ہم ہی کیوں نظر انداز ہوتے ہیں؟تحریر:مرزا عارف رشید
نقطہ نظر
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سچ کہنے پر سچ لکھنے پر سچ بولنے پر ہم مذاق بن کر رہیں جاتے ہیں اگر آج کے دور میں ترقی کرنی ہے تو پھر اچھے سے جھوٹ بولنا آپکو آتا ہو ہمیشہ سچ بولنے پر سچ کہنے پر اپ کو پاگل کا خطاب ملے گا کوئی بھی اپ کو یہ نہیں کہے گا اپ نے کہا تو سچ ہے پر یہاں سچ بولنا منع ہے کچھ دن پہلے پنجاب حکومت کی طرف سے ایک نوٹس نظر میں آیا جس میں پنجاب حکومت نے کچھ نئے ضلعے بنانے بلکہ ضلعوں میں اضافہ کیا جوکہ خوش آئند بات ہے اور اضافہ ہونا بھی چاہئے لیکن افسوس پنجاب حکومت نے سب سے بڑی تحصیل احمد پور شرقیہ کو نظر انداز کر دیا گیا موجودہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے احمد پور شرقیہ میں انتخابی جلسے میں عوام سے کہا تھا اپکو کیا چاہیے مجھے بتاو تحصیل احمد پور شرقیہ کو ضلع بنانا ہے اگر ہماری حکومت مسلم لیگ ن منتخب ہوکر اقتدار میں آگئی تو سب سے پہلے احمد پور شرقیہ کو ضلع بناونگا وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کو کوئی بتائے کہ وفاق میں اور پنجاب میں آپکی حکومت ہے احمد پور شرقیہ کے جلسہ میں تمام بڑے بڑے لیڈرز بھی جلسے موجود تھے جنہوں میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے امیدوار سمیع گیلانی عثمان اویسی خالد وارن قاضی عدنان فرید اب کہا ہیں سب کو کیوں چپ سی لگ گئی ہے ان تمام مسلم لیگ کے جانثار اب کیوں بات نہیں کرتے قیام پاکستان کے موقع پر سب سے پہلے ریاست بہاول پور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا پھر کیا ہوا دوران الیکشن ضلع کے نام پر ووٹ لیا گیا اور ایک بار پھر احمدپور شرقیہ کی عوام کے ساتھ وعدہ پورہ نہ کیا گیا لارے میں رکھا گیا عیدالاضحٰی کی چھٹیاں چل رہی تھی میں نے بہت بار قلم کو اٹھایا اور پھر رکھ دیا میں بتانا یہ چاہتا تھا کہ ہم اپنے محسنوں کو کیوں بھول جاتے ہیں ہیں محسن بھی ایسے جنہوں نے اپنا سب کچھ وطن پر قربان کر دیا ہو اپنا تخت تاج اپنی تمام دولت اقتدار اور اپنی ریاست کی افواج اور بہاول پور کے محلات ہزاروں ایکڑ پر محیط چولستان اپنی اس وقت کے مورخ نے تاریخ میں کیا کچھ لکھا تھا کہ نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا آج بہاول پور کی ریاست کے عوام کے ساتھ زیادتی کیوں کی جارہی ہے آبادی کے لحاظ سے بھی رقبہ کے لحاظ سے تحصیل احمد پور شرقیہ کو ضلع بنانا چاہیے جنوبی پنجاب ہمیشہ سے محرومیوں کا شکار رہی ہے قیام کے موقعہ پر قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک روپے کے اسٹام پر اپنی پوری ریاست پاکستان کے حوالے کرنے والوں کے ساتھ ناانصافی کیوں کی جا رہی ہے اگر ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو نواب سر صادق محمد خان عباسی نے پاکستان کے لیئے کیا کچھ نہیں کیا 2013 میں جب حکومت میاں نواز شریف کی تھی تب بھی قاضی عدنان فرید اس وقت کے ایم پی اے احمد پور شرقیہ نے ضلع کے لیے قرداد پیش کی تھی رانا ثناء اللہ صوبائی وزیر قانون اور موجودہ میشر وزیر اعظم پاکستان نے احمد پور شرقیہ کو ضلع بنانے کا وعدہ بھی کیا تھا آج 2026 ہیں وہ تیرے وعدے وہ تیری قسمیں وفا نہ ہو سکی آبادی کے لحاظ سے پہلا حق تحصیل احمد پورشرقیہ کو ضلع بنانے کا ہے نواب سر صادق محمد خان نے جہاں پاکستان کے لیے اتنا سب کچھ کیا وہاں کراچی میں رہنے کے