کبھی سوچا ہے، تمہارے جانے کے بعد تم میں سے کیا باقی رہے گا؟تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
کبھی سوچا ہے، تمہارے جانے کے بعد تم میں سے کیا باقی رہے گا؟ یہ سوال جب بھی ذہن میں آتا ہے، مجھے کچھ دیر کے لیے خاموش کر دیتا ہے۔ ہم ساری زندگی جینے میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ کبھی ٹھہر کر یہ نہیں سوچتے کہ جس زندگی کو ہم اپنا سمجھ کر گزار رہے ہیں، وہ آخر کتنی دیر کے لیے ہمارے پاس ہے۔ ہم گھر بناتے ہیں، چیزیں جمع کرتے ہیں، نام بناتے ہیں، رشتوں کو اپنے ہونے کا یقین دلاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ہمیں لگنے لگتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ ہمارے ساتھ رہنے والا ہے۔ شاید انسان کی سب سے بڑی بھول یہی ہے کہ وہ عارضی چیزوں سے مستقل وابستگی قائم کر لیتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر جانا ہے، مگر دل پھر بھی ہر چیز کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔
ہم کہتے ہیں، میرا گھر، میرے لوگ، میری کامیابی، میری عزت، میری محبت۔ کبھی کبھی تو ہم اپنی تکلیف کو بھی "میری" کہہ کر اتنا سنبھال کر رکھتے ہیں کہ وہ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ حالانکہ زندگی بار بار ہمیں سمجھاتی ہے کہ یہاں کچھ بھی مکمل طور پر ہمارا نہیں۔ لوگ ہمارے ساتھ چلنے کے لیے آتے ہیں، ہمیشہ ہمارے ساتھ رہنے کے لیے نہیں۔ گھر ہمیں پناہ دیتا ہے، مگر ہمیشہ ہمارا نہیں رہتا۔ جسم ہمیں زندگی دیتا ہے، مگر ایک دن اسے بھی مٹی میں واپس جانا ہے۔ شاید موت انسان سے صرف زندگی نہیں لیتی، وہ اس کا یہ خیال بھی توڑ دیتی ہے کہ وہ کسی چیز کا مستقل مالک ہے۔
کبھی کسی ایسے گھر میں جاؤ جہاں کچھ عرصہ پہلے کوئی اپنا رہتا تھا اور اب نہیں ہے۔ چیزیں اپنی جگہ ہوتی ہیں، پردے وہی، کتابیں وہی، میز پر رکھی کوئی پرانی چیز بھی وہیں ہوتی ہے، مگر گھر کے اندر سے ایک آواز کم ہو چکی ہوتی ہے۔ شروع میں لوگ ہر چیز کو دیکھ کر اسے یاد کرتے ہیں، پھر وقت گزرتا ہے اور زندگی اپنی رفتار سے چلنے لگتی ہے۔ یہی دنیا ہے۔ کسی کے جانے پر کچھ وقت کے لیے سب کچھ رک سا جاتا ہے، پھر دوبارہ چل پڑتا ہے۔ شاید اسی لمحے انسان کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ دنیا ہمارے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارا ہونا بے معنی تھا۔ شاید اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے گزرنے کے بعد کسی ایک دل میں بھی ہماری کمی کس طرح باقی رہتی ہے۔
میں اکثر سوچتی ہوں، آخر انسان کو یاد کیا رکھتا ہے؟ اس کی دولت؟ اس کا عہدہ؟ اس کی شہرت؟ شاید نہیں۔ کچھ لوگ بہت کچھ چھوڑ جاتے ہیں، مگر ان کے جانے کے بعد ان کی چیزیں تو رہتی ہیں، ان کی کمی نہیں رہتی۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس شاید دنیا کے حساب سے بہت زیادہ کچھ نہیں ہوتا، مگر ان کے جانے کے بعد بھی کوئی انہیں یاد کرکے خاموش ہو جاتا ہے۔ کسی کو ان کی آواز یاد آتی ہے، کسی کو ان کا انداز، کسی کو مشکل وقت میں دیا ہوا ایک چھوٹا سا سہارا۔ شاید انسان کی اصل پہچان اس کی چیزوں سے نہیں، اس احساس میں ہوتی ہے جو وہ دوسروں کے اندر چھوڑ جاتا ہے۔
