دماغی فالج: خاموش جسم، زندہ حوصلے،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
ہر سال ۶ اکتوبر کو دماغی فالج کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں ان لاکھوں افراد کی طرف متوجہ کرتا ہے جو دماغی فالج کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جسمانی کمزوری کسی انسان کی صلاحیت، احساسات اور خوابوں کو محدود کرنے کی مکمل دلیل نہیں۔ یہ دن محض ایک بیماری کے بارے میں آگاہی کا دن نہیں، بلکہ ہمارے رویوں پر غور کرنے کا موقع بھی ہے۔
ہر انسان اس دنیا میں اپنی ایک مکمل کہانی لے کر آتا ہے، مگر کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے لفظ زبان سے نہیں نکلتے، جن کے جذبات آنکھوں کی نمی، چہرے کی جنبش اور خاموش مسکراہٹ میں اپنا مطلب تلاش کرتے ہیں۔ دماغی فالج بھی ایسی ہی ایک کیفیت ہے، جسے اکثر لوگ صرف جسمانی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالاں کہ اس کے پیچھے ایک ایسا انسان موجود ہوتا ہے جو محسوس بھی کرتا ہے، سمجھتا بھی ہے، خواب بھی دیکھتا ہے اور محبت بھی چاہتا ہے۔
دماغی فالج دراصل ایسی کیفیت ہے جو بچے کے دماغ کی نشوونما کے دوران ہونے والے نقصان کے نتیجے میں پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے اثرات زیادہ تر جسم کی حرکت، توازن اور پٹھوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض بچوں کے لیے چلنا دشوار ہوتا ہے، بعض کو ہاتھوں کی حرکت میں مشکل پیش آتی ہے اور کچھ بچوں کو بولنے یا اپنی بات دوسروں تک پہنچانے میں وقت لگتا ہے۔ لیکن جسم کی رفتار کا سست ہونا ذہن کی روشنی کے مدھم ہونے کی دلیل نہیں۔
دنیا ہر اس شخص سے معذرت کی محتاج ہے جسے اس نے صرف اس کے جسم سے پہچانا۔ ہم اکثر کسی انسان کو دیکھتے ہیں، اس کی چال، اس کے ہاتھ، اس کی گفتگو یا اس کے ظاہری انداز کو پرکھتے ہیں اور پھر چند لمحوں میں اس کی پوری شخصیت کے بارے میں فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ شاید ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جسم انسان کا ایک حصہ ہے، اس کی مکمل شناخت نہیں۔
دماغی فالج کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچے اور بڑے ہماری ہمدردی سے زیادہ ہماری سمجھ، احترام اور مواقع کے مستحق ہیں۔ انہیں ترس کی نگاہ سے دیکھنا ان کی مشکلات کم نہیں کرتا، بلکہ بعض اوقات ان کے دل پر ایک اور بوجھ رکھ دیتا ہے۔ انہیں بھی وہی عزت چاہیے جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں، وہی محبت چاہیے جو ہر دل کا بنیادی حق ہے، اور وہی مواقع چاہیے جن سے ان کی صلاحیتیں سامنے آسکیں۔
خصوصاً بچوں کے معاملے میں گھر کا رویہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر والدین بچے کی کمزوری کو اس کی پوری شناخت بنا دیں تو بچہ رفتہ رفتہ خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن اگر اسے محبت، حوصلہ اور مناسب تربیت ملے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق ایک بامقصد زندگی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ علاج، جسمانی مشق، تعلیمی معاونت اور مسلسل حوصلہ افزائی اس سفر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہمیں اپنے تعلیمی اداروں اور معاشرے کو بھی ایسا بنانا ہوگا جہاں کسی جسمانی دشواری کے باعث کسی بچے کے خواب چھوٹے نہ کردیے جائیں۔ ہر بچے کو سیکھنے، کھیلنے، دوست بنانے اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ کسی کے لیے راستہ مشکل ہو تو راستہ ختم نہیں ہوجاتا؛ صرف اسے تھوڑا زیادہ کشادہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
۶ اکتوبر ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم ان افراد کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ان کے لیے کتنی ہمدردی محسوس کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم ان کے لیے کیا بدل سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے لفظوں سے ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں یا انجانے میں انہیں احساسِ کمتری دیتے ہیں؟ کیا ہم ان کی صلاحیت دیکھتے ہیں یا صرف ان کی کمزوری؟
زندگی کی خوبصورتی شاید اسی میں ہے کہ ہر انسان ایک ہی انداز میں نہیں چلتا، مگر ہر انسان اپنی منزل کی طرف بڑھنے کا حق رکھتا ہے۔ کسی کے قدم تیز ہیں، کسی کے محتاط؛ کسی کی آواز بلند ہے، کسی کی خاموش۔ مگر دل کے اندر موجود خواہشیں سب کی یکساں انسانی ہیں۔
دماغی فالج ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو اس کے جسم کی رفتار سے نہیں، اس کے حوصلے کی گہرائی سے پرکھنا چاہیے۔ بعض لوگ دوڑ نہیں سکتے، مگر زندگی کے معنی ہم سے کہیں زیادہ خوبصورتی سے سمجھ لیتے ہیں۔ بعض ہاتھ مضبوطی سے چیزیں تھام نہیں سکتے، مگر ان کے دل محبت کو ہم سے زیادہ مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں۔
شاید معاشرے کی اصل ترقی یہ نہیں کہ اس نے کتنی بلند عمارتیں تعمیر کرلیں، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنے کمزور سمجھے جانے والے افراد کے لیے کتنی جگہ بنائی۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں کسی انسان کو اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے اپنے جسم سے جنگ نہ لڑنی پڑے، بلکہ اسے صرف انسان ہونے کی وجہ سے عزت ملے۔
مزید پڑھیں





