Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جہیز کے خلاف جنگ،تحریر:ردا امانت علی

نقطہ نظر

جہیز ایک ایسا ناسور ہے جس پر جب بھی آواز اٹھائی جائے، معاشرے کے خود ساختہ ٹھیکیدار روایتی منطق کے پیچھے چھپ کر ہمیں خاموش کروا دیتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کی اکثریت بھی اسی فرسودہ سوچ کی اسیر دکھائی دیتی ہے کہ: "اگر بیٹی کو بھاری جہیز نہ دیا تو سسرال والے طعنوں سے اس کا جینا حرام کر دیں گے۔ لوگ باتیں بنائیں گے کہ بیٹی کو خالی ہاتھ رخصت کر دیا اور یوں بیٹی کی سسرال میں کوئی عزت نہیں رہے گی۔"

یہ اسی معاشرتی جبر کا نتیجہ ہے کہ والدین بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی بہترین تعلیم و تربیت اور اسے کسی اعلیٰ عہدے پر فائز دیکھنے کے خواب بننے کے بجائے، اس کے جہیز کی فکر میں گھلنے لگتے ہیں۔ بیٹی کی لوریوں سے لے کر اس کی رخصتی تک، والدین کے اعصاب پر بس ایک ہی دھن سوار رہتی ہے کہ لڑکے والوں کی امادگی اور فرمائش کے مطابق سامان کا بندوبست کیسے کیا جائے اور اس مظاہرے میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ والدین اپنی بساط اور خون پسینے کی کمائی سے جو سامان جہیز کے نام پر اکٹھا کرتے ہیں، وہ ابھی لڑکی کے استعمال میں بھی نہیں آتا کہ سسرال والوں کی ہوس انگڑائی لینے لگتی ہے۔ وہ آتے جاتے بہو کے دل کو طنز کے تیروں سے چھلنی کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ "فلاں کی بہو تو اپنے ساتھ یہ بیش قیمت سامان بھی لائی تھی!"

کاش یہ معاشرہ اس حقیقت پر غور کرے کہ جن والدین نے اپنے جگر کا ٹکڑا ہمیشہ کے لیے آپ کے حوالے کر دیا، اور ساتھ میں ضرورت کا تمام سامان بھی دیا—جو اگلی نسلوں تک کے کام آ سکتا ہے—اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس بیٹی کی تربیت اتنی مثالی کی کہ وہ نامساعد حالات میں بھی صابر اور شاکر رہے؛ کیا وہاں بھی جہیز کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟

والدین تو بیٹی کو طعنوں سے بچانے کے لیے یہ بوجھ اٹھاتے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک مرد اس قابل بھی نہیں کہ وہ اپنی شریکِ حیات کی بنیادی ضروریات خود پوری کر سکے؟ لڑکی اگر اتنا سب کچھ لانے کے بعد بھی سسرال میں طنز و تحقیر کا نشانہ بن رہی ہے، تو کیا وہ پلٹ کر یہ کہنے کا حق نہیں رکھتی کہ دو وقت کی روٹی تو وہ اپنے باپ کے گھر بھی عزت سے کھاتی تھی؟ اگر جہیز دینے کے بعد بھی عورت کو سسرال میں تحفظ اور عزتِ نفس میسر نہ ہو، تو تف ہے معاشرے کے ان کھوکھلے اصولوں پر، جہاں مرد اپنی بیوی کی کفالت کرنے سے بھی قاصر ہے!

میں نے ایسے مجبور والدین بھی دیکھے ہیں جو بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر اپنی آبائی زمینیں تک فروخت کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف، کچھ روشن خیال سسرال والے ایسے بھی ہیں جو لڑکی کے والدین پر بوجھ ڈالے بغیر، اسے محض دو جوڑوں میں بیاہ لاتے ہیں۔ اگرچہ ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں، لیکن ان کی اس عالی ظرفی کی بدولت کتنے ہی والدین سکون کا سانس لے رہے ہوں گے کہ ان کی بیٹی اپنے گھر میں خوش اور آباد ہے۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بیٹی کو سامانِ جہیز سے تولنے کے بجائے اس کی بہترین تربیت اور تعلیم پر سرمایہ کاری کی جائے، تاکہ وہ معاشرے میں ایک مثبت اور نئی سوچ کی بنیاد رکھ سکے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ "لوگ کیا کہیں گے" کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر صرف بیٹی کی ناگزیر ضروریات کی حد تک ہی سامان دیں۔ یقین جانیے، آپ بیٹی کو دنیا جہان کی نعمتیں بھی دے دیں، تب بھی نقطہ چینی کرنا بیمار ذہنوں کی فطرت ہے۔

آج کے نوجوانوں کو بھی یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ جہیز کے بل بوتے پر مردانگی ثابت نہیں ہوتی اور نہ ہی معاشرے میں کوئی عزت بنتی ہے۔ اگر ہمیں ایک صالح اور روشن معاشرہ تشکیل دینا ہے، تو جہیز کی اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ وہ نمود و نمائش کے اسیر ہونے کے بجائے اپنے شوہر سے صرف جائز اور بساط کے مطابق ضروریات کا ہی تقاضا کریں۔