جب بچے ضامن بن گئے،تحریر: اعجاز راہی
نقطہ نظر
زندگی کے بڑے مسئلوں کا جواب بڑے بڑے ایوانوں میں نہیں بلکہ کبھی کبھی کسی عام سے گھر کی چار دیواری میں مل جاتا ہے۔ چند روز پہلے ایک خاندان کی ایسی کہانی سننے کو ملی جس نے دیر تک سوچنے پر مجبور کیے رکھا۔ ایک میاں بیوی میں شدید ناراضی تھی۔ بات یہاں تک بڑھی کہ خاوند نے گھر سے الگ رہنا شروع کر دیا۔ دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے ڈیڑھ سال میں بدل گئے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ تھے، دونوں کے پاس اپنی اپنی شکایات تھیں اور دونوں شاید یہ سمجھنے لگے تھے کہ ایک دوسرے کے بغیر زندگی گزارنا ہی اس رشتے کا آخری حل ہے۔
پھر حالات نے کروٹ لی۔ خاوند نے اپنے برادرنسبتی سے رابطہ کیا کہ میں چاہتاہوں کہ بچوں کے مستقل کی خاطر ہم دوبارہ اکٹھے ہوں۔ سو میں نے محسوس کیا کہ اتنی طویل دوری کے باوجود ایک بار پھر صلح کی کوشش ہونی چاہیے۔ اس نے اپنی بہن تک یہ بات پہنچائی اور اس طرح انہیں دوبارہ ایک میز پر بٹھانے کی کوشش شروع ہوئی۔ بات آگے بڑھی تو بیوی کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ اگر دوبارہ بات ہونی ہے تو کسی ضامن کی موجودگی میں ہونی چاہیے۔
یہ بات جب خاوند تک پہنچی تو اس نے کہا کہ سب سے پہلے وہ اور اس کی بیوی خود بیٹھ کر بات کریں گے۔ ان کے درمیان جو اختلافات ہیں، جن شکایات نے انہیں ایک دوسرے سے دور کیا ہے اور جن باتوں کی وجہ سے ڈیڑھ سال تک گھر آباد نہیں ہوسکا، پہلے انہی معاملات پر بات ہونی چاہیے۔ آخرکار ساتھ رہنے یا الگ رہنے کا فیصلہ انہیں دونوں نے کرنا ہے اور ان کے درمیان موجود اختلافات کا حل بھی وہ دونوں ہی تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر پہلی ملاقات میں دونوں اپنے اختلافات کو سمجھ لیتے ہیں، کچھ معاملات پر اتفاق کرلیتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مستقبل کے لیے کوئی راستہ نکال لیتے ہیں تو پھر ضرورت محسوس ہونے پر کسی ضامن کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ خاوند نے خود بیوی سے رابطہ کیا۔ بیوی بھی ملاقات کے لیے آمادہ ہوگئی۔
دونوں اپنے بچوں کے سامنے بیٹھے۔ بچے سترہ اور چودہ برس کے ہیں - طویل گفتگو ہوئی۔ شکوے بھی سامنے آئے، شکایات بھی بیان ہوئیں، ماضی کی تلخیاں بھی زیر بحث آئیں اور ایک دوسرے کا مؤقف بھی سنا گیا۔ اس مرتبہ مقصد ایک دوسرے کو شکست دینا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنا تھا۔
کافی گفتگو کے بعد دونوں نے کچھ باتوں پر اتفاق کیا۔ دونوں نے یہ تسلیم کیا کہ اگر آئندہ زندگی ایک ساتھ گزارنی ہے تو صرف دوسرے سے تبدیلی کی توقع کافی نہیں ہوگی بلکہ دونوں کو اپنے اپنے رویوں میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ شوہر کو بھی کچھ باتیں بدلنی ہوں گی اور بیوی کو بھی۔
اسی دوران ضامن کی بات دوبارہ سامنے آئی تو دونوں بچوں نے کہا کہ اب کسی تیسرے شخص کو ضامن بنانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنے والدین سے کہا: ہم دونوں آپ کے ضامن ہیں۔ آج آپ دونوں نے جو باتیں طے کی ہیں، ہم ان پر عمل درآمد کروائیں گے۔ اگر آپ دونوں میں سے کوئی اپنے وعدے سے پیچھے ہٹے گا تو ہم اسے یاد دلائیں گے کہ آج آپ نے ایک دوسرے سے کیا وعدہ کیا تھا۔ اس ایک جملے میں اس پوری کہانی کا حاصل موجود تھا۔
کبھی کبھی کسی معاہدے کی سب سے مضبوط ضمانت کوئی تیسرا شخص نہیں بلکہ اپنا مستقبل ہوتا ہے۔
