غربت کی چکی میں پستی عوام،تحریر: سماویہ اعظم
نقطہ نظر
روٹی کی جستجو میں گزرتی ہے زندگی
انسان اپنے خواب سے آگے نہیں بڑھا
(سماویہ اعظم)
ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ملک تب ترقی کرتا ہے جب غریب عوام خوش حال ہوتی ہے۔ غربت انسان کے خوابوں اور خواہشوں کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ ایک غریب آدمی کے کندھے پر صرف روزگار کی تلاش کا بوجھ نہیں ہوتا، گھر کے اخراجات، بچوں کی فیس، بیمار ماں کی دوا، بجلی کا بل اور راشن کی فکر اسے شب بھر سونے نہیں دیتی۔ وہ سارا دن محنت مزدوری کرتا ہے، پسینا بہاتا ہے مگر شام کو جب گھر واپس آتا ہے تو جیب میں موجود رقم دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے اور پھر غربت ایک معاشی مسئلے سے بڑھ کر انسانی المیہ بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں غریب ہونا کسی جرم سے کم نہیں۔ جس شخص کے پاس پیسا نہیں اس کو ذرا بھی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس کے لباس سے اس کی حیثیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ہم لوگوں نے کامیابی کو دولت کے ساتھ اس قدر جوڑ دیا ہے کہ محنت کرنے والا غریب آدمی بھی خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی پوری زندگی محنت کرتے ہیں مگر ان کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ بنیادی ضروریات بھی آسانی سے پوری کر سکیں۔ عام گھرانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آمدنی محدود اور مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بیدل حیدری نے کیا خوب کہا ہے:
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
غربت کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ کم عمر بچے ورکشاپ، ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں کیوں کہ وہ حالات کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں کتاب کے بجائے گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے۔
تعلیم غربت سے نکلنے کا سب سے مضبوط راستہ ہے مگر افسوس کہ غریب کے لیے یہی راستہ سب سے کٹھن ہوتا ہے۔ تعلیمی اخراجات، کتابوں اور یونی فارم کے اخراجات، آمدورفت کے مسائل اور گھر کے معاشی حالات ان بچوں کو تعلیم سے دور کر دیتے ہیں۔ ایک باپ جس کی روزانہ کی آمدنی گھر کے کھانے کے لیے بھی ناکافی ہو وہ اپنے بچے کی فیس، کتابیں اور دیگر اخراجات کہاں سے پورے کرے؟ ہم ان لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرتے البتہ یہ مشورہ ضرور دیتے ہیں کہ محنت کرو، آگے بڑھو اور حالات بدلو۔ بلاشبہ محنت ضروری ہے لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا ہر محنت کرنے والے کے لیے آگے بڑھنے کے دروازے کھلے ہیں؟ ایک مزدور صبح سے شام تک اینٹیں اٹھاتا ہے، ایک رکشہ ڈرائیور سارا دن سڑکوں پر دھکے کھاتا ہے، ایک گھریلو ملازمہ کئی گھروں میں کام کرتی ہے۔ یہ سب لوگ انتھک محنت کرتے ہیں۔ اگر صرف محنت ہی کامیابی کی ضمانت ہوتی تو شاید غربت کبھی باقی نہ رہتی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مزدور کی اجرت محدود ہے ایک طرف روزگار کے مواقع کم ہیں اور دوسری طرف مہنگائی کے مسائل نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ جب آمدنی اور اخراجات میں توازن ختم ہو جائے تو انسان قرض کا سہارا لیتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی قرض ایک اور بوجھ بن جاتا ہے۔ کئی لوگ اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ادھار لیتے ہیں اور پھر مہینوں اس ادھار کو اتارنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ اس صورت حال میں حکومت کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ غربت ختم کرنے کے لیے صرف وقتی امداد کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور مزدور کو اس کی محنت کے مطابق اجرت ملے۔ تعلیم اور صحت کو عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔ جب ایک غریب خاندان اپنے بچے کو اسکول بھیجنے اور بیمار فرد کا علاج کرانے کے لیے اپنی ضروریات قربان کرنے پر مجبور ہو تو یہ صرف اس خاندان کی ناکامی نہیں نظام کی کمزوری بھی ہے۔ کسی ضرورت مند کو راشن دینے کے ساتھ اسے ہنر سکھانے، روزگار دلانے یا کاروبار شروع کرنے میں مدد کی جائے تو اس کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ غربت کے خاتمے کی بات کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ غریب صرف مدد کا مستحق نہیں، عزت کا بھی مستحق ہے۔ وہ شخص جو سڑک صاف کرتا ہے، ہمارے گھروں میں کام کرتا ہے ہماری اجتماعی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اس کی محنت کے بغیر ہمارا معاشرہ ادھورا ہے لہٰذا سب کا احترام کریں۔ غربت کو اعداد و شمار کے طور پر نہ دیکھیں۔ غربت کے پیچھے کئی خواب ہوتے ہیں مگر انہیں پورا کرنے کے وسائل نہیں ہوتے۔ اگر ہم ترقی یافتہ معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا۔ غربت کی چکی میں پسنے والے لوگ کسی رعایت کے طلب گار نہیں۔ وہ صرف ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں محنت کا صلہ ملے تعلیم کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہو اور دو وقت کی روٹی کسی انسان کے لیے آزمائش نہ بنے۔ غربت انسان کو ایسے راستوں پر دھکیل دیتی ہے جن کا انتخاب وہ اپنی مرضی سے نہیں کرتا۔ ہمارے معاشرے میں بعض خواتین معاشی مجبوری، بے روزگاری اور گھریلو حالات کے باعث طوائف بننے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اگر ایک عورت اپنے بچوں کا پیٹ پالنے، گھر کا خرچ چلانے یا قرض اتارنے کے لیے اپنی عزت اور خواہشات قربان کرنے پر مجبور ہو جائے تو یہ صرف اس کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کے لیے باعزت روزگار، تعلیم اور ہنر کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ کوئی عورت غربت کے ہاتھوں اپنی مرضی کے خلاف ایسا راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ ہو۔
بقول احمد سلمان:
خدا کے نام پہ دیتے نہ تھے سو تنگ آ کر
قمیض پھاڑ لی تھوڑی سی اک بھکارن نے
مزید پڑھیں





