Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسلام آباد لانگ مارچ کا آغاز، گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی قبول کریں گے، سہیل آفریدی


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لکی مروت میں گنڈی چوک سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا، کارکنوں سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں راج صرف عمران خان کا ہوگا، گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی قبول کریں گے۔

سہیل آفریدی آج (اتوار کو) پی ٹی آئی لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے۔ یہ مارچ جیل میں قید پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

مارچ کا آغاز پشاور کراچی انڈس ہائی وے پر واقع گنڈی چوک سے کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد لاہور میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو ٹھہرایا ہے۔

محسن نقوی نے اپنی پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی میں شامل تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کمیٹی کا رویہ ہمارے سامنے مثبت جبکہ سہیل آفریدی سے بات چیت کے بعد مختلف ہوجاتا تھا۔ انہوں نے مذاکرات ختم ہونے کا مکمل ذمہ دار وزیراعلیٰ کو قرار دیا۔ مذاکراتی کمیٹی میں شامل سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور سینئر پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے محسن نقوی کی پریس کانفرنس کے بعد ایکس پر ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ عمران خان تک رسائی کے معاملے کو قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے تمام مطالبات واپس لینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ سیاسی قیادت کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ فی الحال معاہدے میں شامل نہیں ہوگا اور قابل غور بھی نہیں ہے۔ اسی مؤقف کے باعث مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوا۔


سہیل آفریدی نے لکی مروت میں گنڈی چوک پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل مذاکراتی کمیٹی اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے گئی تھی لیکن ایک مائنڈ سیٹ جو بند کمروں میں فیصلے کرتا ہے، کل وہ ایک اور فیصلہ عوام پر مسلط کرنے جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی ایسی پالیسی کو نہیں مانتے جس میں پشتونوں کا نقصان ہو،79 سال سے مسلط ایک مائنڈ سیٹ کل عوام پر آپریشنز کی ایک اور پالیسی مسلط کر رہا تھا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بانی پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور صوبے میں ان کا وژن اور پالیسی ہی چلے گی۔ عوام نے جس لیڈر کو ووٹ دیا ہے، اس کا کھلاڑی میدان میں ڈٹ کر کھڑا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کو کھلی پالیسی دیتی ہے، اگر اس پر عملدرآمد کیا جائے تو 100 دنوں میں امن قائم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوابی پہنچنے تک لاکھوں لوگ ہمارے قافلے میں ہوں گے اور حقیقی آزادی کی یہ تحریک ملک کے کونے کونے تک پھیل چکی ہوگی۔