یہ دونوں میاں بیوی شاید اس عمر میں پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کے بغیر بھی زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن ان کے سامنے ان کے بچے تھے، ان کا مستقبل تھا، ان کا گھر تھا۔ انہوں نے اپنی ناراضی اور اپنی انا سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ سوچا کہ اگر ایک دوسرے کے ساتھ دوبارہ زندگی شروع کرنے سے بچوں کا مستقبل بہتر ہوسکتا ہے اور گھر دوبارہ آباد ہوسکتا ہے تو اس کوشش میں کوئی نقصان نہیں۔ چنانچہ ڈیڑھ سال کی دوری ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی اور الگ رہنے والا خاوند دوبارہ گھر واپس آنے پر آمادہ ہوگیا۔
یہ کہانی سننے کے بعد بے اختیار پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال کا خیال آیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ دونوں جانب سے نمائندے بیٹھے۔ ایک دوسرے کی بات سنی گئی، مطالبات سامنے آئے اور مختلف معاملات پر گفتگو ہوئی، لیکن بالآخر مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دینے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ مگر مذاکرات کی ناکامی کو مذاکرات کے خاتمے کا نقطۂ آخر نہیں بننا چاہیے۔
ڈیڑھ سال تک ایک دوسرے سے الگ رہنے والے دو انسان اگر اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دوبارہ ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں، اپنی شکایات ایک دوسرے کے سامنے رکھ سکتے ہیں اور اپنے رویوں میں تبدیلی کا وعدہ کرسکتے ہیں تو پاکستان کی سیاسی قوتیں بھی ملک کے مستقبل کے لیے دوبارہ ایک میز پر بیٹھ سکتی ہیں۔پاکستان میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ موجود رہے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کا ایک دوسرے سے اختلاف جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے۔ لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا، سیاسی مقابلے کو ریاستی تصادم بنا دینا اور ہر بحران کا جواب سڑکوں پر تلاش کرنا ملک کے لیے کسی صورت سودمند نہیں۔
حکومت آج ہے، کل نہیں ہوگی۔ اپوزیشن آج اقتدار سے باہر ہے، کل اقتدار میں آسکتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر ریاست باقی رہتی ہے۔ اس لیے سیاسی فریقوں کی وقتی کامیابی یا ناکامی سے زیادہ اہم پاکستان کا استحکام ہے۔ حالیہ مذاکرات میں جن معاملات پر اختلافات سامنے آئے، ان میں خیبر پختونخوا میں امن و امان، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، سیاسی کشیدگی اور باہمی اعتماد کا فقدان اہم عوامل ہیں۔ ان مسائل کو مذاکرات کی میز کے باہر حل کرنا ممکن نہیں۔ ان کے لیے سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا۔
سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان ایک مؤثر رابطے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہیں خود آگے بڑھ کر وفاقی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔ صوبے کے تحفظات وفاق کے سامنے رکھے جائیں، لیکن اسی کے ساتھ وفاق کے خدشات بھی سنے جائیں۔ اگر وفاق کو خیبر پختونخوا میں امن و امان، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون یا صوبائی حکومت کے کسی طرزعمل پر تحفظات ہیں تو ان تحفظات کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر صوبائی حکومت کو وفاق سے سیاسی، آئینی یا انتظامی معاملات میں شکایات ہیں تو انہیں بھی کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر رکھا جانا چاہیے۔
