Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بھارت: لاء کالج کی مسلمان وائس پرنسپل سے جبری استعفیٰ، 23 گھنٹے محصور رکھا گیا


بھارتی ریاست مغربی بنگال میں سریندر ناتھ لاء کالج کی مسلمان وائس پرنسپل اور ٹیچر انچارج محمدی ترنم کو طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے مبینہ طور پر گھنٹوں محصور رکھنے کے بعد استعفے پر دستخط کرنے پر مجبور کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بھارتی اخبار کے مطابق طلبہ تنظیم اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ نے محمدی ترنم کو گھیر لیا اور انہیں ان کے کمرے میں 23 گھنٹے تک محصور رکھا۔ رپورٹ کے مطابق طلبہ اپنے ساتھ استعفے کا خط لے کر آئے تھے، جس پر ٹیچر سے مبینہ طور پر زبردستی دستخط کرالیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمدی ترنم کے کمرے سے جانے کے بعد طلبہ کے گروپ نے اندر داخل ہو کر اگربتیاں جلائیں اور گنگا جل چھڑکا۔ محمدی ترنم نے طلبہ کے حصار سے نکلنے کے فوراً بعد اعلیٰ حکام کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا کہ ان پر دباؤ ڈال کر استعفے کے خط پر دستخط لیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طلبہ اور ٹیچر کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ طلبہ کی غیر حاضری سے متعلق معاملہ تھا۔ قانون کے طلبہ کو امتحانات میں شرکت کے لیے 65 فیصد حاضری مکمل کرنا ضروری ہوتی ہے، تاہم بیشتر طلبہ یہ شرط پوری نہیں کر رہے تھے۔ واقعے کے حوالے سے ہائیر ایجوکیشن اتھارٹی کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ محمدی ترنم کی جانب سے دیا گیا استعفے کا خط منظور ہوا ہے یا نہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں سیاسی صورتحال اور ہندوتوا سے متعلق معاملات پر بھی بحث جاری ہے، تاہم محمدی ترنم کے استعفے کے معاملے میں جبری دستخط اور دیگر الزامات سے متعلق مزید سرکاری وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