Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حکومتی سطح پر سمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی بات زیر بحث نہیں: طارق فضل چودھری

Dr.-Tariq-Fazal-Chaudhary

اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے واضح کیا ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے متعلق کوئی بات زیر بحث نہیں آئی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تین ماہ کے لیے تھری ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے تاکہ انہیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے ریلیف دیا جاسکے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ تمام عوامی نمائندوں کی ڈیوٹی لگائی جارہی ہے کہ وہ عوام کو حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ریلیف اور دیگر متعلقہ معاملات کے حوالے سے رہنمائی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد بند نہیں ہونے جارہا۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے تحت انتظامیہ کو شہریوں کی آمدورفت بحال رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جماعت کے رہنماؤں کو عوامی مقامات پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو سوچنا چاہیے جو بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مارچز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ پرتشدد اور انتشار سے بھرپور مارچ تحریک انصاف کا ہوتا ہے۔ ان کے بقول نام پرامن مارچ کا دیا جاتا ہے لیکن مظاہروں کو پرتشدد کردیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے سوال کیا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ نظام تبدیل کرنے کے لیے آرہا ہے تو کیا اس کی آمد سے نظام تبدیل ہوجائے گا؟ وزیراعظم کے دروازے پر بیل دے کر استعفیٰ مانگنے سے کیا وزیراعظم استعفیٰ دے دیں گے؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف متعدد مرتبہ مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں پیش آنے والے مناظر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ سیاسی ناپختگی اور کسی منصب کی تذلیل نہیں ہوسکتی۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ آپ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، کبھی کسی گاڑی پر بیٹھتے ہیں اور کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام وزرائے اعلیٰ ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور سب کو اپنے منصب کی عزت کرنی چاہیے۔