جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے نوجوان مایوس ہونے لگے

trump
مصنف:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے مایوس نوجوان امریکی مردوں میں ریپبلکن پارٹی کی حمایت کم ہونے لگی، مہنگائی، گھر خریدنے میں مشکلات اور ایران جنگ کے باعث نوجوان ووٹرز کی سیاسی ترجیحات تبدیل ہونے لگیں۔


امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی میں نوجوان مردوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم اب یہی طبقہ ان کی حکومت کی معاشی کارکردگی سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹکس کے ایک نئے سروے کے مطابق، ووٹ ڈالنے کے اہل 30 سال سے کم عمر مردوں میں 58 فیصد ڈیموکریٹس جبکہ 32 فیصد ریپبلکنز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی 2024 کے انتخابات کے دوران نوجوان مردوں میں تقریباً برابر حمایت کے رجحان سے مختلف ہے۔رپورٹ کے مطابق نوجوان امریکیوں کو اشیائے ضروریہ، تعلیم، پیٹرول اور رہائش کے بڑھتے اخراجات کا سامنا ہے۔ کئی نوجوانوں کو خدشہ ہے کہ ان کے لیے مستحکم ملازمت، اپنا گھر اور خاندان بسانے جیسے روایتی امریکی خواب پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔


مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے طالب علم زیک لارسن، جنہوں نے 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، اب ان کی پالیسیوں سے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی اور نوجوان نسل کے مسائل پر ناکافی توجہ نے ان کی سیاسی سوچ تبدیل کر دی ہے اور وہ آئندہ سینیٹ انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کی حمایت کرنے کا امکان رکھتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال اور ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ نے بھی نوجوانوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ بعض نوجوانوں کو خدشہ ہے کہ اے آئی ان کے لیے ملازمتوں کے مواقع محدود کر دے گی، جبکہ دیگر کو مہنگی تعلیم اور رہائش کے اخراجات کے باعث مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔


ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران نوجوانوں کے لیے قیمتیں کم کرنے، گھر خریدنے کے مواقع بہتر بنانے اور نئی نسل کو بیرون ملک جنگوں میں بھیجنے سے گریز کے وعدے کیے تھے۔ تاہم نوجوانوں کے معاشی حالات میں بہتری نہ آنے اور ایران جنگ کے اثرات نے ان وعدوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔


دوسری جانب تمام نوجوان ریپبلکنز سے دور نہیں ہو رہے۔ بعض نوجوان اب بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے سے ان کی حمایت دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مشی گن میں ڈیموکریٹ سینیٹ امیدوار عبدالسید نوجوان ووٹرز تک رسائی کے لیے سوشل میڈیا اور یونیورسٹیوں میں مہم چلا رہے ہیں۔ ادھر ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز بھی نوجوان ووٹرز کی حمایت برقرار رکھنے کے لیے کالجوں اور کھیلوں کی تقریبات میں اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔سی این این کے مطابق 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل نوجوان مرد ووٹرز کی بدلتی ترجیحات ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بن سکتی ہیں۔