خواب، فریب اور خاموش زہر،تحریر : ردا فاطمہ اعوان
نقطہ نظر
ہم سب نے وہ مشہور کہاوت سنی ہے
"ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔"
یہ جملہ اکثر فخر سے، محبت سے، یا کسی رومانوی پہلو سے بولا جاتا ہے۔ مگر اس جملے کا دوسرا رُخ کوئی نہیں دیکھتا — وہ تلخ سچ، جو ناکامیوں کی دھند میں چھپا رہتا ہے۔
کوئی یہ نہیں کہتا کہ ہزاروں ناکام مردوں کے پیچھے بھی اکثر کسی عورت کا سایہ ہوتا ہے۔
یہ معاشرہ کامیابی کی چمک دمک میں اتنا گم ہو چکا ہے کہ وہ ان کہانیوں کو مکمل نظر انداز کر دیتا ہے جو روشنی تک پہنچنے سے پہلے ہی کہیں اندھیروں میں دفن ہو جاتی ہیں۔
مرد، فطرتاً حریف نہیں ہوتا۔ نہ وہ اتنا وقت رکھتا ہے، نہ دل میں اتنی پست ظرفی کہ کسی دوسرے کو برباد کرنے کی سازشیں بُنے۔ مگر عورت — جب چاہے، کسی جیتے جاگتے انسان کو اندر سے توڑ سکتی ہے، اُسے ایسا زہر دے سکتی ہے جو نہ دکھتا ہے، نہ محسوس ہوتا ہے، مگر آہستہ آہستہ زندگی کو چاٹتا رہتا ہے۔
یہی عورت جب چاہے تو کسی کی دنیا بن جاتی ہے، اور جب چاہے تو وہی دنیا اجاڑ بھی دیتی ہے۔
کبھی وہ خواب بیچتی ہے، کبھی امیدوں کا کاروبار کرتی ہے۔
ایک سادہ دل مرد، جو اپنے دل، اپنی جان، حتیٰ کہ اپنی پہچان تک وار دیتا ہے — بدلے میں اُسے اکثر ملتا ہے: دھوکہ، فریب، اور خاموش زہر۔
تاریخ گواہ ہے کہ نہ صرف عظیم کامیابیاں کسی عورت کے اثر سے وجود میں آئیں، بلکہ ناقابلِ تلافی بربادیاں بھی کسی نہ کسی عورت کے وجود سے جُڑی ہوئیں تھیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف کامیابی کے قصے لکھتا ہے، صرف فتوحات کے چرچے کرتا ہے۔ یہاں کوئی نہیں جو اُن شکست خوردہ چہروں کی آنکھوں میں جھانک کر سچ لکھے۔ وہ مرد، جو جذباتی طور پر ٹوٹے، جو خوابوں کی چادر اوڑھے دھوکہ کھا بیٹھے — ان کی داستانیں کوئی نہیں سننا چاہتا۔
جو گر جاتے ہیں، وہ بس بھلا دیے جاتے ہیں۔
نہ ان کے زخموں کا ذکر ہوتا ہے، نہ ان کے ٹوٹے خوابوں کی کوئی قیمت لگتی ہے۔
کیا وقت آ نہیں گیا کہ ہم کامیابی کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کی کہانیاں بھی سنیں؟
کیا ضروری نہیں کہ ہم ان مردوں کی آواز بھی سنیں جو کسی کے فریب میں آ کر برباد ہو گئے؟
کیا معاشرہ صرف کامیاب چہروں کو ہی یاد رکھے گا؟ یا کبھی وہ بھی سوچے گا کہ کچھ چہرے مسکراہٹ کے پیچھے ایک اندھیرے کا راز چھپائے ہوتے ہیں؟
آخر کب تک ہم روشنیوں کی پرستش میں ان اندھیروں کو نظرانداز کرتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں





