ہم نے بھوک دیکھنا چھوڑ دی ہے،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
کبھی کبھی کسی معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں ہوتی کہ وہاں لوگ بھوکے ہیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہاں کے آسودہ لوگ بھوک کو دیکھ کر بھی بے چین نہیں ہوتے۔ بھوک جب پہلی بار کسی دروازے پر دستک دیتی ہے تو انسان اسے المیہ سمجھتا ہے، لیکن جب وہ روز کا منظر بن جائے تو شاید آنکھیں اسے دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ گلی کے نکڑ پر بیٹھا مزدور، دکان کے باہر کھڑا بچہ، کچرے کے ڈھیر میں رزق تلاش کرتا کوئی شخص، یا چائے کے ایک کپ کے لیے کئی بار جیب ٹٹولتا ہوا نوجوان یہ سب اب ہمارے لیے مناظر ہیں، سوال نہیں۔
ہم نے بھوک کو اتنا دیکھا ہے کہ اب بھوک ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔
ہم کسی غریب کو دیکھتے ہیں تو اکثر اس کی ضرورت سے پہلے اس کا لباس دیکھتے ہیں، اس کی مجبوری سے پہلے اس کی حیثیت دیکھتے ہیں، اور اس کے خالی ہاتھوں سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ "اس نے محنت کتنی کی ہوگی؟" شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان، انسان کو سمجھنے کے بجائے اس کا فیصلہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک شخص کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس اپنی بھوک بیان کرنے کے لیے بھی کوئی باوقار زبان نہیں۔ سفید پوش انسان کی بھوک سب سے خاموش ہوتی ہے۔ وہ مانگتا نہیں، کیونکہ اسے اپنی ضرورت سے زیادہ اپنی عزت عزیز ہوتی ہے۔ وہ دسترخوان پر بیٹھ کر کم کھاتا ہے، بچوں کے سامنے کہتا ہے کہ "میرا دل نہیں چاہ رہا"، اور رات کو شاید پانی پی کر سو جاتا ہے۔ معاشرہ ایسے شخص کو غریب بھی نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ اپنی غربت دکھاتا نہیں۔
ہم نے غربت کو بھی دو حصوں میں بانٹ دیا ہے؛ ایک وہ جو دکھائی دیتی ہے، اور دوسری وہ جو چھپ کر جھیل لی جاتی ہے۔
آج ہمارے شہروں میں ایک طرف ایسے دسترخوان ہیں جہاں کھانے کی کمی نہیں، دوسری طرف ایسے گھر بھی ہیں جہاں بچے ماں کے چہرے سے اندازہ لگاتے ہیں کہ آج کھانا ملے گا یا نہیں۔ ایک طرف کھانے کی تصویریں سوشل میڈیا پر شائع ہوتی ہیں، دوسری طرف کوئی بچہ اسی تصویر کو شاید صرف اس لیے دیکھتا ہے کہ اسے بھوک لگی ہے۔ یہ فرق صرف دولت کا نہیں، احساس کا بھی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ حکومت کو کچھ کرنا چاہیے، نظام کو بدلنا چاہیے، غربت ختم ہونی چاہیے۔ یقیناً ریاست کی ذمہ داریاں اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ایک معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بنتا؛ معاشرہ اس رویے سے بنتا ہے جو انسان دوسرے انسان کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔
ہم نے خیرات دینا بہت سیکھی، مگر شاید احساس کم سیکھا۔
کسی بھوکے کو کھانا دے دینا نیکی ہے، مگر اس کی بھوک کو سمجھ لینا انسانیت ہے۔ کسی ضرورت مند کو چند روپے دے دینا آسان ہے، مگر اسے اس انداز سے دینا کہ اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، شاید اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ بھوک صرف معدے میں نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ انسان کی خودداری میں بھی ہوتی ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں غریب کے لیے اکثر مشورے بہت ہوتے ہیں لیکن مواقع بہت کم۔ اسے کہا جاتا ہے محنت کرو، صبر کرو، آگے بڑھو۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شخص کے دونوں ہاتھ روزمرہ کی ضرورتوں میں الجھے ہوں، وہ مستقبل کو تھامنے کے لیے ہاتھ کہاں سے لائے؟
شاید ہمیں غربت سے پہلے اپنی نگاہ کا علاج کرنا ہوگا۔
ہمیں دوبارہ دیکھنا سیکھنا ہوگا۔ صرف آنکھوں سے نہیں، دل سے۔ اس مزدور کو دیکھنا ہوگا جو شام تک اینٹیں اٹھا کر بھی اپنے بچوں کے لیے دودھ خریدنے سے قاصر ہے۔ اس عورت کو دیکھنا ہوگا جو اپنے بچوں کا پیٹ بھر کر خود یہ کہہ دیتی ہے کہ "میں نے کھانا کھا لیا ہے۔" اس طالب علم کو دیکھنا ہوگا جو فیس کے خوف سے خواب دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ اور اس بوڑھے کو بھی، جو عمر بھر دوسروں کے لیے کماتا رہا مگر بڑھاپے میں کسی کے رحم کا محتاج ہو گیا۔
کیونکہ بھوک صرف روٹی کی کمی کا نام نہیں۔ بھوک کبھی مواقع کی ہوتی ہے، کبھی تعلیم کی، کبھی عزت کی، کبھی انصاف کی، اور کبھی صرف اس یقین کی کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔
شاید ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے بھوک کو معمول سمجھ لیا ہے۔ ہمیں اب کسی بچے کا خالی پیٹ چونکاتا نہیں، کسی مزدور کی تھکی آنکھ سوال نہیں کرتی، کسی ماں کا خاموش چہرہ ہماری نیند خراب نہیں کرتا۔
اور جب کسی معاشرے میں دوسروں کا درد انسان کو بے چین کرنا چھوڑ دے، تو وہاں مسئلہ صرف غربت کا نہیں رہتا، ضمیر کی غربت کا بھی ہو جاتا ہے۔
شاید ہمیں اپنے گھروں کے دسترخوان لگانے سے پہلے اپنی آنکھوں کے پردے ہٹانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ممکن ہے ہمارے اردگرد بہت سے لوگ بھوکے ہوں، اور ہم انہیں جانتے بھی ہوں۔
بس فرق اتنا ہے کہ ہم انہیں دیکھ نہیں رہے۔





