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ ایک انسان دوسروں کی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے اور وہی انسان ان کی محرومیوں میں بھی کئی گنا اضافہ کر سکتا ہے۔
زندگی کا حساب مشکل اس لیے نہیں کہ اس میں اعداد زیادہ ہیں بلکہ اس لیے کہ ہم نے اپنے مفادات کو حساب کا بنیادی اصول بنا لیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر سوال کا جواب ہمارے حق میں نکلے، ہر تقسیم میں ہمارا حصہ بڑا ہو اور ہر ضرب کا اثر دوسروں پر پڑے۔ ہم دوسروں کی غلطیوں کا حساب رکھتے ہیں مگر اپنی زیادتیوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یوں زندگی کی کتاب میں حساب تو درست دکھائی دیتا ہے مگر انصاف کا خانہ خالی رہ جاتا ہے۔
شاید زندگی کی اصل کامیابی یہی ہے کہ آدمی اپنی قوت کو کسی کمزور کو گرانے کے بجائے اسے اٹھانے کے لیے استعمال کرے اور تقسیم کے وقت یہ دیکھے کہ کسی کا جائز حق تو نہیں مارا جا رہا۔ ہر ضرب کے بعد سوچے کہ اس سے کیا ٹوٹا اور کیا بنا اور ہر تقسیم کے وقت پوچھے کہ اس کے حصے میں انصاف کتنا آیا۔
کیونکہ آخری حساب میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ ہم نے کتنی چیزیں جمع کیں، کتنے لوگوں پر اپنی قوت آزمائی اور کتنے حصے اپنے نام کروائے۔ اصل سوال یہ ہو گا کہ ہماری موجودگی سے دوسروں کی زندگی میں کیا اضافہ ہوا اور ہمارے ہاتھوں ہونے والی تقسیم میں انصاف کتنا تھا۔
حسابِ زندگی کی یہی وہ کتاب ہے جس میں جواب صرف ہندسوں سے نہیں، کردار سے لکھے جاتے ہیں اور اس کتاب کا سب سے کٹھن سوال شاید یہی ہے کہ ہم نے دوسروں کو ضرب دے کر کتنا بڑھایا اور تقسیم کے وقت اپنے اندر سے کتنا نکالا۔
مزید پڑھیں