ہمیں اکثر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہمارا ایک معمولی سا جملہ کسی دوسرے انسان کے لیے کتنا بڑا سہارا بن سکتا ہے۔ ہم کسی سے ملتے ہیں، اس کی بات سنتے ہیں، شاید ہمیں اگلے دن تک یاد بھی نہ رہے کہ اس نے کیا کہا تھا، مگر وہ شخص کئی سال بعد بھی یاد رکھ سکتا ہے کہ جب وہ ٹوٹ رہا تھا تو کسی نے اسے اُس وقت سن لیا تھا۔ کبھی کسی کا ہاتھ پکڑ لینا، کبھی کسی کی خاموشی کو سمجھ لینا، کبھی اپنی انا ایک طرف رکھ کر معافی مانگ لینا۔۔۔ یہ چیزیں بظاہر بہت چھوٹی ہیں، مگر شاید انسان کے جانے کے بعد یہی سب سے زیادہ زندہ رہتی ہیں۔
اسی لیے کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنے بارے میں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ لوگ ہمیں کتنا بڑا سمجھتے ہیں، بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ رہ کر وہ خود کو کیسا محسوس کرتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس بیٹھ کر کسی کا دل ہلکا ہوتا ہے یا مزید بوجھل؟ کیا کوئی اپنی کمزوری ہمیں بتا سکتا ہے یا اسے ڈر لگتا ہے کہ ہم اسے کمتر سمجھیں گے؟ کیا ہم اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کی عزت رکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم کسی کی غلطی کو ہمیشہ کے لیے اُس کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے اُسے معاف کر سکتے ہیں؟ کیونکہ آخرکار لوگ ہماری بہت سی باتیں بھول جائیں گے، مگر یہ احساس شاید نہیں بھولیں گے کہ ہم نے انہیں کس طرح دیکھا تھا۔
اور شاید یہاں سے بات صرف انسانوں تک نہیں رہتی۔ اس کے بعد ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے، وہ حقیقت جس سے ہم چاہیں بھی تو زیادہ دیر بھاگ نہیں سکتے۔ ایک دن ہمیں اپنے نام، اپنی حیثیت، اپنی مصروفیات، اپنی خواہشات، سب سے الگ ہونا ہے۔ ہم نے اپنے بارے میں جو کچھ دنیا کو بتایا، وہ ایک طرف رہ جائے گا اور ہمارے اندر جو حقیقت تھی، وہ دوسری طرف۔ وہ نیتیں بھی جنہیں کسی نے نہیں دیکھا، وہ نیکیاں بھی جن کا ہم نے کسی سے ذکر نہیں کیا، وہ آنسو بھی جو ہم نے چھپ کر بہائے، اور وہ غلطیاں بھی جنہیں ہم لوگوں سے چھپا کر شاید خود سے بھی چھپاتے رہے۔ خدا کے سامنے انسان اپنے بنائے ہوئے تعارف کے ساتھ نہیں جاتا، اپنی حقیقت کے ساتھ جاتا ہے۔
شاید اسی لیے زندگی کا اصل حساب یہ نہیں کہ ہم نے کتنے لوگوں کو متاثر کیا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اندر کیا پیدا کیا۔ ہم نے اپنی انا کو کتنا بڑھایا اور دل کو کتنا نرم کیا؟ ہم نے دوسروں کو معاف کرنے میں کتنی دیر لگائی؟ ہم نے اپنے رب کی طرف کتنی بار پلٹنے کی کوشش کی؟ ہم نے محبت کو صرف حاصل کرنے کی چیز سمجھا یا دینے کی بھی؟ کیونکہ انسان باہر کی دنیا جیتتے جیتتے کبھی کبھی اپنے اندر ہی ہار جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو ثابت کرتا رہتا ہے کہ وہ صحیح ہے، مگر اس دوران کئی رشتے اس کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ وہ اپنی عزت بچاتے بچاتے کسی دوسرے کا دل توڑ دیتا ہے، اور پھر بہت دیر بعد سمجھ آتی ہے کہ جس انا کو بچانے کے لیے اتنا کچھ کھویا، وہ انا بھی آخر ایک دن ہمارے ساتھ نہیں جائے گی۔
