وزیراعظم کا گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کسانوں کو ریلیف دینے اور آئندہ سال گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے 2027 کی گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق گندم کی مجوزہ قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1000 روپے فی من اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ برس گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ گندم کی مجوزہ قیمت میں اضافے کا مقصد کسانوں کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔ کسانوں کو گندم کی کاشت کی مؤثر ترغیب دینا بھی اس فیصلے کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نئی مجوزہ قیمت سے کاشت کاروں کو پیداواری اخراجات پورے کرنے اور مناسب منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس سے آئندہ سیزن میں گندم کی کاشت اور ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران مہنگائی اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا رہا، جبکہ پاکستان کو گزشتہ دو برسوں میں گندم درآمد بھی کرنا پڑی۔انہوں نے کہا کہ گندم کی مجوزہ قیمت میں اضافے کا فیصلہ ملکی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی اور زرعی شعبے میں استحکام لانے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کے لیے مشاورتی عمل میں تعاون اور قابلِ قدر تجاویز دینے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔وزیراعظم نے اس اقدام کو کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی معیشت کے استحکام اور پاکستان کو غذائی ضروریات میں خودکفیل بنانے کی کوششوں کا اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ قیمت کے تعین سے کسان گندم کی کاشت میں زیادہ دلچسپی لیں گے اور 2027 میں زرعی شعبے اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
مزید پڑھیں





