فرانس میں شمونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس، متاثرہ شخص ہلاک
فرانس میں مویشیوں کو متاثر کرنے والے شمونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس سامنے آگیا، متاثرہ شخص اکتوبر کے اوائل میں انتقال کر گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق یورپی مرکز برائے انسداد امراض و کنٹرول نے بتایا کہ متاثرہ شخص پہلے ہی ایک سنگین بیماری میں مبتلا تھا، جس کے باعث اس میں وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ تھا۔فرانسیسی حکام کے مطابق تاحال اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا وائرس متاثرہ شخص کی موت کا سبب بنا یا اس نے موت میں کوئی کردار ادا کیا۔ حکام یہ بھی معلوم کر رہے ہیں کہ مذکورہ شخص وائرس سے کیسے متاثر ہوا۔فرانسیسی حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال عام آبادی کو اس وائرس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
شمونڈا وائرس بنیادی طور پر مویشیوں کو متاثر کرتا ہے اور اس سے پہلے انسانوں میں اس کی موجودگی رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ برائے صحتِ حیوانات (WOAH) کے مطابق یہ وائرس زیادہ تر کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور عموماً گائے اور دیگر مویشیوں کو متاثر کرتا ہے۔ گھوڑوں، بھیڑوں، بکریوں اور الپاکا میں بھی اس کی موجودگی سامنے آچکی ہے۔حکام کے خیال میں متاثرہ شخص فرانس کے مشرقی علاقے میں وائرس کا شکار ہوا، جہاں رواں سال موسمِ بہار اور گرمیوں کے دوران جانوروں میں یہ وائرس گردش کرتا رہا۔
شمونڈا وائرس پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی کے وسط میں نائجیریا میں شناخت کیا گیا تھا۔ بعد ازاں افریقہ اور جاپان میں بھی جانوروں میں اس کی موجودگی سامنے آتی رہی۔رواں سال یورپ کے متعدد ممالک میں مویشیوں میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات ملی ہیں، جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، سوئٹزرلینڈ، بیلجیئم، آسٹریا، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
یورپی مرکز برائے انسداد امراض و کنٹرول نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، جبکہ برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی بھی متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔ ایجنسی کے مطابق تاحال برطانیہ میں یہ وائرس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم جرسی جزیرے اور جمہوریہ آئرلینڈ میں مویشیوں میں اس کی موجودگی سامنے آچکی ہے۔
مزید پڑھیں



ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
