میرا چیلنج ہے، ایک مثال لا دیں،تحریر:سید ضیغم حسن
نقطہ نظر
کبھی فرصت ملے تو ایک چھوٹا سا تجربہ کیجیے۔ اپنے شہر، اپنے محلے یا پورے ملک میں کوئی ایک مثال ڈھونڈ لائیے کہ کسی مسجد میں فجر کی اذان ظہر کے وقت دے دی گئی ہو۔ یا ظہر کی نماز عشاء کے وقت پڑھائی گئی ہو۔ کوئی ایسا مسلمان بتا دیجیے جو عام حالات میں فوت ہوا اور اسے بغیر نمازِ جنازہ کے دفنا دیا گیا ہو۔ یا کوئی ایسی شادی جو بغیر نکاح کے ہو گئی ہو۔ میں جانتا ہوں آپ کو ایسی کوئی مثال نہیں ملے گی۔ یہ میرا دنیا کے ہر بندے کو چیلنج ہے۔
اب ذرا نظر گھما کر دوسرے اداروں کو دیکھ لیجیے۔ کون سا ایسا محکمہ ہے جس کے منصوبے وقت پر مکمل ہوتے ہیں؟ سڑک بنتی ہے تو سالوں لٹکی رہتی ہے۔ پل کا افتتاح ہوتا ہے تو پہلی بارش میں پول کھل جاتا ہے۔ فائل ایک میز سے دوسری میز تک پہنچنے میں مہینے لگا دیتی ہے، اور جہاں کام جلدی چاہیے وہاں "خرچہ پانی" کی بات چل نکلتی ہے۔ تاخیر اور کرپشن ہمارے اداروں کے ساتھ اس طرح جڑ گئے ہیں کہ اب ہمیں عجیب بھی نہیں لگتے۔
اس موازنے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف وہ کام ہے جو مولویوں کے ذمے لگایا گیا، یعنی اذان، نماز، جنازہ اور نکاح۔ یہ کام اپنے وقت پر، پورے قاعدے کے ساتھ اور بڑی پابندی سے ہو رہا ہے۔ دوسری طرف باقی سارے شعبے ہیں جو ہم نے سنبھالے ہوئے ہیں، اور وہاں ہر طرف بدنظمی ہے۔ یہاں تک پہنچ کر ایک سوال بنتا ہے جو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: غلطی آخر کس کی ہے؟
ہمارے ہاں رواج ہے کہ جب بھی ملک کے مسائل کی بات ہو تو انگلی مولوی کی طرف اٹھ جاتی ہے۔ کبھی اسے پسماندگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کہا جاتا ہے۔ لیکن حقائق کچھ اور کہتے ہیں۔ جس شعبے کی ذمہ داری انہیں دی گئی، انہوں نے اسے بہت اچھے انداز سے نبھایا۔ مسجد کا نظام ہو یا نکاح اور جنازے کا، کہیں بھی وہ ڈھیلے نہیں پڑے۔ تو پھر انجینئرنگ، صحت، تعلیم، انتظامیہ اور معیشت کی خرابی کا الزام ان کے سر کیسے آ سکتا ہے؟ ان شعبوں میں تو ہم بیٹھے تھے۔
یہ بات کڑوی ضرور ہے، مگر ہے سچ۔ غلطیاں ہم میں ہیں۔ ہم نے دفتر میں دیر سے آنے کو معمول بنا لیا۔ ہم نے رشوت کو "مجبوری" کا نام دے دیا۔ ہم نے کام کو ذمہ داری کی جگہ بوجھ سمجھا۔ ہم نے اس بات کی پروا نہیں کی کہ ہمارے ایک دستخط، ایک فیصلے یا ایک دن کی سستی سے کسی کا گھر، کسی کا علاج اور کسی کا مستقبل رکا ہوا ہے۔ ہمیں اذان وقت پر چاہیے، لیکن اپنی ڈیوٹی میں وقت کی پابندی ہمیں بوجھ لگتی ہے۔
اصل سبق یہی ہے کہ جہاں ذمہ داری کا احساس ہو، وہاں نظام چلتا ہے۔ مسجد کا نظام اس لیے نہیں بگڑتا کہ وہاں کام کرنے والا جانتا ہے کہ وقت کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اگر یہی سوچ ہم اپنے دفتروں، سکولوں، ہسپتالوں اور کارخانوں میں لے آئیں تو تصویر بدلتے دیر نہیں لگے گی۔ ترقی کے لیے کسی بیرونی نسخے یا بڑے بڑے نعروں کی ضرورت نہیں۔ اپنا کام وقت پر، ایمانداری سے اور پوری ذمہ داری کے ساتھ کرنا کافی ہے۔
اس لیے اگلی بار جب ہم پسماندگی کا رونا روئیں تو ایک لمحے کو رک کر خود سے پوچھ لیں کہ میں نے اپنے حصے کا کام کتنی دیانت سے کیا؟ باقی شعبوں میں ترقی نہ کر سکنے کا قصور ہمارا اپنا ہے۔ دوسروں کو الزام دینا آسان ہے، لیکن بدلنے کا آغاز آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں





