Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

موبائل کی اسکرین میں قید ہوتا بچپن،تحریر: ارشد اعوان مرجان

نقطہ نظر

ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ موبائل فون آج رابطے، معلومات، تعلیم، کاروبار اور روزمرہ ضروریات کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، مطلوبہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اور گھر بیٹھے بے شمار کام انجام دیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ہر سہولت کی طرح ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اعتدال کا تقاضا کرتا ہے۔


سب سے زیادہ توجہ طلب معاملہ ہمارے بچوں میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ہے۔


آج ہمارے گھروں کا ایک عام منظر یہ بن چکا ہے کہ بچہ صبح اٹھتے ہی موبائل تلاش کرتا ہے، ناشتہ کرتے ہوئے ویڈیو دیکھتا ہے، فارغ وقت میں گیم کھیلتا ہے اور رات کو سونے سے پہلے بھی اسکرین سے چمٹا رہتا ہے۔ بعض گھروں میں موبائل بچے کو خاموش رکھنے کا سب سے آسان ذریعہ بن چکا ہے۔ بچہ روئے تو موبائل، کھانا نہ کھائے تو موبائل، ضد کرے تو موبائل اور والدین مصروف ہوں تو موبائل۔


بظاہر یہ ایک آسان حل محسوس ہوتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہم وقتی سکون کے بدلے اپنے بچوں سے کیا قیمت وصول کر رہے ہیں؟


بچپن انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی اور خوبصورت دور ہوتا ہے۔ یہی وہ عمر ہے جس میں شخصیت تشکیل پاتی ہے، عادات بنتی ہیں، سوچ پروان چڑھتی ہے اور انسان اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے۔ بچہ کھیل کر سیکھتا ہے، سوال پوچھ کر سمجھتا ہے، کتاب پڑھ کر سوچتا ہے، دوستوں کے ساتھ مل کر معاشرتی رویے سیکھتا ہے اور والدین کے ساتھ گفتگو سے اعتماد حاصل کرتا ہے۔


لیکن اگر اس تمام وقت کا بڑا حصہ ایک چھوٹی سی اسکرین کے سامنے گزرنے لگے تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔


ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ موبائل فون نہیں بلکہ موبائل کا بے مقصد، غیر ضروری اور بے قابو استعمال ہے۔ ٹیکنالوجی سے بچوں کو مکمل طور پر دور رکھنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔ آج تعلیم کے بے شمار مواقع ڈیجیٹل دنیا سے وابستہ ہیں۔ بچے تحقیق کر سکتے ہیں، تعلیمی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں، نئی زبانیں سیکھ سکتے ہیں اور دنیا بھر کے علم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔


لیکن تعلیم اور تفریح کے نام پر گھنٹوں مسلسل اسکرین دیکھتے رہنا ایک مختلف معاملہ ہے۔


والدین کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا بچہ موبائل پر کیا دیکھ رہا ہے؟ کتنے وقت تک دیکھ رہا ہے؟ کن لوگوں سے رابطے میں ہے؟ کون سی گیمز کھیل رہا ہے؟ اور جو مواد وہ دیکھ رہا ہے، کیا وہ اس کی عمر کے لیے مناسب بھی ہے یا نہیں؟


انٹرنیٹ ایک بہت بڑی دنیا ہے۔ اس میں علم بھی ہے، تفریح بھی، مواقع بھی اور ایسا مواد بھی جو بچوں کے لیے نامناسب ہو سکتا ہے۔ اگر والدین بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں سے مکمل طور پر بے خبر رہیں تو بچے غیر مناسب مواد یا نامعلوم افراد کے رابطے میں بھی آ سکتے ہیں۔


یہاں والدین کی ذمہ داری سب سے بڑھ جاتی ہے۔


ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ بچے موبائل نہیں چھوڑتے، لیکن کبھی ہم نے یہ بھی سوچا کہ انہیں موبائل کا عادی بنانے میں ہمارا اپنا کردار کیا ہے؟


اگر والدین گھر میں ہر وقت موبائل استعمال کریں، کھانے کی میز پر بھی فون ہاتھ میں ہو، بچے کی بات سنتے ہوئے بھی نظریں اسکرین پر ہوں اور خاندان کے ساتھ بیٹھ کر بھی ہر شخص اپنے موبائل میں مصروف ہو تو بچے کو یہ کیسے سکھایا جا سکتا ہے کہ موبائل کا استعمال محدود ہونا چاہیے؟


بچے ہماری باتوں سے زیادہ ہمارے عمل سے سیکھتے ہیں۔


اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے موبائل کم استعمال کریں تو ہمیں خود بھی غیر ضروری موبائل استعمال کم کرنا ہوگا۔ بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ موبائل اس کے والدین کے لیے بھی ہر وقت ضروری نہیں۔


یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر موبائل بچے سے لے لیا جائے تو وہ کرے گا کیا؟


اس سوال کا جواب بھی والدین کو خود دینا ہوگا۔


بچے کے ہاتھ سے موبائل لینے کے ساتھ اسے متبادل سرگرمیاں دینا ضروری ہیں۔ اسے کھیلنے کے لیے وقت اور جگہ دیں۔ اسے کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کریں۔ اس کے ساتھ چہل قدمی کریں۔ سائیکل چلانے دیں۔ پودے لگانے دیں۔ ڈرائنگ، پینٹنگ، کھیل، کہانی اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے دیں۔


سب سے بڑھ کر اسے اپنا وقت دیں۔


آج کے بچے کو شاید سب سے زیادہ ضرورت مہنگے موبائل یا جدید گیم کی نہیں بلکہ والدین کی توجہ اور محبت کی ہے۔


ہم نے اپنی مصروف زندگی میں بچوں کو وقت دینا کم کر دیا ہے اور اس خلا کو موبائل نے پُر کرنا شروع کر دیا ہے۔ والدین دفتر، کاروبار، سوشل میڈیا اور دیگر مصروفیات میں الجھے رہتے ہیں، جبکہ بچے ایک اسکرین کے سامنے بیٹھے خاموش رہتے ہیں۔ گھر میں خاموشی تو ہوتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ یہ خاموشی خوشحالی کی علامت ہو۔


بچے کا خاموش رہنا ہمیشہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ مصروف اور مطمئن ہے۔ کبھی کبھی ہمیں اس خاموشی کے پیچھے چھپی تنہائی کو بھی سمجھنا چاہیے۔


ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ روزانہ کچھ وقت ایسا گزارنا چاہیے جس میں موبائل فون درمیان میں نہ ہو۔ ان سے پوچھیں کہ آج اسکول میں کیا ہوا؟ ان کے دوست کون ہیں؟ انہیں کیا اچھا لگتا ہے؟ وہ مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں؟ انہیں کس بات سے خوشی یا پریشانی ہوتی ہے؟


یہ چھوٹی چھوٹی گفتگو بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔


گھر میں موبائل کے استعمال کے لیے چند واضح اصول بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ مثلاً کھانے کے وقت موبائل نہیں ہوگا، سونے سے پہلے موبائل ایک طرف رکھا جائے گا، پڑھائی کے دوران غیر ضروری موبائل استعمال نہیں ہوگا اور روزانہ کچھ وقت جسمانی سرگرمی کے لیے ضرور مختص کیا جائے گا۔


اہم بات یہ ہے کہ ان اصولوں پر صرف بچوں ہی نہیں بلکہ بڑوں کو بھی عمل کرنا چاہیے۔


اگر والدین خود کھانے کی میز پر موبائل استعمال کریں اور بچے سے کہیں کہ تم موبائل استعمال نہ کرو تو بچے کے لیے اس پابندی کو قبول کرنا مشکل ہوگا۔ تربیت حکم دینے سے نہیں بلکہ عملی مثال قائم کرنے سے ہوتی ہے۔