لیئے قائد اعظم محمد علی جناح کو گھر تک دیا اپنی ذاتی گاڑی تک دے دی اور خود گوشہ نشین والی زندگی بسر کی تاریخ لکھنے والے نے اور بھی بہت کچھ لکھا تھا لیکن افسوس ہمیشہ محسنوں کے ساتھ ہی کیوں اس طرح حق نہیں دیا جا رہا محسن پاکستان کو ہر طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے چاہیے ضلع کی بات ہو یا پھر نواب سر صادق محمد خان عباسی کی برسی کی دیکھنے والوں نے بھی ریاست بہاول پور میں بہت کچھ دیکھا تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی وقت اور حالات ایک جیسے نہیں رہتے قعلہ ڈیراور شاہی قبرستان میں 24 مئی کے موقع پر نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے کسی اہم شخصیات کے پاس وقت نہیں تھا ویسے تو بہاول پور میں بہت سی اہم شخصیات موجودہ ہیں لیکن 24 مئی کو تمام شخصیات بہت مصروف تھی اگر کہیی افتتاح کرنا ہوتا کسی کے پاس دعوت پر جانا ہوتا تو بھاگ کر جاتے ہمارے پاس ایسی اہم شخصیات بھی ہیں جن کو خود نمائی کرنے کا بہت شوق ہے ایوان میں کسی کو بھی بولنے نہیں دیتے کچھ عرصہ پہلے موصوف نےکہا تھا بہاول پور لاوارث تو نہیں پاکستان پر ریاست کے بہت سے احسانات ہیں اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی ریاست بہاول پور ہی تھی بڑی سی کرسی پر بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں کی تھی لیکن افسوس برسی کے موقع پر دور دور تک کوئی اہم شخصیات نظر نہیں آئی لال کارپٹ پر صرف تین شخصیات نظر آئِی جن میں شہزادہ گزین میاں عباسی پارلیمانی سیکرٹری اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ اور ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ انہوں نے نواب آف بہاول پور کی برسی پر نواب سر صادق محمد خان عباسی کو خراج تحسین پیش کیا پولیس کی طرف سے سلامی بھی پیش کی گئی نواب آف بہاول پور کی ریاست کا قل رقبہ 45588 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا تھا ریاست بہاول پور باڈر بھارت سے بھی ملتا ہے ایک وقت ایسا بھی آیا جب بھارت نے کوشش کی کے ریاست کا الحاق بھارت سے ہو جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا نواب آف بہاول پور نے ایک روپے کے اسٹام پر پوری ریاست پاکستان کے نام کر دی جب کہ آج کوئی ایک مرلہ بھی کسی کو نہیں دیتا اس محسن کی برسی پر کسی اعلی افسران کے پاس بھی وقت نہیں تھا کمشنر بہاول پور تین عدد ڈی سی او تین عدد ڈی پی او بہاول پور بہاولنگر اور رحیم یار خان ان اعلی افسران سمیت کسی جانے کی تکلیف نہ کی احمد پور شرقیہ کی اسسٹنٹ کمشنر اقراء ناصر جن کو چارج لیئے ابھی چند دن ہوئے تھے انہوں نے شاہی قبرستان میں حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی نواب آف بہاول پور جن کو قائد اعظم محمد علی جناح نے محسن کا خطاب دیا تھا اپنے محسن کے ساتھ ایسا تو نہیں کیا جاتا اگر علامہ اقبال قائد اعظم محمد علی جناح محسن پاکستان تھے تو نواب آف بہاول پور کو کیوں محسن پاکستان نہیں مانا جاتا ہماری انے والی نسلوں کو بتایا جائے کہ نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی بھی اتنے ہی پاکستان کے وفادار تھے جتنے باقی لوگ تھے نواب آف بہاول پور کی خدمات بھی کسی سے کم نہ تھی تاریخ کو مسخ نہ کریں کبھی نہ کبھی تاریخ خود کو دہراتی ہے تاریخ میں وہی زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اپنی نسلوں کے لیئے کچھ کیا ہو