شاید فنا کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان آہستہ آہستہ اپنے اس "میں" سے باہر نکلنا سیکھے جسے ہر چیز اپنے گرد گھومتی ہوئی چاہیے۔ یہ احساس کہ ہر بات میں میری جیت ضروری نہیں، ہر رشتہ میرے مطابق چلنا ضروری نہیں، ہر شخص کا مجھے سمجھنا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی خود کو تھوڑا سا پیچھے کر دینا بھی زندگی کی بڑی سمجھ ہوتی ہے۔ شاید اصل سکون وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں انسان ہر چیز پر اپنا حق جتانا چھوڑ دیتا ہے اور یہ مان لیتا ہے کہ کچھ لوگ صرف ملنے کے لیے آتے ہیں، کچھ سبق دینے کے لیےآتے ہیں اور کچھ ہمیں ہم سے سے ملوانے کے لیےآتے ہیں۔
اس لیے اب کبھی تنہائی میں بیٹھو تو خود سے یہ سوال ضرور کرنا کہ اگر آج میری زندگی ختم ہو جائے تو میرے بعد کیا رہ جائے گا؟ کیا صرف کچھ تصویریں، چند چیزیں اور ایک نام؟ یا کسی کے دل میں میری وجہ سے پیدا ہونے والی کوئی اچھی تبدیلی بھی ہوگی؟ کیا کوئی ایسا شخص ہوگا جو مجھے یاد کرکے دل سے دعا کرے گا؟ کیا کسی کی زندگی میں میری کوئی بات آج بھی کام آ رہی ہوگی؟ کیا کسی نے میرے ساتھ رہ کر یہ سیکھا ہوگا کہ مشکل وقت میں بھی انسان نرم رہ سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو شاید ہمارا یہاں آنا صرف اپنے لیے نہیں تھا۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں کچھ بڑا کرنا ہے تاکہ ہمیں یاد رکھا جائے۔ لیکن شاید ہمیشہ یاد رکھا جانا اتنا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی ایک اچھا انسان بن کر گزر جانا ہی کافی ہوتا ہے۔ کسی کے لیے آسانی بن جانا، کسی کے لیے سکون بن جانا، کسی کے دل میں یہ احساس چھوڑ جانا کہ دنیا میں ابھی اچھے لوگ موجود ہیں۔ شاید ہماری زندگی کی قیمت ہماری شہرت سے نہیں، ہماری غیر موجودگی میں ہمارے اثر سے معلوم ہوتی ہے۔
آخرکار ایک دن ہم سب کو جانا ہے۔ جس چیز کو آج بہت اہم سمجھ رہے ہیں، ممکن ہے کل وہ کسی اور کے پاس ہو۔ جس جگہ کو اپنا سمجھ رہے ہیں، وہاں کوئی اور بیٹھا ہو۔ ہماری آواز خاموش ہو جائے گی، ہماری مصروفیات ختم ہو جائیں گی، اور دنیا ہمیں آہستہ آہستہ اپنی نئی کہانیوں میں پیچھے چھوڑ دے گی۔ مگر اگر ہمارے جانے کے بعد بھی کسی کے دل میں ہمارے لیے محبت باقی رہے، کسی کی زبان پر ہمارے لیے دعا آ جائے، کسی کی شخصیت میں ہماری دی ہوئی کوئی اچھی بات زندہ رہے، تو شاید ہم پوری طرح گئے نہیں ہوں گے۔
شاید انسان کا اصل باقی رہ جانا یہی ہے۔ جسم نہیں رہتا، مگر اثر رہ جاتا ہے۔ آواز نہیں رہتی، مگر کہی ہوئی اچھی بات کہیں اندر زندہ رہ جاتی ہے۔ ہاتھ نہیں رہتے، مگر کسی کے سر پر رکھا ہوا وہی ہاتھ برسوں بعد بھی یاد آتا ہے۔ اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ انس
مزید پڑھیں





