23 ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز پر عالمی پابندی ہوگی، امریکی وزیر خزانہ

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی ایئرلائنز کے لیے 23 ستمبر سے دنیا بھر میں اپنا فضائی آپریشن جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔
سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ دو روز میں تمام ایرانی ایئرلائنز کو عالمی سطح پر کام کرنے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی پابندیوں کا دائرہ صرف ایرانی فضائی کمپنیوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ بیرون ملک موجود وہ ادارے بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں جو ایرانی طیاروں کو سہولیات فراہم کریں گے۔
امریکی وزیر خزانہ کے بقول اگر کوئی ہوائی اڈہ ایرانی طیارے کو ایندھن فراہم کرتا ہے یا اسے لینڈنگ کی سہولت دیتا ہے تو متعلقہ ادارے کو امریکی مالیاتی نظام سے باہر کیے جانے کا خطرہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ایرانی ایئرلائنز کے ٹکٹس فروخت کرنے والی کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کے تحت سخت کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے 8 ستمبر کو ایران کے باقی ماندہ ایئرلائنز سمیت ہوا بازی کے شعبے سے منسلک متعدد اداروں اور کمپنیوں کو بھی پابندیوں میں شامل کیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی پابندیوں پر عمل درآمد کے معاملے میں چینی مالیاتی حکام سے مثبت بات چیت جاری ہے اور چینی حکام اس معاملے میں کافی سرگرم ہیں۔ تاحال ایران کی جانب سے ان امریکی پابندیوں اور دھمکیوں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ایرانی حکومت نے بارہا ایسی پابندیوں کا سامنا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی کمپنیوں کی بیرون ملک پروازوں کے لیے ایندھن، لینڈنگ، ٹکٹنگ اور دیگر ضروری خدمات کا حصول مشکل بلکہ کسی حد تک ناممکن ہوجائے گا۔





