'فلائی دبئی' کی ریسکیو فلائٹ سعودی عرب سے مسافروں کو لے کر اسرائیل پہنچ گئی

سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے جہاز کے مسافروں کو اسرائیل لے جانے والی فلائی دبئی کی ریسکیو فلائٹ اسرائیل کے بن گورین ایئرپورٹ پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق پرواز میں تقریباً 180 مسافر سوار تھے، جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری ہیں۔
اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق مسافروں کو ضرورت کے مطابق طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بن گورین ایئرپورٹ پر ایمرجنسی ٹیمیں بھی موجود ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیل نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں اور دیگر مسافروں کو واپس لانے کے لیے خصوصی طیارہ بھیجنے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل فوجی یا قومی ایئرلائن ’ایل آل‘ کے طیارے کے ذریعے سعودی عرب میں پھنسے اپنے شہریوں کو واپس لانا چاہتا تھا۔ سی این این کی ہی تازہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے تبوک میں لینڈ کرنے والی فلائی دبئی کی پرواز پر سوار اسرائیلی مسافروں کو واپس لے جانے کے لیے ملک میں آنے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔
واضح رہے کہ ’فلائی دبئی‘ کی تل ابیب جانے والی پرواز ’ایف زیڈ 1073‘ نے مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 44 منٹ پر تبوک کے پرنس سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کے لیے کال دی تھی۔ اس کال کے بعد ایئرپورٹ پر فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی اور تقریباً ایک گھنٹے بعد جہاز نے بحفاظت لینڈ ہوگیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا اور حکام کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے مسلسل متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں۔ بعض ذرائع اسے ایک پائلٹ کی جانب سے مبینہ طور پر مسافر طیارے کو ہائی جیک کرکے تباہ کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ بعض پائلٹس کی قومیت کے بارے میں مختلف دعوے کرتے نظر آرہے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِدفاع اسرائیل کاٹز نے الزام عائد کیا ہے کہ اس واقعے کا مقصد جہاز کو کریش کرنا تھا۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی ایک ویڈیو بیان میں طیارے کو مسافروں سمیت تباہ کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ حملہ آور پائلٹ اس وقت سعودی حکام کی تحویل میں ہے جہاں اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔
دوسری جانب اماراتی فضائی کمپنی ’فلائی دبئی‘ نے حقائق سامنے آنے سے قبل اس معاملے پر کسی بھی قسم کی قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی درخواست کی ہے۔
فلائی دبئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ واقعہ جہاز کے کاک پٹ میں جھگڑے کے نتیجے میں پیش آیا، تاہم اس واقعے کی بنیادی وجوہات اور محرکات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں
مزید پڑھیں





