جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امن اور شاعر،تحریر: شازیہ حنیف

نقطہ نظر

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جنگ کے شعلے بھڑکے، جب بھی انسان نے انسان کے خلاف تلوار اٹھائی، جب بھی نفرت نے محبت کے چراغ بجھانے کی کوشش کی، تب کسی نہ کسی گوشے سے ایک شاعر کی آواز ضرور بلند ہوئی۔ شاعر محض الفاظ کا کاریگر نہیں ہوتا ہے وہ اپنے عہد کا حساس ترین انسان ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کے دکھ کو محسوس کرتا ہے ـ زمانے کے زخموں کو پڑھتا اور پھر انہیں لفظوں میں ڈھال کر انسانیت کے سامنے رکھ دیتا ہے۔امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں۔ امن ایک ایسی اجتماعی کیفیت ہے جہاں انسان کو خوف کے بجائے تحفظ، نفرت کے بجائے محبت، ناانصافی کے بجائے انصاف اور محرومی کے بجائے امید میسر ہو۔ امن دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور پھر معاشروں تک پہنچتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے کیونکہ شاعر دل کی دنیا کا معمار ہوتا ہے ـشاعر جب محبت کی بات کرتا ہے تو وہ محض دو انسانوں کے درمیان تعلق کی بات نہیں کرتا بلکہ انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب وہ وطن، مٹی، درخت، پرندے، دریا اور آسمان کا ذکر کرتا ہے تو دراصل وہ انسان کو زندگی کی خوب صورتی سے روشناس کراتا ہے۔ ایک اچھا شعر انسان کے اندر موجود سختی کو نرم کر سکتا ہے اور ایک بامعنی نظم نفرت کے اندھیروں میں امید کی شمع روشن کر سکتی ہے۔ادب ہمیشہ سے انسانی شعور کی بیداری کا وسیلہ رہا ہے۔ شاعر اپنے قلم کے ذریعے سوال اٹھاتا ہے کہ آخر جنگ کیوں؟ خون بہانے کی ضرورت کیوں؟ کسی ماں کی گود اجڑنے کا جواز کیا ہے؟ کسی بچے کے ہاتھ میں کھلونے کے بجائے خوف کیوں ہونا چاہیے؟ کسی گھر کی کھڑکی سے صبح کی روشنی کے بجائے دھوئیں کے بادل کیوں دکھائی دیں؟یہ سوال بظاہر سادہ ہیں مگر تہذیب کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں ـشاعر کا قلم بندوق نہیں مگر اس کی تاثیر کسی ہتھیار سے کم نہیں۔ بندوق جسم کو زخمی کرتی ہے، جبکہ لفظ انسان کے شعور کو چھوتا ہے۔ ایک گولی کی عمر چند لمحے ہوتی ہے لیکن ایک سچا شعر نسلوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آمریت، جنگ اور جبر کے زمانوں میں بھی شاعری خاموش نہیں رہتی۔ کبھی وہ احتجاج بن جاتی ہے، کبھی دعا، کبھی نوحہ اور کبھی امید کا پیغام۔

