Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

چائے کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں ،تحریر: شگفتہ خان

نقطہ نظر
shagufta khan blog

ہماری ڈکشنری میں چائے کو "ام المشروبات " کہا جاتا ہے۔ یہ واحد "نشہ" ہے جو "حلال" ہے۔ مہمان نوازی کا ایک خوبصورت ہتھیار ہے۔ کسی کو روکنے کا ایک خوبصورت طریقہ، تو مل بیٹھنے کا ذریعہ۔ گفتگو کو طویل کرنے کا دلکش اور مذاکرات میں سوچنے کا دلکش بہانہ۔ مذاکرات ہوں یا کوئی فیصلہ، سمجھیں تو سوچنے کا موقع دیتی ہے۔ غصہ کو کم کرتی ہے۔ کبھی تھکے ہوئے ذہن کے لیئے ایک خاموش تسلی اور تنہائی کا بہترین ساتھی بن جاتی ہے۔

دو فریقین کے درمیان کبھی خاموش ثالث بھی بن جاتی ہے۔ دو "عشقان چائے" کے بیچ وجہہ مراسم بھی بن جاتی ہے۔ جب بھی چائے کے "عاشقوں" کا ذکر ہوگا تو ہمارا نام سر فہرست ہوگا۔ چائے وہ "ساتھی" ہے جو کسی مشکل، کسی بھی موسم میں ساتھ نہیں چھوڑتا۔ ویسے بھی اس کا تعلق باہر کے کسی موسم سے ہوتا بھی نہیں ہے۔ دل خوش ہے تو سخت گرمی میں بھی مزہ دیتی ہے۔ دانا کہتے ہیں کہ " لوہے کو لوہا کا ٹتا ہے" اور سچ کہتے ہیں۔ جون کی گرم دوپہر میں چائے کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے۔ کوئی پوچھ لے چائے پینے کا تو اس کو انکار کرنا ہم "گناہ" تصور کرتے ہیں۔ ہم تو کیا ہمارا تو سر بھی نفی میں نہیں ہلتا کہ" بے ادبی" نہ ہو جائے۔ "ملکہ مشروب " کی شان میں گستاخی کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ دن میں جتنی بھی باہر چائے پی لو مگر اصل مزہ تو گھر کی چائے پینے میں آتا ہے ناں۔ لوگوں کی رگوں میں کسی کی "محبت" لہو بن کے دوڑتی ہے۔ ہمیں یقین ہے ہماری رگوں میں تو چائے ہی دوڑتی ہوئی ملے گی۔ ہم نے تو " آخری وصیت" بھی گھر والوں کو کر دی ہے کہ ہمارے بعد ہماری "فاتحہ" چائے پر دلوائی جائے۔ زندگی میں کوئی بھی "کمی" ہمیں اداس نہیں کر سکتی نہ ہی تاسف میں مبتلا کر سکتی سوائے چائےکے معاملے میں ایک کمی ہمیں شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ " کاش ہماری بھی بیگم ہوتی۔ ہم ہر آدھے گھنٹے کے بعد کہتے کہ بیگم صاحبہ چائے لادیں اور وہ مسکرا کر بنا کر ہمیں دیتیں" ہماری "ڈکشنری" میں اس شخص کو حد درجہ "بد ذوق " سمجھا جاتا ہے جو چائے نہیں پیتا اور اس کو "بدقسمت" گردانا جاتا ہے جو چائے کے زائقے تک سے محروم رہا۔ اس کے لئے ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ " بندر کیا جانے، ادرک کا مزہ"

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL