Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

چراغ جو خود جلتے ہیں،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

آج پانچ اکتوبر ہے، عالمی یومِ اساتذہ۔ سال کا وہ دن جب دنیا بھر میں لوگ رک کر ان ہاتھوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے انہیں پہلی بار قلم پکڑنا سکھایا تھا۔ ہم سب کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا چہرہ ضرور ہوتا ہے جو وقت کی گرد میں دھندلا تو گیا ہے، مگر اس کی آواز آج بھی کہیں اندر گونجتی ہے۔

استاد کا کام صرف نصاب مکمل کرانا نہیں ہوتا۔ وہ کسی بچے کی آنکھ میں پہلی بار سوال کی چمک دیکھتا ہے اور اسے بجھنے نہیں دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ کون سا بچہ کم گو ہے مگر ذہین، کون شرارتی ہے مگر درد مند، اور کس کے بستے میں کتابوں کے ساتھ گھر کی پریشانیاں بھی بندھی ہیں۔ وہ تختۂ سیاہ پر لفظ لکھتا ہے، مگر حقیقت میں انسان لکھ رہا ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد معلومات نہیں بانٹتا، یقین بانٹتا ہے۔

ذرا اپنے بچپن کی طرف لوٹیے۔ آپ کو شاید وہ استاد یاد آئے جس نے آپ کے خراب خط پر ہنسنے کے بجائے صبر سے آپ کا ہاتھ تھام کر لکھوایا۔ یا وہ جس نے بھری جماعت میں کہا تھا، "تم یہ کر سکتے ہو"، اور آپ نے اس ایک جملے کے سہارے برسوں کا سفر طے کر لیا۔ امتحان کے نمبر بھول جاتے ہیں، جماعتوں کی ترتیب یاد نہیں رہتی، مگر ایسے جملے عمر بھر ساتھ چلتے ہیں۔ یہی استاد کا اصل صدقۂ جاریہ ہے۔

ہماری تہذیب نے استاد کو ہمیشہ بلند مقام دیا ہے۔ حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا، میں اس کا غلام ہوں۔ یہ محض عاجزی کا اظہار نہیں، ایک پورے تمدن کا اصول ہے۔ ہمارے بزرگ شاگرد کو استاد کے سامنے ادب سے بیٹھنے کی تلقین کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ علم دل کی راہ سے آتا ہے، اور دل ادب کے دروازے سے کھلتا ہے۔ جو قومیں اپنے معلم کی قدر کرتی ہیں، وہی دنیا میں اپنا مقام بناتی ہیں۔ ، ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد میں سب سے مضبوط اینٹ استاد کی عزت اور اس کی خوشحالی رہی ہے۔

مگر ہمیں ایمانداری سے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ آج ہم اپنے معلموں کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ بہت سے اساتذہ کم تنخواہوں پر گزارا کرتے ہیں۔ جماعتوں میں گنجائش سے زیادہ بچے ہیں، وسائل ناکافی ہیں، اور اوپر سے توقع یہ کہ وہ پوری نسل سنوار دیں۔ نجی اداروں میں کئی استاد مہینوں کی تنخواہ کے انتظار میں رہتے ہیں اور پھر بھی اگلی صبح مسکرا کر جماعت میں داخل ہوتے ہیں۔ استاد موم بتی کی طرح ہے جو خود پگھلتی رہتی ہے تاکہ دوسروں کو روشنی ملے۔ مگر موم بتی کو بھی کبھی ہوا سے بچانا پڑتا ہے، ورنہ روشنی کا یہ سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی ہے۔ آج کا استاد ایک بدلی ہوئی دنیا میں کھڑا ہے۔ بچے کے ہاتھ میں موبائل ہے اور دنیا بھر کی معلومات ایک لمحے میں سامنے آ جاتی ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اب استاد کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔ یہ بڑی غلط فہمی ہے۔ معلومات مل جانا ایک بات ہے اور یہ سیکھنا بالکل دوسری بات کہ ان کا کیا کرنا ہے، کیا سچ ہے، کیا جھوٹ، اور علم کے ساتھ کردار کیسے بنایا جائے۔ مشین جواب دے سکتی ہے، مگر کسی ڈرے ہوئے بچے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دینا استاد ہی کا کام ہے۔

تو آج صرف کارڈ اور پھول کافی نہیں۔ اگر کوئی استاد آپ کی زندگی بدل گیا ہے تو اسے فون کیجیے، خط لکھیے، یا بس اتنا کہہ دیجیے کہ "آپ کی وجہ سے میں آج جو کچھ ہوں، وہ ہوں۔" یقین کیجیے، یہ چند لفظ ان کے لیے کسی بھی تمغے سے بڑھ کر ہوں گے۔ اور اگر وہ اس دنیا میں نہیں رہے تو ان کے لیے دعا کیجیے اور ان کی سکھائی ہوئی کوئی اچھی بات آگے کسی اور کو سکھا دیجیے۔

اور اگر آپ خود کسی کو کچھ سکھا رہے ہیں، چاہے وہ آپ کا بچہ ہو، چھوٹا بھائی ہو یا کوئی شاگرد، تو جان لیجیے کہ آپ بھی اسی عظیم سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

استاد کو سلام، کہ وہ ایسا چراغ ہے جو دوسروں کے اندر چراغ جلا کر خود خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