بدنیتی کا کاروبار اور معاشرتی اخلاقیات،تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
ہمارے معاشرے میں ایمانداری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کا زوال ایک ایسا دردناک موضوع ہے جس پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔ انسان جب تک خود سچائی، وفاداری، اور محنت کو اپنا شعار نہ بنا لے، تب تک نہ اس کی فطرت بدلتی ہے اور نہ ہی نظام۔ حال ہی میں لاہور کے کھانے سے متعلق ایک نامور ریسٹورنٹ میں میرے دوست کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ میرے ایک دوست، جو کہ پیشے کے اعتبار سے فوڈ ولاگر ہیں، مختلف ہوٹلوں میں جا کر کھانوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کی عادت ہے کہ وہ نہ صرف صفائی ستھرائی جیسے گلاس، پلیٹیں، اور ٹیبل کی صفائی کا جائزہ لیتے ہیں بلکہ ہوٹل مالکان کو خاموشی سے بہتری کے لیے مفید مشورے بھی دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ گاہک کی نظر سب سے پہلے صفائی پر پڑتی ہے۔ ایک دن انہوں نے لاہور کے ایک وسطی اور انتہائی معروف ریسٹورنٹ کا رخ کیا تاکہ وہاں کے ناشتے کا ولاگ بنا سکیں۔
انہوں نے ناشتے میں چنے اور پراٹھوں کے ساتھ 100 روپے کے دہی کی بھی فرمائش کی۔ چونکہ ہوٹل کے پاس دہی نہیں تھا، اس لیے ویٹر نے سامنے کی دکان سے لا کر دینے کی حامی بھر لی۔ جب دہی کی پلیٹ سامنے آئی تو دوست کو اپنے تجربے کی بنا پر اندازہ ہوا کہ یہ مقدار 100 روپے کی نہیں ہو سکتی۔ جب انہوں نے سوال کیا تو ویٹر نے مصر ہو کر اسے 100 روپے کا ہی بتایا۔ اس کے بعد جب پراٹھے پیش کیے گئے تو ان کا سائز اور موٹائی اتنی کم تھی جیسے بچپن میں مائیں چھوٹے بچوں کے لیے ننھے پیڑے سے پراٹھا بنا دیتی ہیں۔ یوں لگتا تھا کہ آٹے کے ایک ہی پیڑے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دو پتلے سے پراٹھے بنا دیے گئے ہوں۔
ناشتہ ختم کرنے کے بعد وہ کاؤنٹر پر بل ادا کرنے پہنچے۔ بل ادا کرنے کے بعد جب انہوں نے دہی کی اصل قیمت کے بارے میں پوچھا تو ویٹر اور کیشئر کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ دونوں ایک دوسرے کو خاموشی سے گھورنے لگے اور پھر اپنی مادری زبان میں تلخ جملوں کا تبادلہ کرنے لگے، جسے دیکھ کر صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر لالچ اور چوری کا ملبہ ڈال رہے ہیں۔ آخر کار، کاؤنٹر پر موجود لڑکے نے شرمسار ہوتے ہوئے اعتراف کیا کہ: "سر! یہ نیا سٹاف ہے، ان سے غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے واقعی 100 کے بجائے 80 روپے کا دہی خریدا تھا اور ایک ہی پیڑے کے دو پراٹھے بنائے تھے۔"
دوست نے انتہائی دلبرداشتہ ہو کر انہیں سمجھایا کہ: "میرا تو محض چند روپوں کا نقصان ہوا، لیکن اگر میں اپنے لاکھوں فالوورز کے سامنے تمہاری اس دھوکے بازی اور ناقص کوالٹی کی ویڈیو پوسٹ کر دیتا تو تمہا ری دکانداری تباہ ہو جاتی۔ لوگ مجھے بھی کمنٹ سیکشن میں برا بھلا کہتے کہ ایسے چوروں اور بدذائقہ ہوٹل کو پروموٹ کر رہے ہو!"
ان باتوں کو سن کر کیشئر کا سر شرمندگی سے جھک گیا اور اس نے انتہائی دھیمی آواز میں معافی مانگی۔ میرے دوست نے وہ تمام ریکارڈ شدہ ویڈیو اپنے کیمرے سے ڈیلیٹ کر دی اور فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی اس ہوٹل یا ایسے غیر اخلاقی رویے والے عملے کے پاس واپس نہیں جائیں گے۔
یہ واقعہ دراصل ایک سوشل ایکسپریمنٹ اور ہمارے تاجرانہ طبقے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم چند روپوں کی عارضی بچت اور لالچ کے چکر میں اپنا اعتبا ر، دیانت اور دائمی رزق کھو دیتے ہیں۔ جب تک ہم بطور قوم سچائی اور ایمانداری کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بنائیں گے، ہم یوں ہی مختصر فائدے کے لیے بڑا نقصان اٹھاتے رہیں گے۔کاروبار صرف کھانا بیچنے کا نام نہیں، اعتماد قائم کرنے کا نام بھی ہے۔ چند روپے کا لالچ اور اعتماد کا نقصان ۔
رزق میں برکت صرف کمائی سے نہیں، دیانت داری سے بھی آتی ہے۔
مزید پڑھیں





