میرے چند دن، قدرت کے دامن میں،تحریر:علی رضا اوپل
نقطہ نظر
پچھلے ہفتے جب میں نے ایک پہاڑی درے پر کھڑے ہو کر ٹھنڈی، بوجھل ہوا کا پہلا جھونکا محسوس کیا، تو یکدم خیال آیا کہ ہم اپنی روزمرہ کی دوڑ دھوپ اور سکرینوں کی نیلی روشنی میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ باہر پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کو بھول ہی گئے ہیں۔ اتفاق سے انھی دنوں یومِ سیاحت بھی آ گیا، تو سوچا کیوں نہ اس بار کچھ قلم اٹھایا جائے، اس موضوع پر نہیں جو کتابوں میں لکھا ہوتا ہے، بلکہ اس پر جو میں نے خود محسوس کیا ہے۔
سچ پوچھیں تو سیاحت میرے نزدیک محض ٹکٹ کٹانے، بیگ پیک کرنے اور کسی نئے ہوٹل کے کمرے میں جا کر سونے کا نام نہیں۔ یہ تو اپنے آپ سے ملنے، روزمرہ کی تھکا دینے والی روٹین سے فرار پانے اور قدرت کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کرنے کا ایک بہانہ ہے۔
ہمارا پاکستان تو اس معاملے میں خدا کی خاص رحمت ہے۔ آپ شمال کی طرف نکل جائیں، تو قراقرم کے پہاڑ ایسے سر اٹھائے کھڑے ہیں جیسے زمین کے محافظ ہوں۔ ہنزہ کی گھاٹیاں ہوں، وادیِ کیلاش کی انوکھی ثقافت یا پھر اسکردو کے نیلے پانیوں والی جھیلیں، ہر مقام انسان کو انگشت بدنداں کر دیتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم اپنے ہی گھر کے اس حسن کو وہ قدر نہیں دے سکے جو اسے ملنی چاہیے۔ ہم اکثر باہر کی دنیا کی خوبصورتی کے قصے تو سناتے ہیں، مگر اپنے ہی ملک کے ان گنت پوشیدہ گوشوں سے ناواقف رہتے ہیں۔
اور بات صرف تفریح کی نہیں ہے، سیاحت کا ایک معاشی پہلو بھی ہے جو ہماری جیسی کمزور معیشت کے لیے آکسیجن کا کام کر سکتا ہے۔ اگر حکومت تھوڑی سی توجہ دے، سڑکیں بنادے، بنیادی سہولتیں فراہم کر دے اور سب سے بڑھ کر ہم خود بحیثیت قوم سیاحوں کے ساتھ اخلاق اور مہمان نوازی کا بہتر رویہ اپنائیں، تو یہ شعبہ پاکستان کا سب سے بڑا ریونیو جنریٹر بن سکتا ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کو اپنے ہی شہر یا علاقے میں روزگار مل سکتا ہے۔
مگر یہاں ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت سیاح اپنے فرض سے اکثر غافل ہو جاتے ہیں۔ ہم پہاڑوں پر جاتے تو ہیں، مگر اپنے پیچھے پلاسٹک کے شاپر، بوتلوں کے ڈھکن اور گند کے ڈھیر چھوڑ آتے ہیں۔ قدرت نے ہمیں جو حسن امانت کے طور پر دیا تھا، ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ یومِ سیاحت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم یہ تہیہ کریں کہ جہاں جائیں گے، وہاں کے تقدس اور صفائی کا خیال رکھیں گے۔
آئیے اس بار اس دن کو محض ایک روایتی دن کے طور پر نہ منائیں، بلکہ کم از کم ایک چھوٹے سے سفر کا ارادہ کریں، اپنے ملک کے کسی نئے کونے کو دریافت کریں، اور اس بات کا عہد کریں کہ ہم اس خوبصورتی کو محفوظ رکھیں گے۔ کیونکہ جب ہم باہر نکلتے ہیں، تو دنیا بدلتی ہے یا نہیں، ہم خود ضرور بدل جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں





