خاموش اکثریت: ایک عام پاکستانی کی اَن کہی کہانی،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
پاکستان کی سڑکوں پر ہر روز لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں۔ کوئی دفتر جانے کے لیے بس کے دھکے کھاتا ہے، کوئی موٹر سائیکل پر اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر گرد و غبار نگلتا ہے، کوئی ریڑھی لگاکر رزق تلاش کرتا ہے اور کوئی ایک چھوٹی سی تنخواہ میں پورے مہینے کا حساب بٹھانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ ان چہروں میں ایک چیز مشترک ہے؛ سب کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ملک کا پہیہ چلاتے ہیں، بازاروں کو آباد رکھتے ہیں، عمارتیں تعمیر کرتے ہیں، فصلیں اگاتے ہیں اور اپنے ٹیکس سے ریاستی نظام کو سہارا دیتے ہیں، لیکن جب ان کے اپنے مسائل کی باری آتی ہے تو ان کی آواز کہیں فائلوں، وعدوں اور تقریروں کے درمیان گم ہوجاتی ہے۔ یہی پاکستان کی خاموش اکثریت ہے، جس کی محنت پر نظام کھڑا ہے، مگر جس کی مشکلات اکثر نظام کی ترجیحات سے باہر رہتی ہیں۔
ایک مزدور صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا ہے تو اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ شام کو کتنی مزدوری ملے گی، مگر اسے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ گھر واپس خالی ہاتھ نہیں جانا۔ ایک باپ بازار میں بچوں کی پسندیدہ چیز اٹھاتا ہے، قیمت دیکھتا ہے اور خاموشی سے واپس رکھ دیتا ہے۔ ایک ماں باورچی خانے میں کھڑے ہوکر حساب لگاتی ہے کہ آٹا، دال، بجلی کا بل اور بچوں کی فیس ادا کرنے کے بعد مہینے کے باقی دن کیسے گزریں گے۔ ان لوگوں کی زندگی میں غربت صرف پیسوں کی کمی کا نام نہیں؛ یہ خواہشات کو بار بار دفن کرنے، اپنی ضرورت کو مؤخر کرنے اور بچوں کے سامنے بے بسی چھپانے کا نام بھی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ معاشی اعداد و شمار میں ان کی مشکلات محض شرحِ مہنگائی یا قوتِ خرید میں کمی بن کر رہ جاتی ہیں، حالاں کہ ہر عدد کے پیچھے ایک گھر، ایک خاندان اور کئی ادھورے خواب موجود ہوتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر عام پاکستانی کب تک اپنی بنیادی ضروریات کو احسان سمجھ کر حاصل کرتا رہے گا؟ صاف پانی، معیاری تعلیم، مناسب علاج، محفوظ ماحول اور باعزت روزگار کسی ریاست کی طرف سے رعایت نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق ہیں۔ اگر ایک بیمار شخص علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو، اگر ایک قابل نوجوان سفارش کے بغیر روزگار حاصل نہ کرسکے، اگر ایک طالب علم محض وسائل کی کمی کے باعث اپنی صلاحیتوں کو آگے نہ بڑھا سکے تو مسئلہ صرف ان افراد کی قسمت کا نہیں، اس نظام کا بھی ہے جو مواقع کی منصفانہ تقسیم یقینی نہیں بنا سکا۔ کسی قوم کی ترقی کا پیمانہ بلند عمارتیں، نئی سڑکیں یا بڑے منصوبے ہی نہیں ہوتے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان سب کے باوجود عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی۔
ہماری سیاست میں عوام کا ذکر بہت ہوتا ہے۔ جلسوں میں ان کے نام پر نعرے لگتے ہیں، انتخابی مہمات میں ان کے مسائل گنوائے جاتے ہیں اور اقتدار کے حصول کے لیے ان کے خوابوں کو زبان دی جاتی ہے۔ لیکن انتخابی موسم گزرنے کے بعد یہی شہری اپنے پرانے سوالات کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ بجلی کے بل میں اضافے کی شکایت کہاں لے کر جائے، سرکاری دفتر میں اپنا جائز کام کروانے کے لیے کتنے دروازے کھٹکھٹائے یا اپنے بچے کے مستقبل کے لیے کس سے امید باندھے۔ جمہوریت کا حسن صرف ووٹ ڈالنے کے عمل میں نہیں، بلکہ اس تسلسل میں ہے جس کے تحت منتخب نمائندے شہریوں کے سامنے جواب دہ رہیں۔ اگر عوام کو صرف انتخابات کے دن یاد کیا جائے تو یہ عوامی خدمت نہیں، عوامی اعتماد کا استحصال ہے۔
