جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹیکنالوجی، خفیہ نگرانی اورہماری ذمہ داری، تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

دُنیا میں ہونے والی سائنسی اور تکنیکی ترقی انسانی زندگی کو آسان بنانے، جرائم کی روک تھام اور معاشرتی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید کیمرے، اسمارٹ گلاسز اور خفیہ ریکارڈنگ آلات اسی ترقی کی مختلف شکلیں ہیں۔ تاہم، ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے بعض اوقات ذاتی مفادات، دوسروں کی تذلیل، بلیک میلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ پنجاب میں خفیہ کیمروں، کیمرہ پین اور کیمرے سے لیس اسمارٹ گلاسز کے استعمال اور فروخت پر پابندی کا حالیہ فیصلہ اسی مسئلے کی جانب توجہ دلاتا ہے۔


حکومتِ پنجاب نے اکتوبر 2026ء میں مخصوص خفیہ ریکارڈنگ آلات کے استعمال اور فروخت پر دفعہ 144 کے تحت تیس روزہ پابندی عائد کی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق، ایسے آلات کے ذریعے غیر قانونی نگرانی، ہراسانی، بلیک میلنگ، خواتین اور بچوں کی نجی زندگی میں مداخلت اور حساس معلومات کے افشا ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ حکم میں عام موبائل فون، لیپ ٹاپ، ہینڈ ہیلڈ ٹیبلٹس اور پی ٹی اے سے منظور شدہ متعلقہ آلات کو استثنا دیا گیا ہے، جبکہ مجاز قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے بھی مخصوص استثنا رکھا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس فیصلے کو تمام سکیورٹی کیمروں پر عمومی پابندی سمجھنے کے بجائے اس کے اصل دائرہ کار میں دیکھا جائے۔


سکیورٹی کیمرے: تحفظ کا مؤثر ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں سکیورٹی کیمروں نے جرائم کی روک تھام اور مجرموں کی شناخت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بازاروں، شاہراہوں، تعلیمی اداروں، بینکوں، رہائشی عمارتوں اور دیگر عوامی مقامات پر نصب کیمرے کسی واردات کے بعد تفتیشی اداروں کے لیے مفید شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔ اسٹریٹ کرائم، موٹر سائیکل چھیننے، چوری، اغوا اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرنے جیسے واقعات میں ویڈیو ریکارڈنگ ملزمان تک پہنچنے میں معاون ثابت ہو ئی ہے۔ لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کیمرے کی موجودگی ہر جرم کے خاتمے کی ضمانت نہیں۔ اس کی اَفادیت کا انحصار دُرست تنصیب، ریکارڈنگ کے محفوظ انتظام، بروقت تفتیش اور قانون کے مطابق شواہد کے استعمال پر ہے۔ اگر کیمرے موجود ہوں مگر ان کی نگرانی نہ کی جائے، یا ریکارڈنگ محفوظ رکھنے اور متعلقہ اِداروں تک پہنچانے کا مناسب نظام نہ ہو، تو ان کی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔

سکیورٹی کیمرے اور خفیہ ریکارڈنگ آلات میں بنیادی فرق ان کے مقصد، محلِ استعمال اور ریکارڈنگ کی نوعیت سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک نمایاں سکیورٹی کیمرہ عموماً کسی جگہ کی حفاظت کے لیے نصب کیا جاتا ہے، جبکہ قلم، عینک، گھڑی یا چابی کے گچھے میں چھپا ہوا کیمرہ کسی شخص کو یہ احساس بھی نہیں ہونے دیتا کہ اس کی تصویر یا گفتگو ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

یہی پہلو اسے خطرناک بنا سکتا ہے۔ کسی خاتون کی نجی ویڈیو بنانا، کسی بچے کی تصویر کو نامناسب مقاصد کے لیے استعمال کرنا، کسی شہری کی گفتگو محفوظ کرکے اسے بلیک میل کرنا یا کسی خاندان کے نجی معاملات کو سوشل میڈیا پر اچھال دینا محض ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نہیں، بلکہ انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایک مختصر ویڈیو کسی شخص کی برسوں کی عزت، خاندانی سکون اور سماجی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ ڈیجیٹل مواد ایک مرتبہ انٹرنیٹ پر پھیل جائے تو اسے مکمل طور پر ختم کرنا اکثر دشوار ہو جاتا ہے۔

کیا خفیہ ریکارڈنگ ہمیشہ غلط ہے؟…………اس سوال کا جواب محض ہاں یا نہیں میں نہیں دیا جا سکتا۔ صحافت میں بعض اوقات بدعنوانی یا عوامی مفاد سے متعلق معاملات سامنے لانے کے لیے خفیہ ریکارڈنگ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے ادارے مخصوص حالات میں مجاز قانونی طریقہ کار کے تحت نگرانی یا ریکارڈنگ کر سکتے ہیں۔ تاہم، عوامی مفاد کا دعویٰ ہر شخص کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت شروع کر دے۔

خفیہ ریکارڈنگ کو معمول بنانے کے بجائے اس کے لیے واضح قانونی جواز، مجاز ادارے کی منظوری جہاں لازم ہو، مقصد کی ضرورت اور تناسب کو اہمیت دینی چاہیے۔ صحافیوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی شخص کی نجی زندگی کو بلاوجہ موضوع نہ بنائیں اور حاصل شدہ مواد کی تصدیق، اس کے سیاق و سباق اور اشاعت کے ممکنہ نقصانات کو پیش نظر رکھیں۔ عوامی مفاد اور عوام کی محض تجسس پر مبنی دلچسپی میں فرق کرنا ایک ذمہ دار صحافت کی بنیادی شرط ہے۔

ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ضروری ہے کہ اک اخلاقی ضابطہ بنایا جائے۔ ہمارے ہاں مسئلہ صرف قانون سازی کا نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی سے متعلق اخلاقی شعور کی کمی کا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی شخص کی تصویر لینا، اس کی گفتگو ریکارڈ کرنا اور اس مواد کو آگے پھیلانا تین الگ مراحل ہیں، جن میں سے ہر ایک کے قانونی اور اخلاقی تقاضے ہو سکتے ہیں۔ کسی جگہ کیمرہ نصب کرتے وقت لوگوں کی نجی حدود کا خیال رکھا جائے، ریکارڈنگ تک رسائی محدود ہو، مواد محفوظ رکھا جائے اور اسے غیر متعلقہ افراد تک پہنچنے سے روکا جائے۔


تعلیمی اداروں، دفاتر، کاروباری مراکز اور گھروں میں کیمروں کا استعمال واضح حفاظتی مقاصد کے تحت ہونا چاہیے۔ نجی مقامات، خصوصاً بیت الخلا، تبدیلیء لباس کی جگہوں اور دیگر حساس ماحول میں خفیہ ریکارڈنگ انسانی وقار کے منافی ہے۔ اسی طرح کسی ویڈیو کو محض اس لیے شیئر نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سنسنی خیز ہے یا کسی کی تضحیک کا سبب بن سکتی ہے۔


حکومت کی ذمہ داری بھی محض پابندی عائد کرنے تک محدود نہیں۔ قانون کے دائرہ کار کی وضاحت، عوامی آگاہی، منصفانہ نفاذ اور جائز حفاظتی و صحافتی سرگرمیوں کے لیے واضح رہنمائی ضروری ہے۔ پابندی کے نفاذ میں عام سکیورٹی کیمروں اور مخصوص خفیہ نگرانی کے آلات کے درمیان فرق ملحوظ رکھا جانا چاہیے، تاکہ تحفظ کے مفید ذرائع غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہوں۔

جدید ٹیکنالوجی سے خوف زدہ ہونے کے بجائے ہمیں اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا سیکھنا ہوگا۔ کیمرہ کسی مظلوم کے لیے انصاف کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور کسی بے گناہ کی زندگی تباہ کرنے کا ہتھیار بھی۔ فرق اس آلے میں نہیں، اسے استعمال کرنے والے کی نیت، طریقہ کار اور قانون کی پاسداری میں ہے۔

ایک مہذب معاشرے میں ہر شہری کو تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن کسی دوسرے شہری کی عزت، نجی زندگی اور بنیادی آزادیوں کی قیمت پر نہیں۔ ہمیں ایسی ٹیکنالوجی درکار ہے جو جرائم کو بے نقاب کرے، نہ کہ انسانوں کی نجی زندگی کو تماشا بنائے۔ ترقی اسی وقت حقیقی معنوں میں ترقی کہلائے گی جب ہماری سائنسی صلاحیت کے ساتھ اخلاقی شعور بھی بڑھے، اور ہم یہ اصول تسلیم کر لیں کہ ”ہر وہ کام جو تکنیکی طور پر ممکن ہو، ضروری نہیں کہ اخلاقی اور قانونی طور پر جائز بھی ہو۔“پنجاب حکومت کا اس ضمن میں یہ انقلابی قدم لائقِ تحسین ہے۔ اور اس کی تقلید دوسری صوبائی حکومتوں کو بھی کرنا چاہیے۔ تاکہ بڑھتے ہوئے معاشرتی و سماجی مسائل پر پایا جاسکے۔ لیکن اس کارِ خیر کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے اجتناب کیا جائے۔