یہ عمل الزام تراشی کے بجائے اعتماد سازی سے شروع ہوسکتا ہے۔ سہیل آفریدی کے لیے یہ موقع موجود ہے کہ وہ محض ایک سیاسی جماعت کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے وفاق کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کریں۔ وفاقی حکومت بھی اسے سیاسی دباؤ یا کمزوری کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک موقع سمجھے جس کے ذریعے صوبے اور مرکز کے درمیان فاصلے کم کیے جاسکتے ہیں۔ امن کی طرف اٹھایا گیا قدم کبھی سیاسی کمزوری نہیں ہوتا۔
سیاسی بالغ نظری کا تقاضا یہی ہے کہ جب حالات کشیدہ ہوں تو قیادت اپنے الفاظ اور اپنے رویے دونوں میں گنجائش پیدا کرے۔ ایک قدم آگے بڑھانے کے لیے کبھی کبھی ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ یہی سیاست کی خوبصورتی بھی ہے اور اسی میں ریاستی مفاد پوشیدہ ہوتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی سیاسی کشمکش، معاشی مشکلات اور دہشت گردی کے کئی محاذوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں وفاق اور صوبے کے درمیان مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔ خیبر پختونخوا میں امن ہوگا تو اس کا فائدہ صرف صوبے کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ہوگا، اور وفاق و صوبہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی زیادہ مؤثر انداز میں لڑی جاسکے گی۔ اس لیے حالیہ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں تو انہیں آخری کوشش سمجھنے کے بجائے ایک ناکام مرحلہ سمجھا جائے۔ ایک نئی کوشش کی جائے۔
اس مرتبہ مذاکرات کا دائرہ وسیع ہو، لہجہ نرم ہو، مطالبات واضح ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ عزم موجود ہو کہ مقصد ایک دوسرے کو شکست دینا نہیں بلکہ ملک کو بحران سے نکالنا ہے۔ حکومت بھی ایک قدم آگے بڑھے اور اپوزیشن بھی۔ سہیل آفریدی وفاق سے براہ راست بات کریں۔ وفاقی حکومت صوبے کے تحفظات سنے۔ صوبائی حکومت وفاق کے خدشات کو سمجھے۔ جن معاملات پر فوری اتفاق ہوسکتا ہے ان پر اتفاق کیا جائے اور جو معاملات مزید وقت چاہتے ہیں ان کے لیے ایک واضح طریقۂ کار طے کیا جائے۔ کسی بھی معاہدے کے لیے اگر بعد میں کسی ضامن یا تیسرے فریق کی ضرورت محسوس ہو تو وہ بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن پہلا قدم خود سیاسی فریقوں کو اٹھانا ہوگا۔
کیونکہ اصل ضمانت کسی تیسرے فریق کی نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی ہے۔ وہ بچے جو آج دہشت گردی سے خوفزدہ ہیں، وہ نوجوان جو روزگار اور بہتر مستقبل چاہتے ہیں، وہ خاندان جو امن چاہتے ہیں، وہ تاجر جو معاشی استحکام چاہتے ہیں اور وہ عام شہری جو ریاستی اداروں کو باہم دست و گریباں دیکھنے کے بجائے اپنے مسائل حل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، یہی اس ملک کے اصل فریق ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کو انہی کے مستقبل کو سامنے رکھ کر دوبارہ بیٹھنا ہوگا۔
اس خاندانی واقعے میں دو بچے اپنے والدین کے درمیان صلح کے ضامن بن گئے تھے۔ پاکستان میں کروڑوں بچے اور نوجوان ہماری سیاسی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مستقبل سے بڑھ کر کوئی ضمانت نہیں ہوسکتی۔ سیاسی اختلاف ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی ہونا چاہیے۔ اختلاف جمہوریت کی روح ہے۔ لیکن اختلاف کے باوجود ایک دوسرے سے بات کرنا، ایک دوسرے کا مؤقف سننا اور قومی مفاد کے لیے اپنے مؤقف میں گنجائش پیدا کرنا ہی سیاسی بلوغت ہے۔ اس وقت پاکستان کو اسی بلوغت کی ضرورت ہے۔یہ وقت دیواریں اونچی کرنے کا نہیں، پل بنانے کا ہے۔ یہ وقت ایک دوسرے کو شکست دینے کا نہیں، ملک کو بحران سے نکالنے کا ہے۔ اور اس کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ایک بار پھر بیٹھنا ہوگا۔امن کو ایک اور موقع دینا ہوگا۔
مزید پڑھیں





