جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

روسی جیل میں امریکی شہری پر بدترین تشدد، جنسی زیادتی کا بھی دعویٰ

مصنف:

واشنگٹن: روسی جیل سے رواں ہفتے رہا ہونے والے 74 سالہ امریکی شہری اور ریٹائرڈ استاد اسٹیفن ہبارڈ پر دورانِ قید بدترین جسمانی تشدد، جنسی زیادتی اور بجلی کے جھٹکے دینے کا انکشاف ہوا ہے۔


امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اسٹیفن ہبارڈ کے ساتھ روسی جیل میں قید رہنے والے سابق یوکرینی قیدی ایہور شیشکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ہبارڈ کو امریکی شہری ہونے کی وجہ سے خصوصی طور پر نشانہ بنایا جاتا تھا اور انہیں کتے کی طرح فرش پر رینگنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ایہور شیشکو کے مطابق، جیل میں قیدیوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہبارڈ کے گھٹنوں کی جلد فرش پر رینگنے کے باعث اتر گئی تھی، جس پر انہوں نے ان کے گھٹنوں پر پٹیاں باندھی تھیں۔ ان کے بقول، ہبارڈ کو بجلی کے جھٹکے دینے کے علاوہ جنسی نوعیت کے توہین آمیز سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑا۔سابق قیدی نے دعویٰ کیا کہ جیل کے محافظوں کو جب معلوم ہوتا کہ وہاں ایک امریکی شہری قید ہے تو وہ اسے بلوا کر زیادہ سختی کرتے تھے۔ ان کے مطابق، یہ سلوک روزانہ کی بنیاد پر کیا جاتا تھا۔ایہور شیشکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’’انسان دوست‘‘ قرار دینے پر بھی تنقید کی اور اس بیان کو شرمناک قرار دیا۔


اسٹیفن ہبارڈ کو امریکا اور روس کے درمیان مذاکرات کے بعد بدھ کے روز رہا کیا گیا۔ وہ چار سال سے زائد عرصے سے روسی حراست میں تھے۔ روسی استغاثہ کا الزام تھا کہ انہوں نے 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد یوکرینی فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے معاہدہ کیا تھا، تاہم دو ماہ بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔2024 میں انہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دوسری جانب ہبارڈ کے وکلا اور اہل خانہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی فوجی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔ہبارڈ امریکی فضائیہ کے سابق اہلکار بھی ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک انگریزی پڑھائی اور 2012 میں قبرص منتقل ہو کر ریٹائرمنٹ اختیار کی۔ بعد ازاں وہ یوکرین چلے گئے تھے۔ہبارڈ کی بہن پیٹریشیا ہبارڈ فاکس کے مطابق، انہیں رہائی کے بارے میں اس وقت تک علم نہیں تھا جب تک انہیں طیارے میں سوار نہیں کرایا گیا اور انہوں نے امریکی پرچم نہیں دیکھا۔


رہائی کے بعد ہبارڈ کو طبی معائنے کے لیے امریکی شہر سان انتونیو منتقل کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہبارڈ آنے والے دنوں میں وائٹ ہاؤس کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