جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسلام آباد میں موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد میں 8 فیصد کمی،سحر کامران نے سوالات اٹھا دیے

sehar kamran
مصنف:

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی نے وفاقی دارالحکومت میں موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد میں کمی اور ملک بھر میں اضافے کے اعداد و شمار پر سوالات اٹھا دیے۔


23 اکتوبر 2026 کو قومی اسمبلی کے سوالات کے وقفے سے متعلق ایکس پر اپنے بیان میں سحر کامران کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد مالی سال 2021-22 میں 38 لاکھ 30 ہزار تھی، جو 2025-26 میں کم ہو کر 35 لاکھ 20 ہزار رہ گئی، جبکہ اسی عرصے میں ملک بھر میں صارفین کی تعداد میں 38 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ سے زائد آبادی کے مقابلے میں فکسڈ براڈبینڈ کنکشنز کی تعداد صرف 42 لاکھ 90 ہزار ہے، جو ڈیجیٹل سہولیات کی رسائی اور آئی ٹی شعبے کی ترقی کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔پیپلز پارٹی کی رہنما نے سوال اٹھایا کہ محدود فکسڈ براڈبینڈ کنکشنز اور موبائل ڈیٹا پر انحصار کے ساتھ حکومت آئی ٹی برآمدات اور فری لانسنگ کے شعبوں کو وسعت دینے کا ہدف کیسے حاصل کرے گی؟


انہوں نے پارلیمانی سیکریٹری کے زبانی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد میں کمی کو فکسڈ براڈبینڈ سے موبائل یا وائرلیس سروسز کی طرف منتقلی سے جوڑنا اصل سوال کا جواب نہیں۔ وضاحت طلب ہے کہ ملک بھر میں صارفین کی تعداد بڑھنے کے باوجود وفاقی دارالحکومت میں کمی کیوں ہوئی؟ موبائل اور فکسڈ براڈبینڈ صارفین کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بھی ابہام رہا، جبکہ فکسڈ براڈبینڈ کی محدود رسائی اور اس کے آئی ٹی برآمدات و فری لانسنگ پر اثرات سے متعلق بنیادی سوالات کا واضح جواب نہیں دیا گیا۔انہوں نے وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے ضمیمہ ’اے‘ میں بلوچستان کے نام کا غلط انگریزی املا استعمال کیے جانے کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ وزارت کو کم از کم صوبے کا نام درست لکھنا چاہیے۔