Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنت نظیر کشمیر کی سیر،تحریر:کنیز سسیلیا منظور

نقطہ نظر

کشمیر جنت نظیر سنا تو بہت تھا۔کیلنڈرز اور ڈاکومنٹریز میں دیکھا بھی تھا ،لیکن وہاں خود جا کر اس کی جاں فزا فضا،حد نگاہ پھیلا سبزہ، دودھیا جھرنے،تازہ ترین و صاف ہوا،حسیںن وادیاں ، دریائے نیلم کا مدھر گیت گاتا پانی اور بادلوں سے بہت بہت بلند پہاڑ دیکھ کر ، جو خوشی، جو تازگی اور طمانیت محسوس کی وہ ناقابل بیان ہے ۔

وادیء نیلم میں ایل او سی کے مقام پر کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے ہوٹل بنےہوئے ہیں۔جہاں پر ہم لوگ تازہ خالص دودھ کی نہایت مزیدار چائے، بیسن اور پیاز کے گرما گرم لذیذ پکوڑوں سے اتے اور جاتے وقت لطف اندوز ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ہوٹل کی چھت سے نیلگوں دریائے نیلم کی موجوں سے آنکھوں اور جسم و روح کو تازہ کرنے کے علاوہ ،دریا کے دوسرے کنارے پر مقبوضہ کشمیر بھی دیکھا وہ بھی ویسے ہی خوبصورتی کا شاہکار ہے ۔جیسے ہم دریا کے اس پار آزاد کشمیر میں کھڑے ان نظاروں سے محظوظ ہو رہے تھے۔اس طرف پاکستان اور ازاد کشمیر کے جھنڈے فضا میں ہواوں کے سنگ جھوم رہے تھے اور دریا کے دوسری جانب بھارت کےجھندے نظر آ رہے تھے ۔


وہاں کے مقامی یعنی کشمیری اس پار بھارتی جھنڈے دیکھ کر بڑے دکھ سے ذکر کرتے کہ یہ بھی ہمارا ہی حصہ ہے ۔جسکی سرحد بس یہ دریا ہے ۔ لیکن ہم زندہ اس پار نہیں جا سکتے۔کیونکہ کبھی غلطی سے کوئ بچہ یا بڑا دریا میں ڈوب کر اس پار چلا جائے تو اس کی لاش ایل او سی کے مقام سے واپس بھیج دی جاتی ہے ۔

فطرت کے ان شاہکاروں کو دیکھنے کے لئے زرا دل گردے کی بھی ضرورت پڑتی ہے ۔کبھی پہاڑی سڑکوں پہ چڑھتے وقت آکسیجن کی کمی کے باعث سانس گھٹتی محسوس ہونے لگتی ہے ۔جو کچھ دیر گہری سانسیں لینے سے بحال ہو جاتی ہے۔ کبھی بلندی پہ چڑھتے یا نیچے اترتے ہوئے کان بند ہونے لگتے ہیں۔سینکڑوں ہزاروں فٹ اونچے پہاڑوں کے بالکل کنارے، سانپ کی طرح بار بار بل کھاتی سڑکوں پہ سفر کرتے بھی مجھ جیسے لوگوں کو ساری کی ساری دعائیں یاد اتی چلی جاتی ہیں۔اگر کمر اور گھٹنے اجازت دیتے تو وہاں کے ماہر ترین پہاڑی ڈرائیوروں کو سلام ضرور کرتی،کہ کیا ہی جی داری اور مہارت سے مسافروں سے باتیں کرتے کرتے نہایت سکون سے گاڑیاں چلاتے رہتے ہیں۔ان پہاڑی سڑکوں پہ چند لمحوں کو تو جیسےخون خشک ہونے لگتا ہے ۔البتہ تھوڑی ہی دیر میں وہاں کی اچھوتی خوبصورتی اور نظارے انسان کو بحال کر دیتے ہیں۔اور یقین مانیں کہ ایک ہفتے میں ہی گالوں پہ لالی سی جھلکنے لگتی ہے۔

اس کے علاوہ جا بجا پہاڑوں سے بہتے جھرنوں کا تازہ ،یخ ٹھنڈا پانی پی کر جو تازگی و ٹھنڈک قلب و جاں میں اترتی ہے وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، شروع میں اتنا یخ ٹھنڈا پانی پینے سے گلا خراب ہونے کا خدشہ طاہر کیا تو میرے بیٹے کا کشمیری دوست کہے لگا ۔"آنٹی اپ بے فکر ہو یہ پانی پیئں ،اس کی ٹھنڈک گلا نہیں پکڑتی۔ اور واقعی اس کا کہنابالکل درست ثابت ہوا۔ پھر جتنے دن وہاں رہے چشموں کا تازہ ،ٹھنڈا اور فرحت بخش پانی ہی پیتے رہے۔