اس سلسلے میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ بچوں کو صرف کتابی تعلیم دینا کافی نہیں۔ انہیں ڈیجیٹل دنیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔ انہیں سکھانا ہوگا کہ آن لائن کسی اجنبی پر فوراً اعتماد نہیں کرنا، ذاتی معلومات شیئر نہیں کرنی، نامناسب مواد سے دور رہنا اور انٹرنیٹ کو علم اور مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا ہے۔


والدین اور اساتذہ کو بھی جدید ڈیجیٹل خطرات کے بارے میں بنیادی آگاہی حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ بچوں کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔


ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچوں کے لیے کھیل کے میدان، لائبریریاں، پارکس اور صحت مند سرگرمیاں اتنی ہی ضروری ہیں جتنی تعلیمی سہولیات۔ اگر معاشرہ بچوں کے لیے کھیل کے میدان کم اور اسکرین کا وقت زیادہ چھوڑ دے گا تو اس کے اثرات صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری نسل کی شخصیت اور معاشرتی رویوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی کا سمجھدار صارف بنانا چاہتے ہیں یا اس کا غلام۔


ہم موبائل کو بچوں کی زندگی سے مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے، لیکن ہم انہیں یہ ضرور سکھا سکتے ہیں کہ موبائل ان کی زندگی کا ایک حصہ ہے، پوری زندگی نہیں۔


بچوں کا بچپن دوبارہ واپس نہیں آتا۔ آج جو وقت کھیل، کتاب، گفتگو اور خاندان کے ساتھ گزر سکتا ہے، وہ کل واپس نہیں ملے گا۔ آج جو بچہ والدین کی توجہ چاہتا ہے، کل وہ بڑا ہو کر شاید اپنی الگ دنیا میں مصروف ہو جائے۔


اس لیے ہمیں آج ہی اپنے گھروں سے تبدیلی شروع کرنا ہوگی۔


موبائل بچے کے ہاتھ میں دینے سے پہلے اپنا وقت اس کے نام کریں۔ اسے خاموش کرانے کے لیے موبائل دینے کے بجائے اس سے بات کریں۔ اسے گیم دینے کے بجائے کھیل کا میدان دیں۔ اسے صرف ویڈیو دکھانے کے بجائے کتاب دیں۔ اسے مصنوعی دنیا میں مصروف رکھنے کے بجائے حقیقی دنیا سے روشناس کرائیں۔


ہمیں ایسی نسل نہیں چاہیے جو صرف اسکرین پر انگلی چلانا جانتی ہو؛ ہمیں ایسی نسل چاہیے جو سوچ سکے، سوال کر سکے، کتاب پڑھ سکے، کھیل سکے، دوسروں کا درد سمجھ سکے، رشتوں کی قدر کرے اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔


آئیں، آج اپنے گھروں میں ایک چھوٹا سا عہد کریں:


کھانے کی میز پر موبائل نہیں ہوگا۔

سونے سے پہلے اسکرین سے وقفہ ہوگا۔

بچوں کے ساتھ روزانہ کچھ وقت موبائل کے بغیر گزارا جائے گا۔

کھیل اور مطالعے کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔

اور بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر محبت، اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ نظر رکھی جائے گی۔


یاد رکھیں، موبائل فون ہماری ضرورت ہو سکتا ہے، مگر ہمارے بچوں کا بچپن ہماری ذمہ داری ہے۔


اپنے بچوں کو موبائل سے نہیں، موبائل کی غلامی سے بچائیں۔


کیونکہ اگر آج ہم نے اپنے بچوں کا قیمتی وقت محفوظ کر لیا تو کل ہمارے پاس ایک صحت مند، بااعتماد، باصلاحیت اور ذمہ دار نسل ہوگی۔


بچپن اسکرین میں نہیں، زندگی میں گزارنے کے لیے ہوتا ہے۔