گرتے ہوئے پتوں کی خاموشی ،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
خزان کی آمد پر کسی بوڑھے شجر کی سب سے اونچی ٹہنی سے ایک زرد اور سوکھا ہوا پتا ٹوٹ کر زمین کی طرف سفر کرتا ہے۔ وہ کوئی شور نہیں مچاتا۔ وہ ہوا کے دوش پر ایک آخری بار لہراتا ہے اور ایک الوداعی رقص کرتا ہوا چپکے سے مٹی کی آغوش میں جا سوتا ہے۔ گرتے ہوئے پتوں کی یہ خاموشی کائنات کا ایک ایسا پوشیدہ نوحہ ہے جسے سننے کے لیے کانوں کی نہیں بلکہ ایک حساس دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ گرتا ہوا پتا دراصل کسی شجر کا زوال نہیں۔ دراصل یہ ہم انسانوں کے لیے ایک چلتا پھرتا آئینہ ہے جو ہماری مادی عقل کو کائنات کے ازلی قوانین کا پتہ دیتا ہے۔ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے اور گھروں میں بھی خزاں کے ان پتوں جیسے کئی وجود پائے جاتے ہیں۔ یہ ہمارے گھروں کے وہ بزرگ ہیں جن کی عمر کی شام ہو چکی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی خود ایک ہرا بھرا اور گھنا شجر تھے۔ جنہوں نے اپنی جوانی کا خون پسینہ دے کر اس خاندان کی آبیاری کی اور سخت دھوپ میں خود جل کر اپنوں کو محبت اور تحفظ کا سایہ دیا۔ آج جب ان کی اپنی ٹہنیاں کمزور ہو چکی ہیں اور ان کے ہاتھوں میں لرزہ آ چکا ہے تو وہ گھر کے کسی اندھیرے یا الگ تھلگ کونے میں چپ چاپ بیٹھ گئے ہیں۔ بزرگوں کی یہ خاموشی کوئی عام سکوت نہیں ہوتا جسے محض عمر کا تقاضا کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ اس خاموشی کے پیچھے ماضی کی رنگین یادیں اور اپنوں کی بے توجہی کا گلہ چھپا ہوتا ہے۔ ہم اپنی ملازمتوں اور سوشل میڈیا کی اسکرینوں کی تیز رفتار دوڑ میں اتنے مگن ہو چکے ہیں کہ ہمیں ان کی اس خاموش پکار کو سننے کی مہلت ہی نہیں ملتی۔ وہ نئی نسل کے سامنے اپنی ضرورتوں کا کشکول نہیں پھیلاتے۔ وہ اپنی تنہائی کا رونا نہیں روتے ہیں۔ وہ خزان کے ان پتوں کی طرح بغیر کسی شکوے کے خاموشی سے اس دنیا سے رخصتی کے دن گن رہے ہوتے ہیں۔ وہ خاموشی سے دیکھتے ہیں کہ کس طرح وہ بچے جن کے لیے انہوں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی اب ان کے پاس بیٹھنے کے لیے پانچ منٹ بھی نہیں رکھتے۔ یہ زرد پڑتے پتے ہمیں زندگی کی ایک اور بڑی اور اٹل حقیقت بھی سکھاتے ہیں اور وہ حقیقت ہے عروج کے بعد زوال۔ انسان جب جوانی اور عہدے کے نشے میں ہوتا ہے تو وہ زمین پر اکڑ کر چلتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے وجود پر بھی ایک دن خزان کا موسم آئے گا۔ اس کی تمام تر طاقت مٹی میں مل جائے گی۔ جو پتا کبھی شجر کی سب سے اونچی شاخ پر لہراتا ہوا باقی پتوں کو حقیر سمجھتا تھا آج وہ راہگیروں کے قدموں تلے کچلا جا رہا ہوتا ہے۔ اس کی چرچراہٹ بھی کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کا ہر عروج عارضی ہے۔ غرور کا انجام صرف اور صرف مٹی ہے۔ کائنات کا یہ اصول ہے کہ یہاں ہر بہار کے مقدر میں ایک خزاں لکھی گئی ہے۔ جو اس حقیقت کو پا لیتا ہے وہ پھر کبھی تکبر کی دلدل میں نہیں گرتا۔ جدید دنیا میں جہاں ہم نے مادی ترقی کی نئی منزلیں طے کر لی ہیں وہاں ہم رشتوں کی حرارت اور بزرگوں کے احترام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ آج کا انسان بوڑھے والدین کو ایک ذمہ داری یا بوجھ سمجھنے لگا ہے۔ مغربی معاشروں کی اندھی تقلید میں اب ہمارے ہاں بھی اولڈ ایج ہومز کا تصور جڑ پکڑ رہا ہے جو کہ ہماری مشرقی اور اسلامی روایات کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ بزرگ ہمارے گھروں کی برکت اور رحمت کا سبب ہیں۔ ان کے اٹھتے ہوئے ہاتھ ہماری بلاؤں کو ٹالتے ہیں اور ان کی دعائیں ہمارے رزق میں برکت کا باعث بنتی ہیں۔ جب ہم ان کو ان کی عمر کے اس نازک حصے میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں تو ہم دراصل اپنے گھروں سے برکت کو رخصت کر دیتے ہیں۔ ہمیں زندگی کی اس اندھی اور بے رحم دوڑ میں کچھ لمحے رک کر اس خاموشی کو محسوس کرنا ہوگا۔ اپنے گھر کے ان زرد پتوں کو زمین پر گرنے اور بکھرنے سے پہلے اپنے محبت بھرے ہاتھوں سے تھامنا ہوگا۔ انہیں ہماری دولت یا عالی شان بنگلوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں صرف ہمارے وقت کے چند لمحے اور محبت کے دو بول چاہئیں۔ ان کے پاس بیٹھیے اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر ان کے چہرے کی جھریوں میں چھپی کہانیاں سنیے۔ یہ کہانیاں صرف گزرے ہوئے وقت کا قصہ نہیں بلکہ حکمت اور دانشمندی کا نچوڑ ہیں۔ اس سے پہلے کہ خزاں کی کوئی بے رحم اور اچانک ہوا انہیں ہم سے ہمیشہ کے لیے چھین لے اور ہمارے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ باقی نہ رہے۔ ان کے پاس بیٹھیں اور ان کی خزاں رسیدہ زندگی میں محبت اور احترام کے چند خوبصورت رنگ بھر دیں۔ یاد رکھیے جو رویہ آج ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ اختیار کر رہے ہیں کل ہماری اولاد بھی ہمارے ساتھ وہی رویہ اپنائے گی۔ وقت کا پہیہ ہمیشہ گھومتا رہتا ہے اور خزاں کا موسم ہر شجر پر آتا ہے۔
مزید پڑھیں