ہمارے خطے کی ادبی روایت میں بھی امن، محبت، رواداری اور انسانی وقار کے موضوعات ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔ صوفی شعرا نے انسان کو تقسیم کرنے والی دیواروں کے بجائے محبت کے راستے دکھائے۔ انہوں نے ذات، رنگ، زبان اور طبقے سے بلند ہو کر انسان کو انسان کی حیثیت سے دیکھنے کا درس دیا۔ ان کی شاعری آج بھی اس لیے زندہ ہے کہ اس میں انسانیت کی خوشبو ہےـآج کا شاعر بھی اپنے عہد سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ دنیا جدید ٹیکنالوجی کے باعث ایک عالمی بستی بن چکی ہے، لیکن افسوس کہ انسان کے درمیان فاصلوں کی ایک نئی قسم بھی پیدا ہو رہی ہے۔ اختلافِ رائے بعض اوقات دشمنی بن جاتا ہے، سیاسی اور سماجی تقسیم نفرت کو جنم دیتی ہے، اور سوشل میڈیا پر الفاظ تلواروں کی طرح استعمال ہونے لگتے ہیں۔ ایسے ماحول میں شاعر کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے ـاسے لفظوں کے ذریعے آگ نہیں، روشنی پیدا کرنی ہے۔اسے اختلاف کو دشمنی بننے سے روکنے کے لیے مکالمے کی زبان اختیار کرنی ہے۔ اسے نوجوان نسل کو یہ احساس دلانا ہے کہ اختلافِ رائے انسانی معاشرے کی فطری ضرورت ہے، مگر اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام ممکن ہے۔ شاعر اگر اپنے قلم سے انسان کو دوسرے انسان کی تکلیف محسوس کرنا سکھا دے تو یہ امن کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔امن کے لیے صرف سرحدوں پر خاموشی کافی نہیں؛ گھروں میں بھی سکون چاہیے، اسکولوں میں بھی احترام چاہیے، معاشرے میں بھی انصاف چاہیے اور دلوں میں بھی برداشت چاہیے۔ جس معاشرے میں کمزور کی آواز نہ سنی جائے، وہاں خاموشی کو امن نہیں کہا جا سکتا۔ حقیقی امن وہ ہے جہاں انسان کو عزتِ نفس، انصاف اور اظہارِ رائے کا حق حاصل ہو۔یہاں شاعر کا قلم معاشرے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ وہ تلخ حقیقتوں کو چھپاتا نہیں بلکہ انہیں خوب صورت اور مؤثر الفاظ میں سامنے لاتا ہے۔ کبھی وہ حکمرانوں سے سوال کرتا ہے، کبھی معاشرے کے رویوں پر تنقید کرتا ہے اور کبھی عام انسان کو اس کے اپنے کردار کا احساس دلاتا ہے۔شاعر کا سب سے بڑا ہتھیار احساس ہے۔جس دل میں احساس زندہ ہو، وہاں نفرت مستقل گھر نہیں بنا سکتی۔ جو شخص دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے لگے، وہ جنگ کی خواہش نہیں کر سکتا۔ اسی لیے امن کی بنیاد دراصل انسانی احساس، برداشت، مکالمے اور باہمی احترام پر قائم ہوتی ہے ـہمیں آج ایسے شاعروں اور ادیبوں کی ضرورت ہے جو اپنے قلم کو نفرت کی تشہیر کے لیے نہیں بلکہ محبت کی تعمیر کے لیے استعمال کریں۔ ایسے الفاظ لکھے جائیں جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑیں، مایوس آنکھوں میں امید پیدا کریں، نوجوانوں کو تشدد کے بجائے علم کا راستہ دکھائیں اور معاشرے کو یہ باور کرائیں کہ اختلاف کے باوجود انسان ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔آخرکار شاعر دنیا کو اکیلا امن نہیں دے سکتا، مگر وہ امن کی ضرورت کا شعور ضرور پیدا کر سکتا ہے۔ وہ انسان کے اندر موجود انسان کو بیدار کر سکتا ہے۔ وہ یاد دلا سکتا ہے کہ ہماری شناخت ہماری نفرت نہیں، ہماری انسانیت ہے۔اور شاید یہی شاعر کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہے اور سب سے خوب صورت کامیابی بھی کہ اس کے الفاظ پڑھ کر کسی کے دل میں یہ خیال جنم لےـجنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا،زندگی ہمیشہ محبت کے راستے تلاش کرتی ہے۔امن کے سفر میں سپاہی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے، استاد ذہنوں کی تعمیر کرتا ہے، اور شاعر دلوں کی حفاظت کرتا ہے۔ جب یہ تینوں اپنے اپنے مقام پر انسانیت کی خدمت کریں تو معاشرہ صرف محفوظ نہیں ہوتا بلکہ خوب صورت بھی بن جاتا ہے ـکیونکہ امن صرف میدانِ جنگ کی خاموشی نہیں ـ امن وہ آواز ہے جو انسان کو انسان سے جوڑ دے۔ ایک شاعر اپنے الم کی داستان بھی شاعری کی صورت میں بیان کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے کیونکہ بعض دکھ اور تکالیف ایسی ہوتی ہیں جن کا ازالہ آنسو نہیں کرسکتے پھر شاعر اپنی شاعری کے روپ میں بیان کرکے غم ہلکا کرسکتا ہے ـ