اس خاموشی کو صرف خوف یا بے حسی قرار دینا بھی ناانصافی ہوگی۔ بہت سے لوگ اس لیے نہیں بولتے کہ انہیں اپنی روزی کی فکر ہے، کسی کو نوکری چھن جانے کا اندیشہ ہے، کسی کو کاروبار متاثر ہونے کا خوف ہے اور کوئی پہلے ہی روزمرہ کی جدوجہد سے اتنا تھک چکا ہے کہ احتجاج کے لیے توانائی نہیں بچتی۔ جب انسان کی ساری قوت گھر کا چولہا جلانے میں صرف ہوجائے تو وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ کہاں سے لائے؟ مگر یہ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ مسلسل مایوسی کا نتیجہ ہوتی ہے؛ ایسا احساس کہ بولنے سے کیا بدلے گا، شکایت کرنے سے کیا حاصل ہوگا اور سوال اٹھانے کی قیمت کون ادا کرے گا؟ کسی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ خطرناک صورتِ حال کیا ہوگی کہ اس کے شہری مسائل تو محسوس کریں، مگر تبدیلی کی امید کھو بیٹھیں۔
تاہم، ہر خرابی کا ذمہ دار صرف حکمرانوں کو قرار دے کر ہم اپنی اجتماعی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ جب ہم سفارش کو قابلیت پر ترجیح دیتے ہیں، اپنے فائدے کے لیے قانون توڑتے ہیں، کمزور کا حق دباتے ہیں، غلط بات پر خاموش رہتے ہیں اور اختلاف کرنے والے کو دشمن سمجھتے ہیں تو اسی ناانصافی کو اپنی سطح پر مضبوط کرتے ہیں جس کی شکایت ریاست سے کرتے ہیں۔ تبدیلی کا آغاز صرف ایوانوں سے نہیں ہوتا؛ یہ گھر، تعلیمی ادارے، دفتر، بازار اور ہماری روزمرہ ترجیحات سے بھی شروع ہوتی ہے۔ البتہ شہری ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے بچ نکلے۔ فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہے اور اداروں کو اپنا فرض پورا کرنا ہے۔ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد اسی توازن پر قائم ہوتی ہے۔
پاکستان کی خاموش اکثریت کو خیرات نہیں، مواقع چاہییں؛ کھوکھلے وعدے نہیں، قابلِ پیمائش نتائج چاہییں؛ نمائشی ہمدردی نہیں، ایسا نظام چاہیے جس میں ایک عام شہری کی شکایت بھی اتنی ہی اہم ہو جتنی کسی بااثر شخص کی درخواست۔ اسے ایسا ماحول درکار ہے جہاں قابلیت سفارش سے نہ ہارے، قانون دولت کے سامنے نہ جھکے اور عزت کا معیار عہدہ یا بینک بیلنس نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے شفاف احتساب، معیاری سرکاری خدمات، منصفانہ معاشی مواقع اور شہریوں کی مؤثر شمولیت ناگزیر ہیں۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ عام پاکستانی خاموش کیوں ہے؛ سوال یہ ہے کہ اس کی آواز سننے کے لیے ہمارے کان کب کھلیں گے؟ کتنے نوجوانوں کو مایوسی میں بیرونِ ملک اپنا مستقبل تلاش کرنا ہوگا، کتنے والدین اپنی ضروریات قربان کریں گے اور کتنے خاندان ہر ماہ بقا کی نئی جنگ لڑیں گے، تب جاکر ہم سمجھیں گے کہ مسئلہ کتنا سنگین ہے؟ کسی ملک کی اصل طاقت اس کے حکمرانوں کے بلند دعووں میں نہیں، اس عام شہری کے اعتماد میں ہوتی ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے وطن سے امید وابستہ رکھتا ہے۔ اس امید کو کمزوری سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ کیونکہ خاموش اکثریت ہمیشہ خاموش نہیں رہتی؛ کبھی اس کی آواز سوال بن جاتی ہے، کبھی فیصلہ، اور کبھی تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس آواز کو کسی بڑے احتجاج یا انتخابی نتیجے کا انتظار کیے بغیر سنا جائے، ورنہ کل یہی سوال ہماری قومی تاریخ کے سامنے کھڑا ہوگا: جب عوام بول نہیں پا رہے تھے، تو ان کی خاموشی سمجھنے کی کوشش کس نے کی؟
مزید پڑھیں





