پچھتاوا ایک ایسی سزا ہے جو انسان خود کو دیتا ہے۔ نہ اس میں کوئی جج ہوتا ہے، نہ کوئی عدالت، بس ایک لمحہ ہوتا ہے جو گزر جاتا ہے اور پھر ساری عمر اس لمحے کی گونج سنائی دیتی ہے۔
زید نے زندگی میں سب کچھ کمایا تھا۔ شہر میں بڑا گھر، بڑی گاڑی، بینک میں پیسہ۔ گاؤں کے لوگ اس کی مثال دیتے تھے۔ لیکن اس سب کے بیچ اس نے ایک چیز کھو دی تھی، وہ تھی ماں کی آواز۔
ماں گاؤں میں اکیلی رہتی تھی۔ باپ کے جانے کے بعد اس نے ضد کر لی تھی کہ وہ گھر نہیں چھوڑے گی۔ زید ہر مہینے پیسے بھیج دیتا، نوکر کا بندوبست کر دیا، لیکن خود سال میں ایک بار بھی مشکل سے جاتا۔ ماں جب بھی فون کرتی، ایک ہی بات کہتی، "پتر، کب آئے گا؟"
اور زید کا ایک ہی جواب ہوتا، "ماں بہت مصروف ہوں، اگلے مہینے آؤں گا۔"
یہ اگلا مہینہ کبھی نہ آیا۔
ایک بار عید سے دو دن پہلے ماں کا فون آیا۔ آواز کانپ رہی تھی۔ بولی، "پتر، میری طبیعت ٹھیک نہیں، آ جائے گا تو دل کو سکون آ جائے گا۔"
زید نے کہا، "ماں، عید پر آؤں گا، تم فکر نہ کرو، ڈاکٹر کو بلا لو۔"
فون بند ہو گیا۔ زید اپنی میٹنگ میں لگ گیا۔
عید والی رات زید گھر کے لیے نکلنے والا تھا کہ اس کے چھوٹے بھائی کا فون آیا۔ روتے ہوئے بولا، "بھائی، ماں نہیں رہی۔"
گاڑی سڑک پر تھی، لیکن زید کا دماغ کہیں اور تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ پچھلے تین سال میں اس نے ماں کو کتنی بار "اگلے مہینے" کہا تھا۔ وہ اگلا مہینہ کبھی کیلنڈر پر نہیں آیا۔
جب وہ گاؤں پہنچا تو گھر میں رش تھا۔ ماں چارپائی پر سفید چادر میں لیٹی تھی۔ چہرے پر وہی سکون تھا۔ پاس ہی اس کی چھوٹی سی پوٹلی رکھی تھی۔ بھائی نے بتایا، "ماں نے تمہارے لیے رکھے تھے۔"
پوٹلی کھولی تو اس میں ایک سویٹر تھا۔ آدھا بنا ہوا، آدھا ادھورا۔ ساتھ ایک پرچی تھی، ٹوٹے ہوئے لفظوں میں لکھا تھا، "زید کے لیے، سردی بہت ہے۔"
زید کے ہاتھ سے وہ سویٹر گر گیا۔ وہ ماں جو ٹھیک سے دیکھ نہیں سکتی تھی، جس کے ہاتھ کانپتے تھے، وہ اس کے لیے سردیوں میں سویٹر بُن رہی تھی اور وہ بیٹا ایک فون کال کے لیے وقت نہیں نکال سکا۔
لوگ کہہ رہے تھے، "صبر کر لو۔" لیکن صبر کہاں سے آتا؟ پچھتاوا تو صبر کو کھا جاتا ہے۔
آج زید کا گھر اور بڑا ہو گیا ہے۔ گاڑی بھی نئی آ گئی ہے۔ لیکن اب جب رات کو وہ چھت پر بیٹھتا ہے تو اسے ماں کی وہ آخری کال یاد آتی ہے۔ "پتر، آ جائے گا تو دل کو سکون آ جائے گا۔" اور وہ سوچتا ہے، سکون تو ماں کو نہیں، اسے خود کو چاہیے تھا۔
ماں نے تو اپنی ساری زندگی پچھتاوے کے بغیر گزار دی۔ اس نے جو کیا، دل سے کیا۔ سویٹر پورا نہیں بنا سکی، لیکن محبت پوری تھی۔
ہم سب کی زندگی میں ایک "اگلا مہینہ" ہوتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ماں باپ ہمیشہ رہیں گے، دوست انتظار کریں گے، معافی کل مانگ لیں گے۔ لیکن وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
پچھتاوا تب ہوتا ہے جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ جب ہم اس قبر پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں، "کاش میں آ جاتا۔"
کاش...
یہ دنیا کا سب سے چھوٹا لفظ ہے، لیکن سب سے بھاری۔
زید نے اس دن کے بعد ایک فیصلہ کیا۔ وہ ہر شام گاؤں کے قبرستان جاتا ہے۔ ماں کی قبر پر بیٹھتا ہے اور دیر تک باتیں کرتا ہے۔ لوگ اسے پاگل سمجھتے ہیں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اب یہی اس کی سزا بھی ہے اور عبادت بھی۔
اگر آپ کے پاس کوئی ایسا ہے جو آپ کے "اگلے مہینے" کا انتظار کر رہا ہے، تو خدارا آج ہی چلے جاؤ۔ کیونکہ کل جب وہ نہیں ہوگا تو آپ کے پاس دولت ہوگی، شہرت ہوگی، سب کچھ ہوگا، بس ایک چیز نہیں ہوگی، سکون۔
اور سکون کبھی پیسوں سے نہیں، صرف وقت دینے سے ملتا ہے۔
مزید پڑھیں