رہی بات وہاں کے نظاروں کی ۔تو کسی ہوٹل کی پہلی یا دوسری منزل سے ،دریا اور اس کے اطراف پہاڑ اور پھیلا سبزہ ہر بار گویا کسی ماہر مصور کا جیتا جاگتا شاہکار معلوم ہوتا تھا ۔ کہیں پہاڑوں اور پتھروں پہ تیزی اور قوت سے جھرنوں کے پانی میں اتنا جھاگ بن جاتا کہ بالکل بہتا دودھ سا لگتا ۔کسی خاص سیاحتی مقام تک پہنچنے کے لئے جو سفر ہوتا ۔وہ الگ ہی دلچسپ اور قابل دید تفریح فراہم کرتا۔ جگہ جگہ پہاڑوں سے بہتے چھوٹے بڑے جھرنے،جن پہ اکثرمقامات پہ وہاں کے مقامی لوگ پلاسٹک کے پائپ لگا کر اپنے کاموں کے لئے استعمال کرتے۔گاڑیاں دھونے کے لئے پائپوں کو ذرا اوپر کی جانب باندھ دیا جاتا ہے تاکہ ان کے نیچے ارام سے گاڑیاں دھوئ جا سکیں۔

پہاڑی لوگ دریا کا پانی کبھی نہیں پیتے ،بلکہ ان قدرتی چشموں سے نکلنے والا پانی ہی پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔کئ خواتین اور لڑکیاں سروں پہ رکھے برتنوں میں اوپر پہاڑوں پہ بنے گھروں میں پانی لے جاتی نظر آتی تو میں حیرانگی سے اپنے گائیڈ سے پوچھتی ۔کہ پانی تو جگہ جگہ نکلتا ہے تو یہ اتنی دور سے کیوں لے کر جا تی ہیں۔تو اس نے بتایا کہ جس چشمےکا پانی زیادہ صاف شفاف لگتا ہے تو ہم لوگ اسی کا پانی پیتے ہیں۔


ایک گاؤں میں جب وہاں کی سیر کو پہنچے توسر سبز پہاڑوں کے دامن میں دریائے نیلم سے ملنے والی ایک بڑی سی ندی بہہ رہی تھی۔میں تو دریا ہی سمجھی لیکن پتہ چلا کہ یہ ندی ہے ۔پانی اس کا بھی دریا کی طرح بے حد ٹھنڈا اور شفاف تھا ۔کہ پانی میں موجود پتھر صاف نظر آ رہے تھے۔ کھانے کا ذکر چلا تو راہبر (گائیڈ ) نے پوچھا کیااپ لوگ یہاں کا دیسی کھانا پسند کریں گے؟اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ فورا حامی بھر دی۔تو وہ ایک مقامی ہوٹل کے نام پہ مٹی پتھروں سے بنا لمبا سا کمرہ ،جس میں پہلے کمرے میں لکڑی کے بنے ،بغیر کسی تراش خراش اور پالش کے لمبے بنچ اور میزیں رکھی ہوئ تھیں۔اگلے حصے میں بڑا سا ہاتھ سے بنایا گیا تندور جس کے اوپر چار چھوٹی بڑی دیگچیاں رکھنے کی جگہیں بنی ہوئ تھیں۔ سچ مانیئے مجھے وہ بالکل دیسی کوکنگ رینج ہی لگا ۔جس میں لکڑیاں جلا کر کھانے پکائے جاتے ہیں۔میں نے وہ باورچی خانہ دیکھنا چاھا تو وہاں موجود کشمیری باورچی نے نہایت پر تپاک انداز میں ہمیں خوش آمدید کہا۔پھر بڑے سے توے پہ پراٹھے پکاتے ہونے اپنے ان کی کھانوں اور چائے کی تعریفیں کرتا رہا ۔

دیسی گندم کے پراٹھے،دیسی انڈوں کا آملیٹ کچھ ہاف فرائ انڈے ،کابلی چنوں کا سالن۔گائے کے تازہ دودھ کی چائے اور تازہ لسی، سونے پہ سہاگہ گائے کے دودھ سے بنا ہوا گھر کا تازہ تازہ مکھن۔یوں تو ہر چیز ہی لذت سے بھرپور تھی۔لیکن اس مکھن کا تو کوئ ثانی ہی نہیں تھا۔اس نے تو کھانے کا لطف دوبالا کردیا ۔کہ اج بھی یاد کرتی ہوں تو دل چاہتا ہے کہ اڑ کر پھر سے وہاں پہنچ جائیں۔

کوشش ضرور کیجئے گا کہ زندگی میں ایک بار سہی ان جنت نظیر خطوں کا نظارہ کر سکیں۔


رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL